شریعتِ اسلامیہ میں حمل کی کم از کم ...

Egypt's Dar Al-Ifta

شریعتِ اسلامیہ میں حمل کی کم از کم مدت

Question

 شریعتِ اسلامیہ میں حمل کی کم از کم مدت کیا ہے؟

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آلہ وصحبہ و من والاہ۔ وبعد: اس بات میں شریعتِ اسلامیہ کے فقہاء کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے؛ اور انہوں نے یہ حکم قرآنِ حکیم کی دو آیتوں سے اخذ کیا ہے
پہلی آیتِ کریمہ: اللہ تعالى کا فرمان ہے : ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ إِحْسَانًا حَمَلَتْهُ أُمُّهُ كُرْهًا وَوَضَعَتْهُ كُرْهًا وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلَاثُونَ شَهْرًا﴾ [الأحقاف: 15]. یعنی: اور ہم نے حکم دیا ہے انسان کو کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرے، (اپنے شکم میں) اٹھاۓ رکھا اس کو اس کی ماں نے بڑی مشقت سے اور جنا اس کو بڑی تکلیف سے اور اس کے حمل اور اس کے دودھ چھڑانے میں تیس مہینے لگ گئے''۔
اور دوسری آیتِ کریمہ اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَنْ يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ﴾ [البقرة: 233]. یعنی: اور مائیں دودھ پلاتی ہیں اپنی اولاد کو پورے دو سال، (یہ مدت) اس کیلئے ہے جو پوری کرنا چاہتا ہے دودھ کی مدت''۔
وجہ استدلال: اللہ تعالی نے مکمل دودھ پلانے کی مدت دو سال یعنی چوبیس مہینے بنائی ہے جیسا کہ پہلی آیتِ کریمہ میں ہے اور حمل اور دودھ پلانے کی مدت تیس مہینے بنائی ہے، جیسا کہ دوسری آیتِ کریمہ میں ہے، دونوں آتوں کو جمع کرنے سے پتا چلتا ہے کہ حمل کی کم از کم مدت چھ مہینے ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.


 

Share this:

Related Fatwas