مسجد کے ایک حصے کو سرکاری ٹیلی فون ایکسچینج میں تبدیل کرنے کا حکم
Question
گاؤں کے کچھ لوگوں نے مسجد میں عبادات قائم ہو جانے کے بعد اس کے ایک حصے کو سرکاری ٹیلیفون ایکسچینج میں بدل دیا ہے۔ دین کی نظر میں اس کا کیا حکم ہے؟ اور ایسے لوگوں کی کیا سزا ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ شرعی طور پر یہ بات ثابت ہے کہ وقف کرنے والے کی شرط شریعت کے نص کی طرح معتبر ہوتی ہے۔ لہٰذا اگر کوئی شخص کسی جگہ کو مسجد بنانے کے لیے وقف کر دے، تو وہ جگہ خالصتًا اللہ تعالیٰ کی ملکیت بن جاتی ہے، اور اس میں کسی انسان کے لیے کوئی خصوصی حق باقی نہیں رہتا۔ فقہاء نے واضح طور پر لکھا ہے کہ جب مالک یہ کہہ دے: “میں نے اس جگہ کو مسجد بنا دیا ہے” تو وہ جگہ اسی وقت وقف ہو جاتی ہے، اور مسجد بن جاتی ہے۔
اس کے بعد کسی شخص کو یہ حق نہیں رہتا کہ اس جگہ کی شرعی حیثیت کو تبدیل کرے، یا اس کے کسی حصے کو مسجد کے علاوہ کسی دوسرے مقصد کے لیے استعمال کرے۔ کیونکہ اس وقف کے ساتھ ہی انسان کا حق اس جگہ سے ختم ہو گیا ہوتا ہے، اور وہ اللہ تعالیٰ کی خالص ملکیت بن جاتی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ﴾ ترجمہ: "اور یقیناً مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔" (الجن: 18)
اور جو کچھ اوپر بیان کیا گیا، اس کی روشنی میں سوال کے بارے میں حکم یہ ہے: اگر وہ جگہ باقاعدہ طور پر مسجد کے لیے وقف کی گئی ہے تو مسجد کا کوئی حصہ کاٹ کر اسے سرکاری ٹیلیفون ایکسچینج میں تبدیل کرنا جائز نہیں، کیونکہ جب یہ زمین اللہ تعالیٰ کے لیے مسجد کے طور پر وقف کر دی گئی ہے تو اس میں تبدیلی یا اس کے کسی حصے کو دوسری غرض کے لیے استعمال کرنا حرام ہے۔ اور اگر غصب کرنا ہی حرام ہے تو اللہ کے گھروں کا غصب اس سے بھی زیادہ شدید حرمت رکھتا ہے۔ البتہ اگر وہ جگہ وقف نہ ہو، یعنی محض جماعت کے لیے ایک جگہ ہو اور باقاعدہ مسجد کی حیثیت سے تعمیر و وقف نہ کی گئی ہو، یا کسی دوسرے کی ملکیت پر بنائی گئی ہو، تو اس صورت میں اسے ختم کرنے میں کوئی ممانعت نہیں۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
