الله تعالى کی اپنے بندے سے محبت کرن...

Egypt's Dar Al-Ifta

الله تعالى کی اپنے بندے سے محبت کرنے کی علامات

Question

 الله تعالى کی اپنے بندے سے محبت کرنے کی علامات کیا ہیں؟

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی سيدنا رسول اللہ وعلى آله وصحبه و من والاه۔ وبعد: الله تعالى کی اپنے بندے سے محبت کرنے کی علامات بہت زیادہ ہیں ان میں سے چند درج ذیل ہیں:
1- انسان کیلئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم کی اتباع اور آپ ﷺ کی سنتِ طیبہ کی اقتداء کرنا آسان ہو جاۓ۔
2- مسلمان کا اپنے مومن بھائیوں کے لئے رحم اور انکساری کرنے لگے اور غیر مسلموں کے ساتھ تعامل میں اعلی ظرفی سے متصف جاۓ۔
3- اولیاء اللہ میں سے کسی ایک کے بارے دل میں بھی کسی بھی قسم کی عداوت یا کراہیت دل میں نہ ہو، اور ان اولیاء اللہ میں سے کچھ ولی پوشیدہ بھی ہوتے ہیں جن کے بارے میں لوگ نہیں جانتے، اس لئے مومن کو دوسروں کی بجاۓ اپنے عیب نظر آتے ہیں پس اللہ تعالی ہی ان کے بارے میں بہتر جاننے والا ہے۔
4- اسے فرائض کی ادائیگی اور کثرتِ نوافل کی اس قدر توفیق مل جاۓ کہ تسبیح اور تقدیسِ الٰہی اس پر غالب رہے، اس کا دل، ہاتھ، زبان اور اس کے سارے اعضاء پر ایمانی حکمتیں اور اصلاحی ثمرات جاری ہو جائیں۔
5- اللہ تعالی کی اس سے محبت کے نتیجے طور پر اور فرشتوں اور اہل آسمان کی اس سے محبت کے نتیجے میں لوگوں کے دلوں میں اس کی قبولیت پیدا کر جاۓ؛ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے فرمایا: «إِذَا أَحَبَّ اللهُ العَبْدَ نَادَى جِبْرِيلَ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلانًا فَأَحْبِبْهُ، فَيُحِبُّهُ جِبْرِيلُ، فَيُنَادِي جِبْرِيلُ فِي أَهْلِ السَّمَاءِ: إِنَّ اللهَ يُحِبُّ فُلانًا فَأَحِبُّوهُ، فَيُحِبُّهُ أَهْلُ السَّمَاءِ، ثُمَّ يُوضَعُ لَهُ القَبُولُ فِي الْأَرْضِ» رواه البخاري. یعنی: جب اللہ تعالی اپنے بندے سے محبت کرتا ہے تو جبریل کو ندا دے کر فرماتا: بیشک اللہ فلان سے محبت کرتا ہے تو بھی اس سے محبت کر، تو سیدنا جبریل علیہ السلام بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر جبریل علیہ السلام اہل آسمان میں ندا دیتے ہیں: بیشک اللہ فلان سے محبت کرتا ہے تم بھی اس سے محبت کرو تو اہل آسمان بھی اس سے محبت کرنے لگ جاتے ہیں، پھر (اہل) زمین (کے دلوں) میں اس کیلئے قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔
6- مومن اپنے نفس کو اطاعت کی طرف راغب، اللہ تعالی کی بارگا میں حاضر، اور اللہ تعالی کے ذکر میں اسے مشغول پاۓ، اس کی آیاتِ قرآنیہ اور آیاتِ کونیہ کو جاننے میں اورذکر وفکر اور کثرتِ سجود میں مشغول پاۓ تو محب کو اپنے رب کا تقرب حاصل ہو جاتا ہے اور وہ جنابِ الٰہی سے مانوس ہو جاتا ہے، اور اللہ تعالی کا اس کیلئے یہ سب کچھ آسان کر دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالی اس سے محبت کرتا ہے اور اسے اپنا قرب عطا فرما رہا ہے، بندہ جس قدر اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہوتا ہے اس سے زیادہ اللہ تعالی اس بندے کی طرف متوجہ ہے۔


والله سبحانه وتعالى أعلم

 


 

Share this:

Related Fatwas