عددِ رضاعت میں شک ہونے کے باوجود شا...

Egypt's Dar Al-Ifta

عددِ رضاعت میں شک ہونے کے باوجود شادی کرنا

Question

میری بہن میرے چچا زاد کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے، اور میرے بھائی نے اس چچا زاد کے ساتھ دودھ پیا ہے مگر یہ نہیں معلوم کہ کتنی بار پیا ہے: پانچ مرتبہ سے کم پیا ہے یا زیادہ، تو کیا میری بہن کیلئے اس لڑکے سے شادی کرنا جائز ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آله وصحبه و من والاه۔ وبعد: اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے بھائی نے اپنے چچا زاد کے ساتھ اسی چچا کی کسی بیوی کا یا کسی اور عورت کا دودھ پیا ہے تو آپ کی بہن کیلئے آپ کے اس چچا زاد سے شادی کرنا جائز ہے، دودھ چاہے تھوڑا پیا ہو یا زیادہ؛ کیونکہ رضاعی بھائی کی بہن رضاعی بہن نہیں ہوتی۔
اگر آپ کا مقصد یہ ہے کہ آپ کے چچا زاد نے آپ کے بھائی کے ساتھ آپ کی ماں کا دودھ پیا ہے تو اس کیلئے آپ کی بہن سے شادی کرنا جائز نہیں ہے، بشرطیکہ رضاعت کے دو سال کے اندر کم از کم پانچ بار سیر ہو کر دودھ پیا ہو؛ کیونکہ اس صورت میں وہ آپ کی بہن کا رضاعی بھائی بن چکا ہے، اور اگر یہ معلوم نہ سکے کہ دودھ پینے کا عدد پانچ بار کو پہنچا ہے یا نہیں تو شافعی اور حنبلی فقہاءِ عظام کے نزدیک یہ شادی جائز ہے کیونکہ وہ اس بات کے قائل ہیں کہ پانچ سے کم مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت نہیں ہوتی، تو جب پانچ بار دودھ پینا مشکوک ہو گیا تو یقین – نکاح کا حلال ہونا- شک کے ذریعے زائل نہیں ہو سکتا۔ اس میں عمومِ بلوی کی وجہ سے اسی قول پر فتوی ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

Share this:

Related Fatwas