ضم القدمين في السجود سجدے کی حالت م...

Egypt's Dar Al-Iftaa

ضم القدمين في السجود سجدے کی حالت میں قدموں کو ملانا

Question

  سجدے کی حالت میں قدموں کو آپس میں ملانے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! سجدے کی حالت میں قدموں کو آپس میں ملانا خلافِ افضل ہے، نمازی کیلئے مستحب یہی ہے کہ سجدے کے دوران اپنے دونوں قدموں کو الگ الگ رکھے، ان کو آپس میں نہ ملائے؛ امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام شافعی اور اصحاب نے فرمایا ہے: سجدہ کرنے والے کیلئے مستحب یہ ہے کہ اپنے گھٹنوں اور قدموں کے درمیان فاصلہ رکھے، قاضی ابو طیب اس پر تعلیق لگاتے ہوئے لکھتے ہیں: ہمارے اصحاب نے فرمایا ہے: قدموں کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ ہو،اور سنت یہ ہے کہ قدموں کو نیچے لگا کر رکھے، اور نمازی کے پاؤں کی انگلیاں قبلہ کی سمت ہوں، اور یہ قبلہ سمت تبھی ہوں گی جب ان پر وزن ہو اور ان کے درمیانی حصے نیچے لگے ہوں۔
امام الحرمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ظاہرِ نص یہ کہتی ہے کہ نمازی سجدے کے دوران اپنی اپنے پاؤں کی انگلیوں کو زمین پر رکھے۔( )
مناسب یہی ہے کہ یہ مسئلہ لوگوں کے درمیان اختلاف کا باعث نہ بنے؛ کیونکہ اس مسئلہ میں وسعت ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم۔
 

Share this:

Related Fatwas