قربانی میں حاملہ جانور کو ذبح کرنے ...

Egypt's Dar Al-Ifta

قربانی میں حاملہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم

Question

قربانی میں حاملہ جانور کو ذبح کرنے کا کیا حکم ہے؟ ایک شخص کچھ مویشی اور چوپائے اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے فائدے کے لیے پالتا ہے۔ جب ذوالحجہ کا مہینہ قریب آیا تو اس نے گائے کو قربانی کے لیے منتخب کیا، کیونکہ وہ اسے موٹی اور زیادہ گوشت والی لگی، لیکن جب اس نے اچھی طرح غور کیا تو معلوم ہوا کہ وہ حاملہ ہے۔ تو کیا اس کے لیے اسے قربانی میں ذبح کرنا جائز ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد: شرعًا ایسے جانوروں کو ذبح کرنا جائز نہیں جن کے حاملہ ہونے کا علم ہو، خواہ قربانی میں ہو یا کسی اور مقصد کے لیے؛ کیونکہ حمل اس کے گوشت کو کم کر دیتا ہے اور اس کے کمزور اور دُبلا ہونے کا سبب بنتا ہے، لہٰذا یہ ان عیوب میں شمار ہوگا جو قربانی کے صحیح ہونے سے مانع ہوتے ہیں۔

تفصیل۔۔۔

اسلام میں قربانی کی فضیلت اور اس کی اہمیت

عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کرنا اسلام کا ایک عظیم شعار ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتابِ عزیز میں فرمایا: ﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ﴾ [الكوثر: 2] یعنی “اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔”

علامہ ابن عجیبہ نے "البحر المديد" میں فرمایا: ﴿وَانْحَرْ﴾ سے مراد اونٹ وغیرہ قربان کرنا ہے، جو عربوں کے بہترین اموال میں شمار ہوتے تھے، اور انہیں محتاجوں پر صدقہ کرنا۔ نیز یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد عید کی نماز اور قربانی ہے۔

حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “اس دن ہم سب سے پہلے نماز ادا کرتے ہیں، پھر واپس آکر قربانی کرتے ہیں۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا۔” یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

قربانی ان سب سے عظیم عبادات میں سے ہے جن کے ذریعے ایامِ نحر اور ایامِ تشریق میں اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ چنانچہ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “یومِ نحر میں انسان کا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب نہیں۔ قربانی کا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت آئے گا، اور اس کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا مقام پا لیتا ہے، لہٰذا خوش دلی کے ساتھ قربانی کیا کرو۔” اس حدیث کو امام ترمذی، ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

قربانی میں حاملہ جانور کو ذبح کرنے کا حکم، فقہاء کی رائے اور مصری قانون

قربانی کے لیے کچھ شرائط اور ضابطے مقرر ہیں جن کے بغیر قربانی صحیح اور کافی نہیں ہوتی۔ ان شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ قربانی کا جانور ایسے نمایاں عیوب سے پاک ہو جو اس کی چربی یا گوشت میں کمی کا سبب بنیں۔ اس کی دلیل حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “چار قسم کے جانور قربانی میں کفایت نہیں کرتے: وہ بھینگا جانور جس کا بھینگا پن ظاہر ہو، وہ بیمار جانور جس کی بیماری واضح ہو، وہ لنگڑا جانور جس کا لنگ پن ظاہر ہو، اور وہ انتہائی کمزور جانور جس کی ہڈیوں میں گودا نہ ہو۔” اس حدیث کو امام احمد، ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور حاکم نے روایت کیا ہے، اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔

فقہاء کے درمیان اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا حمل قربانی کے عیوب میں شمار ہوتا ہے یا نہیں۔ جمہور فقہاء، یعنی احناف، مالکیہ، شافعیہ کے دو ائمہ: ابن الرِّفعہ اور تقی الدین الحِصنی، نیز حنابلہ اس بات کے قائل ہیں کہ حمل ان عارضی حالتوں میں سے ہے جو قربانی کے جانور کو لاحق ہو سکتی ہیں، اور یہ کوئی عیب نہیں ہے۔ اسی بنا پر انہوں نے اس مسئلے کی مختلف جزئیات بیان کی ہیں کہ اگر کسی نے حاملہ جانور کی قربانی کر دی تو اس کے بچے کے ساتھ مختلف حالتوں میں کیا معاملہ کیا جائے گا۔([1])

البتہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے حاملہ جانور کے بچہ جننے تک اسے ذبح کرنے کو مکروہ قرار دیا ہے، تاکہ بچے سے حاصل ہونے والا فائدہ ضائع نہ ہو۔ ان کے مذہب کے مطابق قربانی کے جانور کا بچہ اس وقت تک کھانے کے لیے حلال نہیں ہوتا جب تک وہ زندہ پیدا نہ ہو اور پھر اسے ذبح نہ کیا جائے، بخلاف صاحبین (امام ابو یوسف اور امام محمد) کے۔ جیسا کہ امام ابن مودود موصلی نے "الاختيار" میں ذکر کیا ہے۔

جبکہ شافعیہ کے معتمد مذہب اور حنبلی فقہاء میں سے قاضی ابو یعلیٰ کے نزدیک حمل ان عیوب میں شمار ہوتا ہے جو قربانی کے صحیح ہونے سے مانع ہیں؛ کیونکہ حمل جانور کے گوشت میں کمی اور اس کے کمزور و دُبلا ہونے کا سبب بنتا ہے۔([2])

اور حاملہ جانور کی قربانی سے منع کرنے والا قول ہی فتوٰی کے لیے مختار ہے، کیونکہ اس میں حاملہ مادہ جانوروں کی حفاظت ہے جن کا فائدہ بہت زیادہ ہوتا ہے، اور وہ حیوانی مال میں اضافے کے اہم ترین عوامل میں سے شمار ہوتے ہیں، نیز یہ دودھ اور اس سے تیار ہونے والی اہم غذائی مصنوعات کا بنیادی ذریعہ ہیں، جو غذائی تحفظ (فوڈ سکیورٹی) کے اہم ستون ہیں۔ لہٰذا ان مادہ جانوروں کے ذبح کو وسعت دینا حیوانی دولت اور دودھ سے حاصل ہونے والی غذائی مصنوعات کے لیے ایک صریح خطرہ اور ان پر زیادتی ہے، کیونکہ اس سے مویشیوں کی پیدائش کی شرح میں کمی واقع ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں دودھ کی پیداوار کم ہو جاتی ہے اور اس کی مصنوعات نایاب ہونے لگتی ہیں، اور اس طرح معاشرے میں شدید معاشی بحران پیدا ہوتا ہے۔

اسی مقصد کے پیشِ نظر مصری قانون نے بھی حاملہ مادہ جانوروں کے ذبح کو ان کی نسل کے تحفظ اور حیوانی دولت کی حفاظت کے لیے ممنوع قرار دیا ہے۔([3])

اور شریعتِ مطہرہ کے قواعد میں یہ اصول طے شدہ ہے کہ: “حاکم کا رعایا کے بارے میں تصرف مصلحت کے تابع ہوتا ہے۔” جیسا کہ امام سیوطی نے "الأشباه والنظائر" میں ذکر کیا ہے۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قربانی یا کسی اور مقصد کے لیے حاملہ مادہ جانوروں کے ذبح سے منع کرنا ان امور میں سے ہے جن سے مصلحتِ عامہ حاصل ہوتی ہے، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔

اسی طرح حاکم کا اختیار کردہ فیصلہ اختلاف کو ختم کر دیتا ہے، اور یہاں حاکم نے شافعیہ اور ان کے موافق فقہاء کے مذہب پر عمل کرتے ہوئے حاملہ مادہ جانوروں کے ذبح پر پابندی کو اختیار کیا ہے، جیسا کہ گزر چکا۔([4])

خلاصہ

مذکورہ تفصیل کی بنا پر، اور سوال میں بیان کردہ صورت کے مطابق، شرعًا ایسے جانوروں کو ذبح کرنا جائز نہیں جن کے حاملہ ہونے کا علم ہو، خواہ قربانی کے لیے ہو یا کسی اور مقصد کے لیے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

[1] رد المحتار امام ابن عابدین حنفی (3/ 655، دار الفكر)، وشرح مختصر خليل امام أبو عبد الله الخرشي مالكي (3/ 40، دار الفكر)، وكفاية الأخيار امام تقی الدین الحِصنی شافعی (ص: 531، دار الخير)، والفروع امام برہان الدین ابن مفلح حنبلی (6/ 90، مؤسسة الرسالة)۔

[2] "المجموع" امام نووی شافعی (5/ 428، دار الفكر)، "حاشية البجيرمي على شرح المنهج" امام البجیرمی شافعی (4/ 296، مطبعة الحلبي)، "الإنصاف" امام علاء الدین المرداوی حنبلی (4/ 82، دار إحياء التراث العربي)۔

[3] قانونِ زراعت نمبر (53) سال (1966ء)، اور دفعہ (143 مکرر) جس میں ترمیم صدرِ جمہوریہ کے قانون نمبر (207) سال (1980ء) کے ذریعے کی گئی، جس میں حاملہ مویشیوں کو ذبح کرنے پر سزا مقرر کی گئی ہے۔

[4] "الفروق" امام شهاب الدین القرافی (2/ 103، عالم الكتب)۔

Share this:

Related Fatwas