بغیر کسی شرعی عذر کے تحفہ واپس کرنے کا حکم
Question
بغیر کسی شرعی عذر کے تحفہ واپس کرنے کا کیا حکم ہے؟ میں نے اپنے ایک دوست کو کچھ تحائف پیش کیے، لیکن اس نے انہیں قبول کرنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے مجھے بہت دکھ ہوا۔ کیا شرعاً کسی عذر کے بغیر تحفہ لینے سے انکار کرنا اور اسے قبول نہ کرنا جائز ہے؟ اور کیا یہ نبی کریم علیہ الصلاة والسلام کی سنت کے مطابق ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ شریعتِ مطہرہ نے ایک دوسرے کو تحائف دینے کی ترغیب دی ہے؛ کیونکہ تحفے محبت پیدا کرنے اور اسے بڑھانے، لوگوں کے درمیان مودت و الفت قائم کرنے، دلوں کی کدورتیں دور کرنے اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی باہمی تحفہ دینے کی ترغیب فرمایا کرتے تھے اور تحائف قبول فرماتے تھے۔
امام بخاری نے صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اگر مجھے بکری کے اگلے پائے یا پچھلے پائے کی دعوت دی جائے تو میں اسے قبول کروں گا، اور اگر مجھے بکری کا اگلا یا پچھلا پایہ بطورِ تحفہ دیا جائے تو میں اسے بھی قبول کروں گا۔‘‘
جمہور علماء کی رائے یہ ہے کہ تحفہ قبول کرنا مستحب ہے۔ امام نووی نے شرح صحیح مسلم (7/134-135، طبع: دار إحياء التراث العربي) میں فرمایا: ’’علماء کا اس شخص کے بارے میں اختلاف ہے جس کے پاس مال یا کوئی چیز بطورِ ہدیہ آئے کہ آیا اس کے لیے اسے قبول کرنا واجب ہے یا مستحب؟ اس بارے میں تین مذاہب ہیں، اور صحیح و مشہور قول، جو جمہور علماء کا موقف ہے، یہ ہے کہ اسے قبول کرنا مستحب ہے۔‘‘
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی اس صورت میں تحفہ واپس کرنے سے منع فرمایا ہے جب اسے قبول نہ کرنے کی کوئی معقول وجہ موجود نہ ہو۔ امام احمد نے اپنی ’’مسند‘‘ میں اور ابن حبان نے اپنی ’’صحیح‘‘ میں روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’دعوت قبول کرو، تحفہ واپس نہ کرو اور مسلمانوں کو نہ مارو۔‘‘
امام احمد نے ’’مسند‘‘ میں حضرت خالد بن عدی جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہارے کسی بھائی کی طرف سے -بغیر مانگے اور بغیر اس خواہش کے کہ تمہیں کچھ ملے- کوئی بھلائی تم تک پہنچے تو اسے قبول کرلو اور واپس نہ کرو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہاری طرف بھیجا ہوا رزق ہے۔‘‘
امام ابن حبان نے ’’روضة العقلاء ونزهة الفضلاء‘‘ (ص: 242، طبع: دار الكتب العلمية) میں فرمایا: ’’نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حدیث میں مسلمانوں کے درمیان تحائف رد کرنے سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا جب کسی شخص کو تحفہ پیش کیا جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے قبول کرے اور واپس نہ کرے، پھر اگر استطاعت ہو تو اس کے بدلے تحفہ دے اور تحفہ دینے والے کا شکریہ ادا کرے۔ مجھے یہ بات پسند ہے کہ لوگ باہمی طور پر اپنے بھائیوں کو تحائف بھیجتے رہیں، کیونکہ تحفہ محبت پیدا کرتا ہے اور دلوں کی کدورت دور کرتا ہے۔‘‘
لہٰذا اس بنا پر تحفہ قبول کرنا مستحب ہے، اور کسی شرعی عذر کے بغیر اسے واپس کرنا مکروہ ہے۔ البتہ اگر کسی شرعی عذر کی بنا پر کوئی شخص تحفہ قبول نہ کرسکے تو بہتر ہے کہ وہ تحفہ پیش کرنے والے کو اپنی معذوری سے آگاہ کردے، تاکہ اس کا دل آزردہ نہ ہو اور اس کی دل شکنی کا ازالہ ہوسکے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
