زکوۃ کے اموال سے مسجدوں کی تعمیر و ...

Egypt's Dar Al-Ifta

زکوۃ کے اموال سے مسجدوں کی تعمیر و ترمیم

Question

ابت سال ٢٠٠٥ء ڈاک سے وارد استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو مندرجہ ذیل سوال پر مشتمل ہے:

ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے جو دسيوں سال پہلے تعمیر کی گئی تھی اور اب گرنے کے قریب ہو گئی ہے، اور مسجد کی دیوارں میں جگہ جگہ شگاف اور دراڑیں پڑ چکی ہیں جو آئندہ کسی المناک واقعے کا سبب بن سکتی ہیں، ماہرین کی رائے کے مطابق اس مسجد کو گرا کر دوبارہ تعمیر کرنا ضروری ہے، لہذا ہم نے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے، مگر مسجد بنانے کے لئے جتنی بڑی رقم کی ضرورت ہے اس کے مقابلے میں حاصل شدہ پیسے بہت ہی کم ہیں.
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس مسجد کی تعمیر نو کے لئے گاؤں کے کسانوں سے زکوۃ حاصل کی جا سکتی ہے، واضح رہے کہ یہ مسجد گاؤں کی قریب ترین مسجد سے تقریبا پانچ سو میٹر کے فاصلے کی دوری پر واقع ہے جس میں جانے سے بوڑھوں کو مشقت ہوتی ہے خاص کر فجر کی نماز اور بارش وغیرہ کے حالت میں بہت مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ۔ .

Answer

علمائے کرام کے نزدیک یہ طے شدہ مسئلہ ہے کہ مال میں زکوۃ کے علاوہ اور بھی حقوق ہوتے ہیں اور انہی حقوق میں مطلق خیرات ، صدقہ جاریہ اور وقف بھی شامل ہيں ، اللہ تعالی فرماتا ہے: (و فی اموالھم حق للسائل والمحروم) - اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور محروم افراد کا حق ہے- [سورہ ذاریات: ١٩] ۔
فرض زکاۃ کے بارے میں اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : (وَالَّذِينَ فِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ مَّعْلُومٌ لِّلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ)- اور وہ لوگ جن کے مالوں میں کچھ مقرر حق ہے، مانگنے والے کے لئے اور نہ مانگنے والے کے لئے-[سورہ معارج ٢٤۔٢٥] ، اور ظاہر ہے کہ یہ سب انہی نیک کاموں کے جز ہيں اور ان پر عمل کرنا مسلمان کا فریضہ ہے بلکہ مسلمان کے رکوع ، سجود اور پروردگار کی عبادت اس کے بغیر ناتمام رہتی ہیں ۔
اللہ سبحانہ و تعالیٰ فرماتے ہیں : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ارْكَعُوا وَاسْجُدُوا وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ)- اے ایمان والو! تم رکوع کرو اور سجدے کرو اور اپنے پروردگار کی عبادت کرو اور نیک کام کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ- [سورہ حج ٧٧].
آپ صلى الله عليه و سلم نے ارشاد فرمایا: ''صدقہ گناہ کو ایسے بجھا دیتا ہے جیسے پانی آگ کو بجھاتی ہے''. زکوۃ فرض ہے اور اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے ۔ اس کے مصارف کو سورہ توبہ میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے : (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ(- بے شک زکوۃ محض محتاجوں اور نرے ناداروں اور جو اسے جمع کر کے لائیں اور جن کے دلوں کو اسلام سے الفت دی جائے اور گردنیں چھوڑانے میں اور قرضداروں کو اور اللہ کی راہ میں اور مسافر کے لیے ہے ، یہ ٹھہرایا ہوا ہے اللہ کا، اور اللہ علم و حکمت والا ہے-[سورہ توبہ ٦٠].
زکوۃ کے ان آٹھوں مصارف میں مسجد کا تذکرہ نہیں ہوا ہے، لہذا اس سے معلوم ہوا کہ زکوۃ کے مصارف میں صرف انسان ہیں، انسان کی اہمیت در و دیوار سے زیادہ ہے اور (عمارت) پر فوقیت رکھتی ہے یعنی پہلے ساجد پھر مسجد.
لہذا زکوۃ کی رقم سے سوال ميں مذكور مسجد کی تعمیر درست نہیں، ہاں یہ تعمیر صدقات و خیرات سے کی جا سکتی ہے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مسجد میں نماز قائم کرنے کے لیے اور بوڑھے اور ان جیسے دیگر معذورین کی رعایت کے خاطر جتنی چھوٹی سے چھوٹی مسجد ہو سکے فی الحال تعمیر کر لی جائے اور اسی پر اکتفا کیا جائے کیونکہ یہ لوگ دور والی مسجد میں نہیں جا سکتے اور انہیں مشقت ہوتی ہے پهر جوں جوں چندہ دہندگان سے چندے اکٹھا ہوتے جائیں توں توں حسب ضرورت مسجد میں توسیع بھی ہوتی رہے ، اس طرح سے دونوں مقصد حاصل ہو جائیں گے.
مسجد کی عظمت عمارتوں اور پتھروں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ ان لوگوں سے جو ان مسجدوں میں آتے ہیں، اللہ تعالی ارشاد فرماتے ہیں : (فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ه رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ه لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاء بِغَيْرِ حِسَابٍ) - ان گھروں میں جنہیں بلند کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے اور ان میں اس کا نام لیا جاتا ہے، اور صبح و شام وہاں اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں وہ مرد ہیں ، کوئی سودا اور کوئی خرید و فروخت انہیں اللہ کی یاد سے اور نماز قائم رکھنے سے اور زکوۃ دینے سے غافل نہیں کرتى ، ڈرتے ہیں اس دن سے جس میں دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گے ، تاکہ اللہ انہیں بدلہ دے ان کے سب سے بہتر کام اور اپنے فضل سے انہیں انعام زیادہ دے اور اللہ روزی دیتا ہے جسے چاہے بے گنتی[سورہ نور: ٣٦،٣٧،٣٨]
مسجد ميں بار بار جانے والوں کے بارے میں حضور صلى الله عليه و سلم نے ارشاد فرمایا ہے: ''سات لوگ ایسے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس دن اپنے سائے میں رکھے گا جس دن کوئی سایہ نہیں ہوگا مگر صرف اسی کا سایہ: ....... الخ. اور وہ آدمی جس کا دل مسجدوں میں لگا رہتا ہے...الخ''. یہ حدیث متفق علیہ ہے.

و اللہ سبحانہ و تعالی اعلم.
 

Share this:

Related Fatwas