اسقاط حمل کی وجہ سے نکلنے والے بچے ...

Egypt's Dar Al-Ifta

اسقاط حمل کی وجہ سے نکلنے والے بچے کو جلانے کا حکم

Question

ایک مستفتی پوچھ رہا ہے کہ اس نے ہسپتالوں میں دیکھا کہ وہ بچہ جو اسقاط حمل کی وجہ سے خارج ہوتا ہے، اسے بھٹیوں (اوونز) میں جلا کر اس طرح تلف کر دیا جاتا ہے کہ اس کی انسانی حیثیت کا اثر ختم ہو جاتا ہے۔ کیا یہ شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ وہ بچہ جو عورت پیدا کرتی ہے، خواہ اسقاط حمل کی وجہ سے خارج ہوا ہو اور چاہے اس کے جسم کے اعضا واضح ہوئے ہوں یا نہ ہوئے ہوں، فقہ حنفی کے قولِ مختار کے مطابق اسے غسل دیا جائے، کپڑے میں لپیٹا جائے اور دفن کیا جائے۔
جہاں تک بچہ جلانے کا تعلق ہے، یہ حرام اور شرعاً ناجائز ہے اور دینِ اسلام کے منافی ہے۔ اسی کے ساتھ سوال کا جواب واضح ہو گیا۔


والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas