ولیمۂ نکاح کے انعقاد کا حکم
Question
شریعت کی نظر میں اُس ولیمے کا کیا حکم ہے جو آدمی اپنی شادی کے موقع پر کرتا ہے اور لوگوں کو اس میں مدعو کرتا ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ ولیمۂ نکاح اپنی اصل میں سنت ہے، اور شرعاً لوگوں کو کھانا کھلانے کے ضمن میں آتا ہے جو کہ مستحب عمل ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ ہو، کھانے پینے اور نشست و برخاست میں کوئی حرام امر شامل نہ ہو، کسی قسم کے حرام لہو و لعب کا اہتمام نہ ہو، اور اس میں صرف امیروں کو مدعو کر کے غریبوں کو محروم نہ رکھا جائے، تاکہ احسان، حسنِ ادب اور دل جوئی کے مقاصد پورے ہو سکیں۔
تفصیلات۔۔۔
ولیمہ سے مراد
ولیمہ کی وضاحت یہ ہے کہ لفظ ولیمہ، وَلْم سے مشتق ہے جس کے معنی اجتماع کے ہیں، اور عرف میں اس کا مطلق استعمال خاص طور پر نکاح کے ولیمے کے لیے مشہور ہے، جبکہ دیگر مواقع پر اسے کسی قید کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ ولیمہ ہر اُس کھانے پر بولا جاتا ہے جو کسی نئے خوشی کے موقع کے اظہار کے لیے تیار کیا جائے، چاہے وہ نکاح کا موقع ہو یا کوئی اور مناسبت۔ ولیمہ ذبح کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور بغیر ذبح کے بھی، اور ہر وہ چیز جو کھانے کے معنی میں آئے ولیمہ میں شامل ہو سکتی ہے، البتہ استطاعت کی صورت میں گوشت کے ساتھ ولیمہ کرنا افضل ہے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ خیبر اور مدینہ کے درمیان تین راتیں مقیم رہے، اس دوران آپ ﷺ کا نکاح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے ہوا، تو میں نے مسلمانوں کو آپ ﷺ کے ولیمے کی دعوت دی، اس ولیمے میں نہ روٹی تھی نہ گوشت، بلکہ صرف اتنا ہوا کہ آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو چمڑے کے دسترخوان بچھانے کا حکم دیا، پھر ان پر کھجور، پنیر اور گھی ڈال دیا گیا، اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔ ملا علی قاری مرقاة المفاتيح میں لکھتے ہیں کہ اس روایت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ولیمے میں اہلِ ناز و نعمت کا کھانا نہیں تھا بلکہ اہلِ سادگی کا کھانا تھا، یعنی کھجور، پنیر اور گھی۔
ولیمۂ نکاح کا حکم
ولیمۂ نکاح ہمارے آقا رسول اللہ ﷺ سے ثابت شدہ سنت ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے خود اس پر عمل فرمایا۔ چنانچہ حضرت صفیہ بنت شیبہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنی بعض ازواج کے ساتھ نکاح کے موقع پر دو مُد جو کے ذریعے ولیمہ کیا، اس حدیث کو امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
اور حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ان کے اوپر زرد رنگ کا نشان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے انصارکی ایک عورت سے نکاح کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ اسے مہر کتنا دیا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ایک گٹھلی کے برابر سونا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر ولیمہ کر خواہ ایک بکری ہی کا ہو۔ اس حدیث کو بخاری و مسلم نے روایت کیا ہے۔
امام ابن قدامہ رحمہ اللہ المغنی میں لکھتے ہیں کہ اہلِ علم کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ نکاح کے موقع پر ولیمہ کرنا مشروع اور سنت ہے۔
خلاصہ
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں ولیمۂ نکاح اپنی اصل میں سنت ہے، اور شریعت میں پسندیدہ عمل یعنی کھانا کھلانے کے حکم کے تحت آتا ہے، بشرطیکہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ کی جائے، کھانے پینے اور نشست و برخاست میں کوئی حرام امر شامل نہ ہو، کسی قسم کے حرام لہو و لعب کا اہتمام نہ ہو، اور اس میں صرف امیروں کو مدعو کر کے غریبوں کو محروم نہ رکھا جائے، تاکہ احسان، حسنِ ادب اور دل جوئی کے مقاصد پورے ہو سکیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
