اخراجاتِ جنازہ کے چیک کا حکم

Egypt's Dar Al-Ifta

اخراجاتِ جنازہ کے چیک کا حکم

Question

سوشل انشورنس نے اخراجاتِ جنازہ نامی بیوی کے نام چیک میں کچھ رقم دی ہے ، تو کیا یہ رقم صرف بیوی کیلئے ہے یا کہ اسے ترکہ میں شمار کیا جائے گا اور ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا ؟ اور مذکورہ ورثاء میں سے ہر وارث کا حصہ کیا ہو گا ؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔
اما بعد:1- سوشل انشورنس سے جنازہ کے اخراجات وغیرہ کیلئے جو مال آتا ہے وہ صرف اسی کا حق ہوتا ہے جس کے نام سے آتا ہے، اسے میراث میں شامل نہیں کیا جائے گا۔ پس اس طرح کا مال متوفی کا ترکہ شمار نہیں ہوتا ، نہ ہی اسے میراث کے ساتھ تقسیم کیا جائے گا۔ بلکہ جس نے مال دیا ہے اس حکم کے مطابق اسے تقسیم کیا تقسیم کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ دینے والے کی طرف سے عطیہ اور تبرع ہے اور متبرع جس کو چاہے اپنا مال دے سکتا ہے۔
اس بنا پر سوشل انشورنس سے جنازہ کے اخراجات وغیرہ والا چیک صرف بیوی کا حق ہے جس کے نام سے یہ چیک آیا ہے ، اس میں میں دوسرا وارث شریک نہیں ہوگا۔
2- متوفی کے ورثاء میں سے بیوی کو آٹھواں حصہ ملے گا کیونکہ متوفی کی اولاد موجود ہے، اور اس کے بعد باقی " ترکہ " بیٹوں اور بیٹیوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے گا کہ بیٹی کے مقابلے میں بیٹے کو دوگنا ملے ۔ کیونکہ یہ عصبہ ہیں اور اب کوئی صاحبِ حق بھی باقی نہیں ہے۔

واللہ سبحانه وتعالى اعلم بالصواب۔

 

 

Share this:

Related Fatwas