برکت حاصل کرنے کی نیت سے صالحین کی ...

Egypt's Dar Al-Ifta

برکت حاصل کرنے کی نیت سے صالحین کی قبور کی زیارت کرنے کا حکم

Question

ایک سائل یہ پوچھتا ہے کہ صالحین کے مزارات اور قبروں کی اس نیت سے زیارت کرنے کا کیا حکم ہے کہ وہاں مدفون بزرگوں کی برکت سے فائدہ حاصل ہو، کیونکہ بعض لوگ اس کو شرک قرار دیتے ہیں۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ کسی چیز کو سبب ماننے اور اسے خالق اور بذاتِ خود مؤثر سمجھنے میں واضح فرق ہے، اہلِ سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ کائنات میں مؤثر حقیقی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اور اسباب بذاتِ خود نتائج پیدا نہیں کر سکتے بلکہ اللہ کے پیدا کرنے سے ان سے اثر ظاہر ہوتا ہے، کسی فعل کو اس کے سبب کی طرف منسوب کرنا لغۃً، شرعاً اور عقلاً درست ہے، اور جو چیز تخلیق اور اثرِ حقیقی کے اعتبار سے اللہ کی طرف منسوب ہوتی ہے، اسے سبب کے اعتبار سے کسی وسیلے کی طرف منسوب کرنا بھی جائز ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے روح قبض کرنے کو اپنی طرف بھی منسوب فرمایا اور اپنے فرشتوں کی طرف بھی،ارشادِ باری تعالی ہے: ﴿اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُسَ حِينَ مَوْتِهَا﴾ ترجمہ: “اللہ ہی جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے۔” [الزمر: 42]، اور اسی فعل کو اپنے فرشتوں کی طرف بھی منسوب فرمایا، چنانچہ ارشاد ہوا: ﴿حَتَّى إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ﴾ ترجمہ: “یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے فرشتے اس کی روح قبض کر لیتے ہیں اور وہ کوئی کوتاہی نہیں کرتے” [الأنعام: 61]، اسی طرح اللہ نے تخلیق، شفا، زندہ کرنے اور غیب کی خبریں دینے کو اپنی طرف بھی منسوب کیا اور یہی تمام امور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف بھی اللہ کے اذن سے منسوب فرمائے، ارشاد فرمایا: ﴿أَنِّي أَخْلُقُ لَكُمْ مِنَ الطِّينِ كَهَيْئَةِ الطَّيْرِ فَأَنْفُخُ فِيهِ فَيَكُونُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللهِ وَأُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَأُحْيِي الْمَوْتَى بِإِذْنِ اللهِ وَأُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَأْكُلُونَ وَمَا تَدَّخِرُونَ فِي بُيُوتِكُمْ إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآَيَةً لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ﴾ [آل عمران: 49]. ترجمہ: “میں تمہارے لیے مٹی سے پرندے کی صورت جیسی چیز بناتا ہوں، پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتی ہے، اور میں مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو شفا دیتا ہوں، اور اللہ کے حکم سے مردوں کو زندہ کرتا ہوں، اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں جمع کرتے ہو۔ بے شک اس میں تمہارے لیے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔”

پس جب ہم کسی مسلمان کو یہ دیکھیں کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور سے، مثلاً اولیاء اور صالحین سے، سوال کر رہا ہے، مدد مانگ رہا ہے، فریاد کر رہا ہے، یا نفع و نقصان کی امید رکھ رہا ہے، تو ہم پر لازم ہے کہ اس کے اس عمل کو سببیت کے طور پر محمول کریں، نہ کہ اس بات پر کہ وہ انہیں خود مؤثر اور خالق سمجھتا ہے؛ کیونکہ ہمیں ہر مسلمان کے اس عقیدے کا علم ہے کہ حقیقی اور ذاتی نفع و نقصان صرف اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے، اور بعض مخلوقات ایسی بھی ہوتی ہیں جو اللہ کے اذن سے نفع یا ضرر پہنچا سکتی ہیں، اس کے بعد یہ بحث رہ جاتی ہے کہ آیا واقعی یہ مخلوق سبب بن سکتی ہے یا نہیں۔

پس یہ بات طے شدہ ہے کہ یہ مسلمان ان مزارات اور قبروں کی زیارت اس عقیدے کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہاں مدفون لوگ نیک اور اللہ کے قریب ہیں، اور صالحین کی قبریں جنت کے باغیچے ہیں، اور یہ کہ قبروں کی زیارت نیک عمل ہے جن کے ذریعے مسلمان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتے ہیں خصوصاً جب یہ قبریں اولیائے صالحین کی ہوں، اور اصل بحث صرف اس بات پر ہے کہ ان مسلمانوں سے جو بعض اعمال صادر ہوتے ہیں، وہ جائز ہیں یا نہیں، کیونکہ ان کے بعض افعال میں علماء کے درمیان اختلاف ہے اور بعض میں بالکل واضح خطا ہے، جن میں کوئی اختلاف نہیں۔ جب یہ سب باتیں معلوم ہو گئیں تو یہ بات بھی بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ ان مسلمانوں کے اقوال اور افعال میں نہ کہیں شرک کا دخل ہے اور نہ کفر کا، نہ ان کے قلیل میں اور نہ کثیر میں، نہ ابتدا میں اور نہ انتہا میں، بلکہ معاملہ صرف بعض وسائل میں اختلاف اور بعض میں محض خطا کا ہے، اور ان میں سے کوئی چیز بھی ایسے شخص کی تکفیر کو لازم نہیں کرتی جس کا اسلام یقین کے ساتھ ثابت ہو چکا ہو۔ اور انسان کے لیے جائز ہے کہ وہ مزارات کی زیارت اس نیت سے کرے کہ وہاں کے صالحین کی برکت سے فائدہ حاصل ہو، تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کی جائے۔ اور جو کچھ ذکر کیا گیا اس سے سوال کا جواب معلوم ہو جاتا ہے۔  

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas