فوت شدہ نمازوں کی قضا

Egypt's Dar Al-Ifta

فوت شدہ نمازوں کی قضا

Question

سال ٢٠٠٤ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پر مشتمل ہے:

سوال اس شخص کے بارے میں ہے جو اپنی استطاعت کے مطابق فرض اور سنت نمازوں کا پابند ہے لیکن قبل ازیں ان سے ایک طویل مدت یعنی تقریبا دس سال تک بہت ساری نمازیں اور فرائض فوت ہوچکے ہیں.

Answer

بابرکت اسمائے گرامی اور بلند و بالا صفات والے الله نے اپنے بندوں کے واسطے قوانین بنائے جن کا تقاضا ہے کہ انسان اور اس کے رب عز و جل کے درمیان رابطہ اور قرب پیدا ہو،پانچ نمازیں بھی انہی شرعی قوانین میں سے ہیں جو پیارے مصطفی صلوات اللہ و تسلیماتہ علیہ و آلہ - پر معراج کی رات فرض کی گئیں، اللہ تعالی نماز کی فرضیت اور اس کی پابندی پر زور دیتے ہوئے قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: (وَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ وَآتُواْ الزَّكَاةَ وَارْكَعُواْ مَعَ الرَّاكِعِينَ) - اور نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو - (البقرۃ: ٤٣). اور فرمایا: (حَافِظُواْ عَلَى الصَّلَوَاتِ والصَّلاَةِ الْوُسْطَى وَقُومُواْ لِلّهِ قَانِتِينَ) - نگہبانی کرو سب نمازوں کی اور بیچ کی نماز کی اور کھڑے ہو اللہ کے حضور ادب سے - (البقرۃ: ٢٣٨). نیز فرمایا: (وَالَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلَوَاتِهِمْ يُحَافِظُونَ) - اور وہ جو اپنی نمازوں کی نگہبانی کرتے ہیں- (المومنون: ٩). اور فرمایا: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاء وَالْمُنكَرِ) - اور نماز قائم فرماؤ، بیشک نماز منع کرتی ہے بے حیائی اور بری بات سے - ( العنکبوت: ٤٥). یہی نہیں بلکہ اللہ تعالی نے ان کے اوقات بھی مقرر فرمادئے چنانچہ فرمایا: (فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلاَةَ فَاذْكُرُواْ اللّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِكُمْ فَإِذَا اطْمَأْنَنتُمْ فَأَقِيمُواْ الصَّلاَةَ إِنَّ الصَّلاَةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَّوْقُوتًا) - پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو الله کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے، پھر جب مطمئن ہو جاؤ تو حسب دستور نماز قائم کرو بیشک نماز مسلمانوں پر وقت باندھا ہوا فرض ہے - (النساء: ١٠٣). اس کے علاوہ ہمارے آقا جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ''جو شخص کسی نماز سے سويا رہا یا اسے بھول گیا تو اس کی یاد آتے ہی اسے پڑھ لے اس کے علاوہ اس کا اور کوئی کفارہ نہیں ہے''. پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالی کے اس کلام کی تلاوت فرمائی: (وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِي) - اور میری یاد کےلیے نماز قائم رکھئے - (طہ: ١٤). مسلمان پراپنی استطاعت کے مطابق نماز کی پابندی کرنا اور اسے مقررہ وقت میں ادا کرنا واجب ہے، اگر وہ کسی نماز کو بھول جائے یا اس سے سوجائے تویاد آتے ہی اسے ادا کر لے، اگر انسان نے لمبی مدت تک نماز چھوڑ دی ہو جیسا کہ سوال میں گذرا ہے تو ان کو فوت شدہ نمازوں کی قضا کرنی چاہئے اس کا طریقہ یہ ہوسکتا ہے کہ ہر حاضر فرض نماز کے ساتھ فوت شدہ فرض نماز ادا کرتا چلے،نيز اللہ تعالی ہی اپنی مخلوق کے اسرار سے واقف ہے.

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas