مراتبِ کفر

Egypt's Dar Al-Ifta

مراتبِ کفر

Question

کیا کفر کے درجات ہیں، اور کیا اس کی اقسام ہیں جن پراحکام میں اختلاف مرتب ہوتا ہے؟

Answer

کفر یہ ہے: اس چیز کا انکار کرنا جس سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں سے ہونا ضروری معلوم ہو ، جیسے وجودِ خالق کا اور آپ ﷺ کی نبوت کا انکار کرنا ۔ اور اسلام  کے بنیادی فرائض کا انکا کرنا ، اور ان محرمات کو حلال سمجھنا جن کی حرمت قطعی دلائل سے ثابت ہے، وغیرہ۔

اور کفر کے کئی مرتبے اور درجات ہیں اور اس میں سے بعض انسان کو دین سے خارج کردیتے ہیں اور بعض دین سے نہیں خارج نہیں کرتے، اور نافرمان مسلمان کو پہلے نہیں بلکہ دوسرے درجے کے کفر سے متصف کرنا صحیح ہے، الازہری کے قول کے مطابق کفر کی چار قسمیں ہیں: کفرِ انکار،جحود، عناد اور نفاق ، اور اللہ تعالی کے علاوہ کسی اور  چیز سے کفر، یہ کفر سے کم درجے کا کفر ہے یعنی یہ اللہ کے ساتھ کفر کےمغایر کفر ہے، پہلا کفر دین سے خارج کرنے والا ہے جو جہنم میں ہمیشگی کا تقاضا کرتا ہے، اور دوسرا صرف فسق کا متقاضی ہے ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہنے کا نہیں، اور مثلاً: ایک آدمی اپنی زبان سے توحید اور نبوت کا اقرار کرتا ہے اور  دل سے ایمان بھی رکھتا ہے مگر ساتھ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب بھی کرتا ہے جیسے قتل و غارت گری اور فساد فی الارض اور حقوق کا انکار اور  نعمتوں کی ناشکری وغیرہ۔ اور وہ احادیث ہیں جن میں کبیرہ گناہوں پر کفر کا اطلاق کیا گیا ہے جیسا کہ آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "«وقتاله كفر» اس سے لڑنا کفر ہے - متفق علیہ –اور آپ ﷺ نے فرمایا: «من ترك الصلاة متعمدًا فقد كفر» -جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اس نے کفر کیا- اسے الطبرانی نے الاوسط میں روایت کیا ہے ۔وغيرہ  وغیرہ - - ان سب احادیث میں کفرِ حقیقی سے کم درجے کا کفر مراد ہے، لہٰذا ان میں گناہِ کبیرہ کے مرتکبین کی تکفیر کرنے پر خوارج کیلئے کوئی دلیل نہیں ہے

مسلمان اسلاف میں سے کسی نے بھی نافرمانیوں کو دینِ اسلام سے خارج کر دینے والا کفر نہیں سمجھا سواۓ خوارج اور ان جیسے لوگوں کے جو کبیرہ گناہ کے مرتکب کو دین سے خارج اور کافر قرار دیتے ہیں۔

Share this:

Related Fatwas