بچوں کا نان و نفقہ کس پر ہے؟

Egypt's Dar Al-Ifta

بچوں کا نان و نفقہ کس پر ہے؟

Question

سال ٢٠٠٦ ء مندرج استفتا سے ہم آگاہ ہوئے، جو حسب ذیل سوال پر مشتمل ہے:

اگر باپ پنشن لے رہا ہو اور اسکا بیٹا ابھی تعلیمی مرحلے ہی میں ہو، تو کیا اسکا خرچہ باپ کو دینا ہے یا اسکے بڑے بیٹے کو جو ابھی کنبے کی پرورش کرنے کی وجہ سے فوجی خدمت بھی انجام نہیں دے سکا ہے؟ نیز کیا باپ پر اپنی بے روزگار بالغ بیٹی کا خرچہ واجب ہے؟.

Answer

فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ سگے بیٹے کا خرچہ باپ پر واجب ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے: (وَعلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ) - اور لڑکے والے پر انکا کھانا اور پہننا حسب دستور واجب ہے – [سوره بقرة: 233]، اور اس آیت مبارکہ میں'' المولود لہ ۔ لڑکے والا۔ سے مراد باپ ہے. جب اللہ تعالی نے بچے کی وجہ سے عورتوں کا خرچہ باپ پر رکھا ہے تو خود بچے کا خرچہ بدرجہ اولیٰ اس پر واجب ہونا چاہئے . اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں بھی اس کی دلیل موجود ہے امام بخاری اور دیگر محدثین نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کی بیوی ہند کو فرمایا: ''جو تمہیں اور تمہارے بچے کے لئے حسب دستور کافی ہو اتنا لے لیا کرو''. اگر بچے کا خرچہ باپ پر واجب نہ ہوتا تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے ابو سفیان کے مال سے لینا مباح نہ فرماتے، کیو نکہ ناحق کسی مسلمان کا مال لینا حرام ہے.

باپ پر بچوں کے اخراجات واجب ہونے کی شرط یہ ہے کہ باپ خوشحال ہو، یا اتنا کمانے کی طاقت رکھتا ہو جو اسکے اپنے خرچے سے زائد ہو، اور باپ پر سے یہ خرچہ اس وقت تک ساقط نہیں ہوگا جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ لا چار ہے اور خود اسکا اپنا خرچہ اصول و فروع میں سے کسی رشتہ دار کے ذمے ہو گیا ہو. یہ ثابت ہونے کی صورت میں ہی باپ کے ذمے سے بیٹے کا خرچہ ساقط ہو گا اور وہ اس حکم میں کالعدم سمجھا جائیگا. کیونکہ یہ ممکن ہى نہیں کہ اس صورت ميں دوسرے کا خرچہ واجب ہو جب خود اپنا خرچہ دوسروں سے لے رہا ہو.

اسی وجہ سے باپ پر بچے کے اخراجات کے وجوب کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ بچے کے خرچے میں باپ کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں ہو گا ، کیونکہ بچہ اسی کی طرف منسوب ہوتا ہے اور اس کے وجود کا ایک حصہ ہوتا ہے. اسلئے بچے کے اخراجات باپ سے کبھی ساقط نہیں ہو ں گے اور بچے کو زندہ رکھنا اس کا فریضہ ہے جو صرف عاجز ہونے کی حالت میں ساقط ہوگا.

اگر باپ تنگ دست ہو یا بے روزگار ہو تو ان رشتہ داروں کو بچے پر خرچ کرنے کا حکم دیا جاے گا، جو باپ کی عدم موجودگی میں خرچ کرنے کے مکلف ہیں، مثلا دادا، بھائی، چچا اور ان دونوں کے بیٹے، لیکن ان کا خرچہ باپ کے ذمے قرضہ رہیگا اور خوش حالی کے بعد واپس لوٹانا ہو گا.

اولاد کے اخراجات باپ پر اس وقت عائد ہوتے ہیں جب وہ تنگ دست ہوں اور غریب ہوں یا بے روزگار ہوں. اس كے بر عكس اگر کما سکتے ہوں تو ان کے اخراجات باپ پر واجب نہیں ہوتے . دور حاضر کے ہمارے سماج کے وہ طلبہ جو ابھی تعلیمی مراحل میں ہوتے ہیں،اور مستقبل میں کمانے کی غرض سے تعلیم پا رہے ہوتے ہیں تو وہ تعلیم میں مشغول رہنے کی وجہ سے کمانے سے عاجز سمجھے جائیں گے.

فتوی اور عدالت کی رو سے نان نفقہ رشتہ داروں پر ہے اور ''حواشی'' درج ذیل رشتہ دار کہلاتے ہیں جیسے بھائی، بہنیں اور انکی اولاد. ماموں، خالہ، چاچے، پھوپھیاں، یعنی ہر وہ رشتہ دار جن کا رشتہ قابل حرمت ہے. اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے :( وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ) - اور وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے۔ [سورہ بقرہ: ٢٣٣]۔ حضرت ابن مسعود کی ایک شاذ قراء ت میں آیا ہے (و علی الوارث ذی الرحم المحرم مثل ذلک) - اور ذی رحم وارث پر بھی اسی جیسی ذمہ داری ہے -. اور یہی احناف کا مذہب ہے بشرطیکہ کہ وہ خوشحال ہوں، صرف کمانے کی طاقت رکھنا اس میں کافی نہیں ہے. کیونکہ رشتہ داروں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری صلہ رحمی کی ایک صورت ہے. اور صلہء رحمی خوشحالوں کا حصہ ہے نہ کہ تنگدستوں کا. اور انکے یہاں یہ بھی شرط ہے کہ یہ نفقہ قاضی کے حکم سے ثابت ہو. بدائع الصنائع میں لکھا ہے:'' تیسرا:منفق علیہ یعنی جس پر خرچ کیا جائے کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ نان نفقہ کی دو قسموں میں سے ایک قسم یہ ہے کہ اس نفقہ کا مطالبہ ہوا ہو اور اس میں خصومت واقع ہوئی ہو اور قاضی کے سامنے مقدمہ پیش ہو، یہی غیر اولاد کے نفقہ کی قسم ہے. اور یہ نفقہ بغیر قاضی کے فیصلے کے واجب نہیں ہوتا. اور قاضی کی ضرورت تو اسی وقت ہوتی ہے جب مطالبہ اور خصومت پائے جائيں''.

اس بنا پر اور سوال کی حالت کو مد نظر رکھتے ہوئے تعلیمی مراحل میں سرگرداں لڑکے اور بے روزگار بالغ لڑکی کا خرچہ باپ پر واجب ہے کیونکہ باپ پنشن لے رہا ہے بشرطیکہ اس کی پنشن انکے خرچے کے لئے کافی ہو. اور اگر باپ کا وظیفہ صرف کچھ اخراجات کو کافی ہو تو جتنا خرچ کر سکتا ہے کرے اور باقی اسکا بڑا بیٹا پورا کرے اگر اسکے امکان میں ہو.
اگر باپ کی پنشن اس خرچے کے لیے کافی نہ ہو تو اس کا بڑا بیٹا ان اخراجات کو برداشت کرے گا اگر اس سے ممکن ہو، اور دونوں حالتوں میں باپ کو خوشحالى كى صورت ميں بڑے بیٹے کی صرف کردہ رقم واپس لوٹانا ہے.

باقی اللہ تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas