بیماری سے شفا پانے پر دعوت (ولیمہ) کرنے کا حکم
Question
ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے شدید بیماری لاحق ہوگئی تھی، پھر اللہ تعالیٰ نے مجھ پر فضل فرمایا اور مجھے اس سے شفا عطا فرمائی۔ اس پر میرے والد نے میری صحت یابی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لیے ایک دعوت (ولیمہ) کا اہتمام کیا۔ شریعت کی رو سے اس کا کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ بیماری سے شفا حاصل ہونے پر دعوت کا اہتمام کرنا شرعاً جائز ہے، اور یہ ان اعمال میں شامل ہے جن میں لوگوں کو کھانا کھلانا شریعت میں مستحب قرار دیا گیا ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ ہو، اور کھانے پینے یا بچھونے وغیرہ میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو، نہ ہی اس میں کسی قسم کا حرام لہو و لعب ہو، اور اس دعوت میں صرف امیروں کو خاص نہ کیا جائے بلکہ غریبوں کو بھی شامل رکھا جائے، تاکہ احسان، ادب اور دلجوئی کے معانی پورے ہوں۔
تفصیل۔۔۔
ولیمہ کے معنی کی وضاحت
لفظ "ولیمہ" اصل میں "وَلم" سے مشتق ہے، جس کے معنی اجتماع کے ہیں۔ عام طور پر جب اسے بغیر کسی قید کے استعمال کیا جائے تو اس سے مراد شادی کا ولیمہ ہوتا ہے، اور دوسرے مواقع کے لیے اسے کسی قید کے ساتھ استعمال کیا جاتا ہے۔ درحقیقت ہر وہ کھانا جو کسی نئی خوشی کے موقع پر تیار کیا جائے، خواہ وہ شادی کی خوشی ہو یا کوئی اور خوشی، اس پر لفظ "ولیمہ" بولا جا سکتا ہے۔
ولیمہ جانور ذبح کرنے سے بھی حاصل ہو سکتا ہے اور اس کے بغیر بھی، اور ہر وہ چیز جس پر کھانے کا اطلاق ہو وہ اس میں شامل ہو سکتی ہے، البتہ اگر استطاعت ہو تو گوشت کے ساتھ کرنا زیادہ بہتر ہے۔ چنانچہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: "نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ اور خیبر کے درمیان (مقام سد الصہباء میں) تین دن تک قیام فرمایا اور وہیں صفیہ رضی اللہ عنہا سے خلوت کی تھی پھر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مسلمانوں کو ولیمہ کی دعوت دی۔ آپ کے ولیمہ میں نہ روٹی تھی ‘ نہ گوشت تھا صرف اتنا ہوا کہ آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور وہ بچھا دیا گیا۔ پھر اس پر کھجور ‘ پنیر اور گھی (کا ملیدہ) رکھ دیا"۔ اس روایت کو امام بخاری نے نقل کیا ہے۔
ملا علی القاری اپنی کتاب مرقاة المفاتیح (جلد 5، صفحہ 2105، طبع: دار الفكر) میں لکھتے ہیں کہ اس میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اس ولیمے میں اہلِ عیش و عشرت کا کھانا نہیں تھا بلکہ زہد اور سادگی اختیار کرنے والوں کا کھانا تھا، جیسے کھجور، پنیر اور گھی۔
بیماری سے شفا پانے پر دعوت کرنے کا حکم
دعوتوں کے اہتمام کے مختلف اسباب ہوتے ہیں، ان میں سے ایک سبب بیماری سے صحت یاب ہونے پر دعوت کرنا بھی ہے۔
بیماریوں سے شفا دراصل اللہ سبحانہ وتعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: و ﴿وَإِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِينِ﴾ [الشعراء: 80]، یعنی جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ اور شفا دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندے پر ایک نعمت اور احسان ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا بِكُمْ مِنْ نِعْمَةٍ فَمِنَ اللَّهِ﴾ [النحل: 53]، یعنی تمہارے پاس جو بھی نعمت ہے وہ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔
جب بیماری سے شفا ملنا اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے تو انسان کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس نعمت پر اپنے رب کا شکر ادا کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَاعْبُدُوهُ وَاشْكُرُوا لَهُ إِلَيْهِ تُرْجَعُون﴾ [العنكبوت: 17]. یعنی اس کی عبادت کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ مفسرین نے اس آیت کی تفسیر میں بیان کیا ہے کہ انسان جو بھی عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کرتا ہے وہ دراصل اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے باب میں داخل ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ان نعمتوں پر اس کا شکر ادا کریں۔ دیکھیں: تفسیر القرآن العظیم لابن ابی حاتم (جلد 9، صفحہ 3044، طبع: مکتبۃ نزار) ۔
اور ان معانی میں سے جو اکثر دعوتوں میں مشترک ہوتے ہیں یہ بھی ہے کہ ان کا اہتمام کرنا اللہ تعالیٰ کی دائمی اور مسلسل نعمتوں پر شکر ادا کرنے کے قبیل سے ہے۔ چنانچہ بعض فقہاء نے ذکر کیا ہے کہ بعض شرعاً مستحب دعوتوں جیسے عقیقہ اور نکاح کے ولیمہ کی حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ ان کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا جائے۔ دیکھیے: حاشیة الشلبی على تبیین الحقائق للعلامة الشلبی الحنفی (جلد 6، صفحہ 8، طبع: المطبعة الكبرى الأميرية)۔
اور اس معنی (شکر) کا ظہور بیماری سے شفا ملنے کے موقع پر بالکل واضح ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص بیماری سے صحت یاب ہونے کی خوشی میں دعوت کا اہتمام کرے تو یہ شرعاً جائز ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ یہ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کی ایک صورت ہے کہ اس نے اسے بیماری سے شفا عطا فرمائی۔
خلاصہ
مذکورہ بالا تفصیل کی بنا پر اور سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق: بیماری سے شفا حاصل ہونے پر دعوت کا اہتمام کرنا شرعاً جائز ہے، اور یہ ان اعمال میں شامل ہے جن میں لوگوں کو کھانا کھلانا شریعت میں مستحب قرار دیا گیا ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اس میں اسراف اور فضول خرچی نہ ہو، اور کھانے پینے یا بچھونے وغیرہ میں کوئی حرام چیز شامل نہ ہو، نہ ہی اس میں کسی قسم کا حرام لہو و لعب ہو، اور اس دعوت میں صرف امیروں کو خاص نہ کیا جائے بلکہ غریبوں کو بھی شامل رکھا جائے، تاکہ احسان، ادب اور دلجوئی کے معانی پورے ہوں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
