اجنبی عورت سے شادی کرنا

Egypt's Dar Al-Ifta

اجنبی عورت سے شادی کرنا

Question

 اجنبی عورت سے شادی کرنے کا کیا حکم ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! شادی کرنا اللہ تعالی کی مخلوق میں اس کے قوانین میں سے ایک قانون ہے؛ اللہ تعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ [النساء: 1] یعنی: اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے پیدا فرمایا تمہیں ایک جان سے اور پیدا فرمایا اسی سے جوڑا اس کا اور پھیلا دیئے ان دونوں سے مرد کثیر تعداد میں اور عورتیں (کثیر تعداد میں) اور ڈرو اللہ تعالی سے وہ اللہ مانگتے تم ایک دوسرے سے (اپنے حقوق) جس کے واسطے سے اور (ڈرو) رحموں (کے قطع کرنے) سے بے شک اللہ تعالی تم پر ہر وقت نگران ہے۔'' اور اللہ تعالى نے فرمایا: ﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ﴾ [الروم: 21] یعنی: اسکی (قدرت کی) ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے پیدا فرمائیں تمہارے لئے تمہاری جنس سے بیویاں تاکہ تم سکون حاصل کرو ان سے اور پیدا فرما دیئے تمہارے درمیان محبت اور رحمت (کے جذبات) بے شک اس میں بہت نشانیاں ہیں ان لوگوں کیلئے جو غور وفکر کرتے ہیں۔'' اور اللهُ تعالى نے مسلمان مردوں کیلئے مشرک عورتوں سے شادی کرنا حرام قرار دیا ہے، اور اسی طرح مسلمان عورتوں کیلئے بھی مشرک مردوں سے شادی کرنا حرام قرار دیا ہے، اور اللہ تعالی نے مسلمان مردوں کو مسلمان عوتوں سے شادی کرنے کی ترغیب دی ہے، ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ﴾ ] البقرة: 221 [یعنی: اور نہ نکاح کرو ان مشرک عورتوں کے ساتھ یہاں تک کہ وہ ایمان لے آئیں اور بے شک مسلمان لونڈی بہتر ہے ا(ٓزاد) مشرک عورت سے اگرچہ وہ بہت پسند آۓ تمہیں۔ اور نہ نکاح کر دیا کرو (اپنی عورتوں کا) مشرکوں سے یہاں تک کہ وہ ایمان لائیں اور بے شک مومن غلام غلام بہتر ہے (آزاد) مشرک سے، اگرچہ وہ پسند آۓ تمہیں وہ لوگ تو بلاتے ہیں دوزخ کی طرف اور اللہ تعالی بلاتا ہے جنت اور مغفرت کی طرف اپنی توفیق سے اور کھول کر بیان کرتا ہے اللہ تعالی اپنے حکم لوگوں کیلئے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔''
سيدنا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم نے بھی ہمیں دیندار عورتوں سے شادی کرنے اور انہیں دوسری عورتوں پر مقدم کرنے کی ترغیب دی ہے؛ نبی اکرم ﷺ نے کا ارشادِ گرامی قدر ہے: '' تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ لِأَرْبَعٍ: لِمَالِهَا، وَلِحَسَبِهَا، وَلِجَمَالِهَا، وَلِدِينِهَا، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ '' متفق عليه من حديث أبي هريرة رضي الله عنه۔ یعنی: عورت کے ساتھ چار چیزوں کی وجہ سے شادی کی جاۓ: اس کے مال کی وجہ سے، اس کے حسب کی وجہ سے، اس کے جمال کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر ، اگر ایسا نہ کرے گا تو تیرے ہاتھ خاک آلود ہونگے ( یعنی اخیر میں تجھے شرمندگی ہو گی) اسلام نے مسلمان مرد کو غیر مسلم عورتوں سے شادی کرنا کی اجازت دی ہے بشرطیکہ وہ عورت اہل کتاب میں سے ہو یعنی یہودی ہو یا عیسائی ہو؛ اللہ تبارک وتعالی کا ارشادِ گرامی ہے: ﴿الْيَوْمَ أُحِلَّ لَكُمُ الطَّيِّبَاتُ وَطَعَامُ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ حِلٌّ لَكُمْ وَطَعَامُكُمْ حِلٌّ لَهُمْ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ إِذَا آتَيْتُمُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ وَلَا مُتَّخِذِي أَخْدَانٍ وَمَنْ يَكْفُرْ بِالْإِيمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴾ [المائدة: 5] یعنی: آج سے حلال کردی گئی ہیں پاکیزہ چیزیں اور کھانا ان لوگوں کا جنہیں دی گئی کتاب حلال ہے تمہارے لیے اور تمہارا کھانا ان کیلئے اور (حلال ہیں) پاک دامن مومن عورتیں اور پاک دامن عورتیں ان لوگوں کی جنہیں دی گئی کتاب تم سے پہلے جب دے دو تم انہیں مہر ان کے پاکباز بنتے ہوۓ نہ کہ بدکاری کرتے ہوۓ اور نہ چوری چھپے آشنا بناتے ہوۓ اور جو انکار کرتا ہے ایمان کا تو بس ضائع ہوگیا اس کا عمل اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں سے ہوگا۔''
اور اولاد والدین میں سے بہتر دین والے کے تابع ہوگی، اور مسلمان مرد کیلئے مسلمان عورت یا کتابی عورت کے علاوہ کسی سے بھی شادی کرنا جائز نہیں ہے۔
مذکورہ سوال میں: اگر اجنبی عورت سے مراد غیر مسلم اور غیر کتابی عورت ہے تو اس کے ساتھ سادی کرنا جائز نہیں ہے اور اگر اس سے مراد غیر ملکی مسلم یا کتابی عورت ہے تو اس کے ساتھ شادی کرنا جائز ہے۔


والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas