اشخاص کو مقدس جاننا

Egypt's Dar Al-Ifta

اشخاص کو مقدس جاننا

Question

بہت سی تکفیری اور دہشت گرد تحریکوں کے ہاں "السمع والطاعۃ"( بات غور سے سننے اور اطاعت کرنے)  کا جو اصول ہے اسے  ہم کیسے سمجھیں؟

Answer

السمع والطاعۃ یا اشخاص کو مقدس جاننا خطرناک مسائل میں سے ایک ہے جو دینی اور شرعی وابستگی تلاش کرنے والے بعض نوجوانوں میں فکری المیہ  بن جاتا ہے، خاص طور پر جب  انہیں وصول کرنے والے بعض لوگ نظریاتی ہوں اور ان کا تعلق انتہا پسند فکری گروہوں سے ہو تو یہ لوگ اپنے زیرِ تربیت شخص  کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ شریعت نمائندے ہیں، اور ان کے اس نمائندےاور  شریعت کےدرمیان مسلسل ربط پیدا کرتے رہنے کی وجہ سے آنے والا شخص  کااس نمائندے سے تعلق مربوط ہو جاتا ہے، اور اس کے سامنے وہ خود کو شریعت بن بیٹھتا ہے۔ اس کے الفاظ اس کے وژن یا شریعت کی تفہیم کا اظہار کرنے کی بجائے خود شریعت بن جاتے ہیں۔ اور پھر یہ نیا شخص بغیر سمجھے اس کے الفاظ کی تقدیس کرتا اور اس کے لیے ان نمائندوں کےنظریات کو بغیر سوچے سمجھے قبول کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہ عمل انتہا پسند جماعتوں کے مناہج کے درمیان فکری مشترکات میں سے ایک ہے۔

" السمع والطاعة" کو اصول بنانے میں اخوان المسلمون دوسرے تنظیموں کی نسبت اتنی زیادہ مبالغہ آرائی کرتی ہےکہ کارکنوں کیلئے اتباعِ کامل کےعلاوہ کوئی چارۂ کار نہیں ہوتا ، جس کی وجہ سے یہ  تقدس تنظیمی پہلو کے ساتھ ساتھ فکری پہلو میں بھی منتقل ہو جاتا ہے۔

اس لیے ان لوگوں کے فتوے اہم ہتھیاروں میں ایک ہتھیار کی نمائندگی کرتے ہیں جنہیں انتہا پسند تنظیمیں اپنے مقاصد کے حصول کیلئے استعمال کرتی ہیں ۔یہ فتوے جتنے زیادہ ہوتے ہیں اتنی ہی انتہا پسندی کے رجحان کی حمایت کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے فتوے جو نسلی امتیاز اور دوسروں سے نفرت کو ہوا دیتے ہیں۔

Share this:

Related Fatwas