حفاظتِ خون

Egypt's Dar Al-Ifta

حفاظتِ خون

Question

انتہاپسند گروہوں نے حفاظتِ خون کے مسئلے کو کیسے معمولی سمجھا؟

Answer

انتہا پسند گروہوں نے تمام رسالتوں اور آسمانی کتابوں میں آنے والے ان مقاصدِ شریعتِ ربانیہ کو نظر انداز کر دیا ہے جن میں سے ایک مقصد انسانی جان کی حفاظت اور اس کی حرمت ہے، اور انہوں نے لوگوں کی تکفیر کرنے اور کسی معمولی شک وشبہ یا ظن کی بنیاد پر ان کو دین سے خارج کرنےکے عمل کو بہت وسعت دی ہے جس کے نتیجے میں ان کے ہاں خون اور اس کی عصمت غیر اہم بن چکی ہے، اور اس بات کی گواہی دہشتگردوں کی تاریخ اور دورِ حاضر میں ان کا بے گناہ لوگوں اور پرامن کو قتل  کرنے، انہیں بم دھماکوں سے اڑانے اور ان کو ذبح کرنے سے ملتی ہے، پس جو ان کی روش پر عمل نہیں کرتا اسے کافر بنا دیتے ہیں، اور اسے  اسلام سے خارج کر کے اس کے خون کو ناحق حلال کر دیتے ہیں، باوجود اس کے کہ شریعت نے جان کی حفاظت اور عصمتِ خون کو بہت زیادہ تعظیم بخشی ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا: "جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے کے بٍغیر یا زمین میں فساد (روکنے) کے علاوہ قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کر دیا، اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کی زندگی بخشی " (مائدہ: 32) ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جس نے کسی ایک شخص کو قتل کیا اور اس کی حرمت کو پامال کیا وہ  اس شخص کی طرح ہے جس نے تمام لوگوں کو قتل کر دیا ہو، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالی نے تمہارے خون  اور تمہاری عزتیں سواۓ حق کے تم پر حرام کر دیں ہیں ۔روایتِ امام بخاری۔ اور آپ ﷺ نے فرمایا: " ساری دنیا کو زائل کر دینا اللہ تعالی ہاں کسی مومن کے ناحق قتل سے آسان ہے" (ابن ماجہ نے روایت کیا ہے) تو شریعت کہیں اور  ہے اور یہ دہشتگرد کہیں اور سرگرداں ہیں۔

Share this:

Related Fatwas