بیٹیوں کے علاوہ صرف بیٹے کے حق میں ...

Egypt's Dar Al-Ifta

بیٹیوں کے علاوہ صرف بیٹے کے حق میں حقِ استعمال سے دستبردار ہونا

Question

 میری عمر ساٹھ سال ہونے کو ہے، میں نے اپنی بڑی بیٹی پر کافی خرچ کیا یہاں تک کہ اب وہ یونیورسٹی میں پڑھا رہی ہے، اسے میں نے کچھ پیسے بھی دیے تاکہ شادی میں اس کی مدد ہو سکے، میرا ایک بیٹا ایف اے میں پڑھتا ہے اور بیٹی مڈل میں پڑھتی ہے، میرے پاس اب اس قدر استطاعت نہیں ہے کہ ان دونوں پر بھی اس قدر خرچ کر سکوں جتنا بڑی بیٹی پر کیا تھا، اس وجہ مجھے احساس ہوتا ہے کہ ان کو اس کے عوض کچھ دوں خصوصاً بیٹے کو، میرے پاس چھوٹا سا ایک سرکاری گھر ہے، جسے استعمال کر حق مجھے دیا گیا ہے، تو کیا میں اپنے بیٹے کے حق میں اس گھر کے حقِ استعمال سے دستبردار ہو سکتی ہوں؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! جب انسان عاقل اور بالغ اور صحب اختیار اور محجور نہ ہو اور نہ ہی مرض موت میں تو تو وہ اپنے مال میں اپنی مصلحت کے مطابق جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے، پھر جب تصرف کرنے کے بعد وہ فوت ہو گیا تو یہ تصرفات شرعا عقودِ صحیحہ ہوں گے، نافذ ہونگے اور انہیں پر عمل کیا جاۓ گا، چاہے یہ تصرفات ھبہ کی شکل میں ہوں، یا دست برداری کی شکل میں ہوں یا بیع کی شکل میں ہوں یا کسی اور عقد کی شکل میں۔ پھر یہ اشیاء ترکہ کے ضمن میں داخل نہیں ہوں گی، بلکہ صرٖف اسی شخص کی ملکیت ہوں گی جس کے لئے لکھی گئی ہیں، ان میں اس شخص کے علاوہ باقی ورثاء میں سے کوئی بھی شریک نہیں ہو گا، اور نہ ہی انہیں ان ااشیاء میں سے کسی شیئ پر حقِ مطالبہ ہو گا۔ کبھی کبھی شرعا قابلِ اعتبار علت کی وجہ سے باقی ورثاء کے علاوہ کسی ایک کے لئے زائد شیئ خاص کر دی جاتی ہے؛ جیسے کسی ضرورت، بیماری، مصیبت یا کثرتِ عیال کی صورتوں داد رسی کے طور پر یا چھوٹے بچوں کے حق کی ضمانت کیلئے یا نیکی اور احسان کا بدلہ دینے کیلئے یا زیادہ محبت کی وجہ سے یا تعلیم یا شادی کے اخراجات میں مدد کرنے کی غرض سے وغیرہ وغیرہ، اس سے انسان گناہ اور ظلم وزیادتی کا مرتکب نہیں ہو گا؛ کیونکہ تفضیل کی علت پائی جارہی ہے، اور بعض صحابۂ کرام - رضوان اللہ علیھم اجمعین - کا ایک وارث پر دوسرے کو جو فضیلت دینا مروی ہے اس میں بھی یہی علت مانی جاۓ گی؛ جیسا کہ امیر المومنین سیدنا ابو بکر الصدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور ام المومنین سیدہ عائشہ الصدیقہ رض اللہ تعالی عنھما سے ان کے علاوہ دیگر صحابۂ کرام - رضوان اللہ علیھم اجمعین – سے مروی ہے، اس سے یہ بات بھی سمجھ آ رہی ہے کہ جمہور علماء اسلام - رحمھم اللہ – نے انسان کا اپنی اولاد کو عطیہ کرنے میں ان کے درمیان مساوات کو واجب کی بجاۓ مستحب کیوں کہا ہے۔
اس بناء پر مذکورہ سوال کے جواب میں ہم کہیں گے کہ آپ کے لئے جائز ہے کہ آپ اپنے بیٹے کے حق میں اپنے حق استعمال سے دستبردار ہو جائیں، بلکہ یہ اس عدل کے قبیل سے ہو گا کہ اپنی اولاد کو عطیات دینے میں جسے اپنانا اور جس کی اتباع کرنا شرعا مطلوب ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas