قربانی کے دنوں کی راتوں میں قربانی ...

Egypt's Dar Al-Ifta

قربانی کے دنوں کی راتوں میں قربانی ذبح کرنے کا حکم

Question

ایامِ قربانی کی راتوں میں قربانی کرنے کا کیا حکم ہے؟ میں کئی سالوں سے اپنی قربانی رات کے وقت کرتا آ رہا ہوں، کیونکہ یہ میرے لیے آسان ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے اس پر اعتراض کیا اور کہا کہ شرعاً یہ جائز نہیں ہے۔ براہِ کرم اس کا شرعی حکم بیان فرمائیں۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اگر دن کے وقت قربانی ذبح کرنا ممکن نہ ہو یا اس میں مشقت ہو تو ایامِ نحر میں رات کے وقت قربانی ذبح کرنا جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور اس کا عمل کافی ہو جاتا ہے اور اس کی قربانی درست ہوتی ہے۔

تفصیل:

قربانی کا حکم اور اس کی مشروعیت کی حکمت

قربانی اسلام کے شعائر میں سے ایک شعار ہے۔ اسے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے، اور سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی سنت کو زندہ کرنے کے لیے مشروع کیا گیا ہے۔ اسی طرح اس میں اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ﴿ذَلِكَ وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ﴾: ترجمہ: “یہ (ہمارا حکم ہے)، اور جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کے تقویٰ سے ہے۔” (الحج: 32)

قربانی نبی کریم ﷺ کی سنتِ مؤکدہ ہے۔ اس کی اصل دلیل حضرت انس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے دو سینگوں والے چتکبرے مینڈھوں کی قربانی کی، انہیں اپنے ہاتھ سے ذبح کیا، بسم اللہ اللہ اکبر کہا اور اپنا قدم ان کے پہلو پر رکھا۔ (متفق علیہ)

قربانی کا حکم: یومِ نحر کے دن فجر طلوع ہونے سے پہلے قربانی ذبح کرنا

شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ قربانی یومِ نحر (یعنی 10 ذوالحجہ) کی فجر طلوع ہونے سے پہلے کرنا جائز نہیں ہے۔ جو شخص ایسا کرے اس کی قربانی شمار نہیں ہوتی، بلکہ وہ صرف گوشت ہوگا جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے، وہ شرعی قربانی نہیں ہوگی۔

اس کی دلیل حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “آج کے دن ہم سب سے پہلے نماز ادا کرتے ہیں، پھر واپس آ کر قربانی کرتے ہیں، جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کو پا لیا، اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کیا تو وہ صرف گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے پیش کیا، وہ قربانی میں شمار نہیں ہے۔” (صحیح بخاری و مسلم)

اور امام ابن المنذر رحمہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ: “لوگ اس بات پر متفق ہیں کہ یومِ نحر کی فجر سے پہلے قربانی ذبح کرنا جائز نہیں ہے۔”

قربانی رات کے وقت ذبح کرنے کا حکم

قربانی کے ایام میں رات کے وقت قربانی ذبح کرنے کے بارے میں جمہور فقہاء (حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے معتمد قول) کے نزدیک حکم یہ ہے کہ رات کے وقت ذبح کرنا جائز ہے، البتہ اس میں تنزیہی کراہت پائی جاتی ہے۔([1])

رات کے وقت ذبح کرنے میں کراہت کی حکمت یہ ہے کہ اندھیرے کی وجہ سے غلطی کا امکان ہو سکتا ہے، مثلاً ذبح کی جگہ یا طریقے میں خطا ہو سکتی ہے۔ اور دن کی روشنی میں قربانی کا عمل زیادہ ظاہر اور نمایاں ہوتا ہے، جبکہ قربانی شعائرِ اسلام میں سے ہے اور شعائر کا اظہار بہتر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ رات کے وقت مستحقین تک گوشت پہنچانے میں دشواری ہو سکتی ہے، یا گوشت کو محفوظ نہ رکھنے کی صورت میں اس کے خراب ہونے کا اندیشہ بھی ہوتا ہے۔ ان وجوہات کی بنا پر رات کے وقت ذبح کرنا مکروہِ تنزیہی قرار دیا گیا ہے، تاہم اگر رات میں ذبح کیا جائے تو قربانی درست اور ادا ہو جاتی ہے۔([2])

اگر آج کے دور میں رات کا وقت بھی دن کی طرح روشن اور محفوظ ہو، جیسے جدید مذبح خانے جہاں مکمل روشنی اور انتظامات موجود ہوتے ہیں، اور گوشت کو محفوظ رکھنے کا بھی مناسب انتظام ہو، یا رات کو ذبح کرنے میں کوئی واضح مصلحت پائی جائے تو کراہت ختم ہو جاتی ہے، کیونکہ اصول یہ ہے کہ معمولی حاجت کی وجہ سے کراہت زائل ہو جاتی ہے۔([3])

مالکیہ کا موقف یہ ہے کہ رات کے وقت قربانی ذبح کرنا جائز نہیں، اور اگر کسی نے ایسا کیا تو وہ قربانی شمار نہیں ہوگی؛ کیونکہ ان کے نزدیک دن (یعنی طلوعِ فجر کے بعد سے غروب تک کا وقت) قربانی کے لیے شرط ہے۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی ایک روایت اسی قول کے مطابق منقول ہے۔([4])

خلاصہ

مذکورہ تفصیل کی روشنی میں سوال کی صورتِ حال کے بارے میں یہ حکم ہے کہ اگر دن کے وقت قربانی ذبح کرنا ممکن نہ ہو یا اس میں مشقت ہو تو ایامِ نحر میں رات کے وقت قربانی ذبح کرنا جائز ہے، اور اس میں کوئی حرج نہیں۔ اور اس کا عمل کافی ہو جاتا ہے اور اس کی قربانی درست ہوتی ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 

[1] امام کاسانی حنفی رحمہ اللہ، "بدائع الصنائع" (5/74-75)، امام نووی شافعی رحمہ اللہ، "المجموع شرح المهذب" (8/388)، امام رُحَیْبانی حنبلی رحمہ اللہ، "مطالب أولي النهى" (2/470)

[2] “الدر المختار” علامہ حصکفی حنفی (ص: 646، طبع: دار الکتب العلمیہ)، اور “بحر المذهب” امام رُوَیانی شافعی (جلد 4، صفحہ 210، طبع: دار الکتب العلمیہ)۔

[3]   "تحفة المحتاج" الإمام ابن حجر الهَيْتَمِي (9/ 354، ط. المكتبة التجارية الكبرى)

[4] “الفواكه الدواني” الإمام شهاب الدین النَّفَرَاوي المالكي (1/ 381، ط. دار الفكر)، “المغني” الإمام ابن قُدَامة (9/ 454، ط. مكتبة القاهرة)۔

Share this:

Related Fatwas