نماز سے پہلے نیت کو زبان سے ادا کرن...

Egypt's Dar Al-Ifta

نماز سے پہلے نیت کو زبان سے ادا کرنے کا حکم

Question

کیا میرے لیے جائز ہے کہ میں ہر نماز کے وقت قبلہ رخ ہو کر یہ کہوں: میں نیت کرتا ہوں کہ چار رکعت ظہر کی نماز ادا کروں، اور اسی طرح عصر کی نماز میں بھی؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ نماز کا ارادہ کرتے وقت نیت کو زبان سے ادا کرنا مشروع اور مستحب ہے، خصوصاً جب اس سے نمازی کو نیت کو دل میں مستحضر رکھنے اور نماز پر مکمل توجہ قائم کرنے میں مدد ملے۔ البتہ اسے اس انداز سے ادا کیا جائے کہ نمازی خود سن سکے، تاکہ دوسروں کو کسی قسم کی تکلیف یا خلل نہ ہو۔

تفصیل…

نیت کی مشروعیت کی حکمت

شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ نیت ہر عمل میں مطلوب ہے، چاہے وہ عبادات میں سے ہو یا عادات میں سے؛ چنانچہ عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے، اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کا ثواب اور ان کا بدلہ نیت پر موقوف ہے۔ نیت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل سے اس کام کا ارادہ کرے جسے وہ انجام دینا چاہتا ہے، جیسا کہ امام قرافی نے (الذخیرہ 1/240، طبع دار الغرب الإسلامی) میں بیان کیا ہے۔

اور نیت کو اس لیے مشروع کیا گیا ہے تاکہ عبادات اور عادات کے درمیان فرق کیا جا سکے، اسی طرح عبادات کے درجات میں بھی تمیز اسی سے ممکن ہے۔ امام قرافی (الذخیرہ 1/240) میں فرماتے ہیں کہ نیت کو واجب قرار دینے کی حکمت یہ ہے کہ عبادات کو عادات سے الگ کیا جائے اور عبادات کے مراتب میں فرق واضح ہو، لہٰذا نیت کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے تاکہ وہ ہبہ، کفارات اور نفلی اعمال سے ممتاز ہو جائیں۔

ہر نماز کے وقت نیت کو زبان سے ادا کرنے کا حکم

چونکہ نیت کا محل دل ہے، اس لیے نماز ہو یا کوئی اور عبادت، اس میں نیت کو زبان سے ادا کرنا واجب نہیں ہے، اور نہ ہی نماز کی قبولیت اس بات پر موقوف ہے کہ نیت کو آہستہ یا بلند آواز سے کہا جائے؛ لہٰذا اگر کوئی شخص صرف دل میں ارادہ کر لے تو یہی کافی ہے۔

البتہ جمہور فقہاء یعنی حنفیہ، شافعیہ اور حنابلہ (راجح قول کے مطابق) اس بات کے قائل ہیں کہ نیت کو زبان سے ادا کرنا مستحب ہے، تاکہ نیت کی مزید تاکید ہو جائے۔

امام زيلعي حنفی اپنی کتاب "تبیین الحقائق" میں فرماتے ہیں: شرط یہ ہے کہ آدمی اپنے دل میں جانتا ہو کہ وہ کون سی نماز پڑھ رہا ہے، اور اس کی کم از کم صورت یہ ہے کہ اگر اس سے پوچھا جائے تو بغیر سوچے جواب دے سکے، اور جہاں تک زبان سے نیت ادا کرنے کا تعلق ہے تو وہ شرط نہیں، البتہ اچھا ہے تاکہ اس کا عزم پختہ ہو جائے۔

علامہ حَصْكَفِي حنفی نے "الدر المختار" (ص: 23، طبع دار الکتب العلمیة) میں فرماتے ہیں: دل کی نیت اور زبان کے عمل کو جمع کرنا ایک درمیانی درجہ ہے، ان لوگوں کے درمیان جو نیت کو زبان سے ادا کرنے کو سنت قرار دیتے ہیں اور ان لوگوں کے درمیان جو اسے اس لئے مکروہ کہتے ہیں کہ سلف سے یہ عمل منقول نہیں ہے۔

علامہ ابن عابدین شامی، حاشیہ "الدر المختار" (1/127، طبع دار الفكر) میں فرماتے ہیں: ان کا قول "هذه" سے مراد وہ طریقہ ہے جس پر مصنف نے عمل کیا ہے، کہ انہوں نے نیت کو زبان سے ادا کرنا مستحب قرار دیا ہے، نہ اسے سنت کہا ہے اور نہ مکروہ قرار دیا ہے۔

علامہ خطیب شربینی "مغنی المحتاج" (1/343، طبع دار الكتب العلمية) میں فرماتے ہیں: نیت کو تکبیر سے کچھ پہلے زبان سے ادا کرنا مستحب ہے تاکہ زبان دل کی مدد کرے اور اس لئے بھی کہ یہ عمل وسوسے سے زیادہ دور رکھنے والا ہے۔

امام ابن قدامہ حنبلی "المغنی" (1/336، طبع مكتبة القاهرة) میں فرماتے ہیں: نیت کا معنی ارادہ ہے، اور اس کا محل دل ہے، اور اگر کوئی اپنی نیت کو زبان سے ادا کرے تو یہ محض تاکید کے طور پر ہوتا ہے۔

علامہ البُهُوتی حنبلی نے "کشاف القناع"(1/87، طبع عالم الکتب) میں فرمایا کہ نیت کو دل کے ساتھ ساتھ آہستہ سے زبان کے ساتھ ادا کرنا بہت سے متأخرین کے نزدیک مستحب ہے، تاکہ زبان اور دل میں موافقت ہو جائے۔ "الإنصاف" میں ہے کہ دوسرا قول یہ ہے کہ اسے آہستہ سے زبان کے ساتھ ادا کرنا مستحب ہے اور یہی مذہب ہے۔ "الفروع" میں اسے مقدم کیا گیا ہے اور ابن عبیدان، تلخیص، ابن تمیم اور ابن رَزین نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور زرکشی نے فرمایا کہ یہ بات اکثر متأخرین کے نزدیک زیادہ بہتر ہے۔

مالکیہ کے نزدیک نیت کو زبان سے ادا کرنا جائز ہے لیکن خلافِ اولیٰ ہے، البتہ جو شخص وسوسے میں مبتلا ہو اس کے لیے نیت کو زبان سے ادا کرنا مستحب ہے تاکہ اس کا وہم دور ہو جائے۔

شیخ دردیر مالکی "الشرح الکبیر" (1/233-234، طبع دار الفكر) میں فرماتے ہیں کہ نماز کے وقت نیت کو زبان سے ادا کرنا، مثلاً یہ کہنا کہ میں ظہر کی فرض نماز کی نیت کرتا ہوں، جائز ہے لیکن خلافِ اولیٰ ہے، اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے نیت نہ کی جائے کیونکہ نیت کا محل دل ہے اور زبان کا اس میں کوئی دخل نہیں۔

علامہ دسوقی نے اس پر حاشیہ لگاتے ہوئے فرمایا کہ اس حکم سے وسوسے والے شخص کو مستثنیٰ قرار دیا جائے گا؛ کیونکہ ایسے شخص کے لیے نیت کو اس طرح زبان سے ادا کرنا مستحب ہے جو نیت کے مفہوم پر دلالت کرے، تاکہ اس کا وہم اور الجھن دور ہو جائے، جیسا کہ "المواق" میں آیا ہے۔ اور یہی وہ وضاحت ہے جسے ہمارے شارح نے اختیار کیا ہے، کہ "واسع" سے مراد یہ ہے کہ یہ خلافِ اولیٰ ہے۔

حنابلہ کے نزدیک امام احمد بن حنبل سے منقول ایک قول کے مطابق نیت کو زبان سے ادا کرنا مستحب نہیں ہے۔

علامہ مرداوی حنبلی "الإنصاف" (1/142، طبع دار إحياء التراث العربي) میں فرماتے ہیں کہ ایک قول کے مطابق نیت کو زبان سے ادا کرنا مستحب نہیں ہے۔

اور فتویٰ کے لیے مختار قول یہ ہے کہ نماز کے وقت نیت کو زبان سے ادا کرنا مشروع اور مستحب ہے، خصوصاً جب اس سے نمازی کو نیت کو دل میں مستحضر رکھنے اور نماز پر مکمل توجہ قائم کرنے میں مدد ملے۔

اور چونکہ نیت کو زبان سے ادا کرنا مشروع ہے، اس لیے اسے صرف اس حد تک ہونا چاہیے کہ انسان خود سن سکے، اور جائز نہیں کہ اسے اس طرح بلند آواز سے ادا کیا جائے کہ دوسرے نمازیوں کو خلل ہو یا جماعت کی نماز میں انتشار اور بے چینی پیدا ہو، جیسا کہ اکثر اوقات دیکھا جاتا ہے۔

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کے جواب میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ نماز کا ارادہ کرتے وقت نیت کو زبان سے ادا کرنا مشروع اور مستحب ہے، خصوصاً جب اس سے نمازی کو نیت کو دل میں مستحضر رکھنے اور نماز پر مکمل توجہ قائم کرنے میں مدد ملے۔ البتہ اسے اس انداز سے ادا کیا جائے کہ نمازی خود سن سکے، تاکہ دوسروں کو کسی قسم کی تکلیف یا خلل نہ ہو۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas