عید اور جمعہ كے اکٹھا ہونے کی صورت ...

Egypt's Dar Al-Ifta

عید اور جمعہ كے اکٹھا ہونے کی صورت میں جمعہ کی نماز کا حکم.

Question

استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پر مشتمل ہے:

اگر عید جمعہ کے دن پڑ جائے تو کیا جمعہ کی نماز ساقط ہو جائیگی اور عید کی نماز ہی جمعہ کے بدلے میں کافی ہوگی؟.

Answer

جہاں تک جمعہ اور عید كے اکٹھے ہونے اور اس صورت میں جمعہ کے وجوب کے ساقط ہونے كا تعلق ہے تو اس سلسلے میں سردست یہ واضح رہے کہ یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے ، کیونکہ اس بارے میں وارد شدہ احادیث و روایات کی صحت میں علمائے كرام كے درميان اختلاف واقع ہوا ہے ، اسی طرح ان کے مفہوم کی تعیین میں بھی اختلاف ہوا ہے.
چنانچہ امام ابو داود ، نسائی ، ابن ماجہ اور حاکم نے ایاس بن ابی رملہ شامی سے روایت کی ہے ، انہوں نے بیان کیا كہ میں نے حضرت معاویہ بن سفیان کو زید بن ارقم ۔ رضی اللہ عنھم ۔ سے يہ دریافت کرتے دیکھا كہ کیا آپ نے حضرت رسول اللہ ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ کے ساتھ دونوں عیدوں کو ایک ساتھ جمع ہوتے دیکھا ہے؟، انہوں نے جواب دیا: ''جی ہاں'' اس پر انہوں نے دریافت کیا ، تو آپ ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ نے کیا کیا ، تو انہوں نے جواب دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کی نماز ادا فرمائی پھر جمعہ میں اجازت دے دی ، اور یہ ارشاد فرمایا : ''جو پڑھنا چاہے پڑھ لے''.
نيز حضرت ابو ہریرہ ۔ رضی اللہ عنہ ۔ حضرت نبی کریم ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ سے روایت کرتے ہیں كہ آپ۔ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ نے ارشاد فرمايا: '' تمہارے آج کے اس روز دو عیدیں ایک ساتھ اکٹھی ہو گئیں ہیں ، اس لئے جسكي مرضی ہو تو وہ اس كے لئے جمعہ کے بدلے کافی ہے ، لیکن ہم جمعہ پڑهنے والے ہیں''. ابو داود ، ابن ماجہ اور حاکم نے اس حديث کی روایت کی ہے.
لیکن بعض علمائے کرام کا مذہب یہ ہے کہ عید کی نماز کی ادائیگی سے جمعہ کی رخصت کا جواز نہیں نکلتا ہے ، کیونکہ جمعہ کے وجوب کی دلیل تمام ایام کو محیط ہے ، اور دونوں میں سے ہر ایک الگ الگ مستقل عبادت ہے دونوں ميں سے كوئي بهي ایک دوسرى کا قائم مقام نہیں ہو سکتی ہے ، مزيد يہ كہ اس بارے میں وارد احادیث و روایات میں تخصیص کی صلاحیت نہیں ہے ، کیونکہ ان کے اسناد اعتراضات سے خالی نہیں ہیں ، یہ رائے مالکی اور حنفی حضرات کى ہے.
مذکورہ بالا احادیث و روایات کی بنا پر امام احمد کا مذہب یہ ہے کہ عید کی نماز ادا کرلینے والے کے حق میں جمعہ ساقط ہے لیکن ظہر واجب ہے ، امام شافعی سے بھی ایک روایت اسی رائے کے موافق ہے.
صحیح ترین روایت کے مطابق امام شافعی اور جمہور کا مذہب یہ ہے کہ شہر کے باشندوں پر جمعہ واجب ہے ، جبکہ دیہات کے ایسے رہنے والوں سے ساقط ہے جن میں جمعہ کے وجوب کے شرائط پائے جاتے ہوں ، کیونکہ عید کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ جمعہ کی بھی ادائیگی ان کے لئے باعث مشقت و تکلیف ہے ، ان کی دلیل مؤطا میں امام مالک کا روایت کردہ يہ واقعہ ہے کہ حضرت عثمان ۔ رضی اللہ تعالی عنہ ۔ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: "مسئلہ یہ ہے کہ تمہارے آج کے اس روز دو عیدیں ایک ساتھ جمع ہو گئیں ہیں، لہذا اطراف و اکناف والوں میں سے جو حضرات جمعہ کا انتظار کرنا چاہتے ہیں وہ انتظار کر لیں اور جو واپس جانا چاہتے ہیں انہیں میں اجازت دے دیتا ہوں". اس پر کسی صحابی نے ان پر اعتراض نہیں کیا ، لہذا خاموش اجماع ہو گیا ، اور عید کی نماز پڑھ لینے والوں پر سے جمعہ کے سقوط کی اجازت والی روایتوں کو ان حضرات نے اسی پر محمول کیا ہے.
بہرحال اس مسئلے میں گنجائش ہے ، کیونکہ بات مختلف فيہ ہے ، اور ایک مذہب کو لیکر دوسرے مذہب پر اعتراض نہیں کیا جا سکتا ہے ، لہذا اصل اور احتیاط کا تقاضا یہى ہے کہ مساجد میں جمعہ ہونی چاہئے اور جن پر جمعہ میں شرکت بار یا باعث مشقت ہو اور رخصت پر عمل کرنا چاہے تو اسے اس بات کی اجازت ہے ، اور عید کی نماز کو جو علماء كرام جمعہ کے لئے کافی سمجھتے ہیں وه ان کے مذہب پر عمل کر سکتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے بدلے ظہر پڑھے ، اور جمعہ پڑھنے والوں پر زبان درازی اور لعن طعن نہ کرے ، مسجدوں میں جماعت کرنے والوں کو نشانہء ملامت نہ بنائے اور فتنہ پروری سے پرہیز کرے ، خصوصا ایک ایسے مسئلے میں جس میں اسلاف کرام ميں اختلاف کی گنجائش رہی ہے
 

Share this:

Related Fatwas