بری تربیت، خود پسندی، غرور اور تکبر...

Egypt's Dar Al-Ifta

بری تربیت، خود پسندی، غرور اور تکبر انتہاپسندوں کے نظریات قبول کرنے کا نفسیاتی سبب ہیں۔

Question

  بری تربیت، خود پسندی، غرور اور تکبر کو انتہا پسندوں کے نظریات قبول کرنے کا نفسیاتی سبب کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اور اس کا علاج کیا ہے؟

Answer

اس میں کوئی شک نہیں کہ لوگوں سے تکبر کرنا نفس کی آفات میں سے ایک ہے جسے شریعت میں مذموم کہا گیا ہے، اس کا ذکر بہت سی قرآنی آیات اور احادیث نبوی ﷺ میں آیا ہے اور تکبر انتہاپسندوں کی بڑی فکری خصوصیات میں سے ایک ہے۔ اپنے آپ کو بڑا مؤمن سمجھنا، معاشرے سے واقفیت نہ رکھنا اور جذباتی تنہائی جیسے اصولوں کو متکبر نفس قبول کرتا ہے اور ان سے بے حد خوش ہوتا ہے، نفس چاہے پیسے اورجاہ وعزت جیسی دنیاوی چیزوں میں تکبر کرے یا ذکر وفکر اور نماز جیسے دینی اعمال میں تکبر کرے  ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہے بلکہ آخر میں نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے۔ متکبر نفس کے لیے مشکل ترین بات یہ ہے کہ وہ مکمل طور پر متواضع بن جاۓ اور یہ مان لے کہ تمام لوگ اچھے ہیں اور برائی صرف اسی کے اندر ہے۔ تکبر ہی وہ گناہ ہے جس نے ابلیس کو جنت سے نکلوایا تھا جب اس نے خود کو ابو البشر سیدنا آدم علیہ السلام کے مقابلے میں بہتر سمجھا اور اللہ تعالیٰ کا حکم ماننے کی بجاۓ انہیں سجدہ کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اسی لیے مسلمان علماء میں سے مشائخِ طریقت اپنے طلبہ کو عاجزی اور انکساری کی تربیت دینے پر حریص رہتے ہیں۔

Share this:

Related Fatwas