صحیح شرعی تصوف

Egypt's Dar Al-Ifta

صحیح شرعی تصوف

Question

بعض لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حقیقی تصوف کا زمانہ گزر چکا ہے، اور اب کہیں بھی صحیح شرعی تصوف موجود نہیں ، تو کیا یہ بات درست ہے؟

Answer

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے، یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی" متفق علیہ۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: میری امت بارش کی مانند ہے معلوم نہیں اس کا اولین حصہ بہتر ہے کہ آخری حصہ"۔ معجم الاوسط۔ اس لئے خیر امت اسلام میں قیامت تک رہے گی اور موجودہ تصوف طویل تسلسل کی ایک کڑی ہے جس کی ابتداء رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوتی ہے پھر صحابہ کرام سے ہوتا ہوا آئمہ وتابعین کے زمانے میں آتا ہے، پھر سیدنا جنید، حجۃ الاسلام امام غزالی اور سیدنا عبد القادر الجیلانی سے گزرتا ہوا، سیدنا ابی الحسن شاذلی اور ان کے شاگرد، سیدنا ابو العباس المرسی تک پہنچتا اور پھر اسی تسلسل سے آج ہم تک پہنچتا ہے۔ جہاں تک غلطیوں اور خلاف ورزیوں کا تعلق ہے تو یہ ہر انسان کی جہد میں ایک فطری امر ہے، یہ آج بھی ہو سکتی ہیں جیسے ماضی میں ہوئیں ہوں گی، لیکن ہمارا فرض یہ ہے کہ ان غلطیوں کا ازالہ اور اصلاح کریں ، نہ کہ اس طرح کا دعویٰ کریں کہ تصوف کا زمانہ گزر چکا ہے۔

Share this:

Related Fatwas