حیوان کی شکل میں بنی ہوئی مٹھائی کو...

Egypt's Dar Al-Ifta

حیوان کی شکل میں بنی ہوئی مٹھائی کو زندہ جانور کے سامنے کاٹنے کا حکم

Question

حیوان کی شکل میں بنی ہوئی مٹھائی کو کسی زندہ جانور کے سامنے اس کو ڈرانے کے لیے کاٹنے کا کیا حکم ہے؟ کیونکہ سوشل میڈیا پر کچھ ویڈیوز پھیلی ہیں جن میں بعض لوگ ایک جانور کی شکل والی کیک کو اسی جنس کے زندہ جانور کے سامنے کاٹتے ہیں، جس سے اس جانور پر خوف اور گھبراہٹ کے آثار ظاہر ہوتے ہیں، تو اس طرزِ عمل کے بارے میں شریعت کا کیا موقف ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد: سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان ویڈیوز میں جہاں کچھ لوگ کیک یا آٹے سے بنے ہوئے جانوروں کے مجسموں کو ذبح کرنے کی نقل کرتے ہیں اور یہ کام اسی جنس کے کسی زندہ جانور کے سامنے کرتے ہیں، جس سے اس جانور پر خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں- جسے "حیوانی مٹھائی کو ذبح کرنا" کے ٹرینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے- یہ شرعاً حرام ہے؛ کیونکہ اس سے زندہ جانور کو نفسیاتی اذیت پہنچتی ہے، اور یہ رحمت اور احسان کے اس عظیم مقصد کی صریح خلاف ورزی ہے جسے شریعتِ مطہرہ نے تمام جاندار مخلوقات کے حق میں قائم کیا ہے۔

تفصیل…

شریعتِ اسلامی میں رحمت، احسان اور نرمی کی ترغیب

شریعتِ مطہرہ رحمت، عدل، احسان اور نرمی جیسے عظیم مقاصد کے ساتھ آئی ہے، اور اس کی توجہ صرف انسان تک محدود نہیں بلکہ اس نے اپنی نظرِ عنایت کا دائرہ جانوروں تک بھی وسیع کیا ہے اور ان کے لئے بھی حقوق مقرر کیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾ [البقرة: 195]، ترجمہ:"اور احسان کرو، بے شک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے﴾۔ اور جرير بن عبد الله رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا” اسے امام بخاری نے روایت کیا اور الفاظ انہی کے ہیں، نیز امام مسلم نے بھی اسے نقل کیا ہے۔

اسی طرح عبد الله بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ سیدنا محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “رحم کرنے والوں پر رحمٰن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا” اسے امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے، اور الفاظ ترمذی کے ہیں۔

حیوان کی شکل میں بنی ہوئی مٹھائی کو زندہ جانور کے سامنے کاٹنے کا حکم

موجودہ دور میں کچھ ایسے رویّے سامنے آئے ہیں جو جانوروں کے ساتھ اختیار کیے جا رہے ہیں، جن پر غور کرنا اور ان کے بارے میں شریعت کا حکم واضح کرنا ضروری ہے۔ انہی میں سے ایک وہ عمل ہے جو حالیہ عرصے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر "حلوائی جانور کو ذبح کرنا" کے ٹرینڈ کے نام سے عام ہوا ہے۔ یہ ایک نیا ڈیجیٹل طرزِ عمل ہے جس میں بعض کانٹینٹ بنانے والے لوگ مٹھائی یا آٹے سے بلیوں، کتوں وغیرہ جیسے پالتو جانوروں کی شکل کے مجسمے تیار کرتے ہیں، پھر اسی جنس کا ایک زندہ جانور اس مجسمے کے سامنے یا اس کے قریب لے آتے ہیں، اور اس کے بعد ویڈیو بنانے والا شخص اس مجسمے پر کسی تیز دھار آلے جیسے چھری وغیرہ کے ذریعے ذبح کرنے کی نقل کرتا ہے۔ یہ سب کچھ اس زندہ جانور کے سامنے کیا جاتا ہے، جو جیسے ہی یہ منظر دیکھتا ہے تو فوراً خوف سے کانپنے لگتا ہے اور اس پر گھبراہٹ، بے چینی، اندیشہ اور دور بھاگنے کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں، گویا وہ محسوس کرتا ہے کہ کوئی خطرہ اسے گھیر چکا ہے، یا وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس مجسمے کے بعد یہی عمل اس پر ہونے والا ہے اور لازماً اسے بھی نقصان پہنچے گا۔

یہ عمل اگرچہ بظاہر اکثر اوقات جانور کو براہِ راست جسمانی نقصان سے خالی نظر آتا ہےلیکن حقیقت میں یہ اسے نفسیاتی ضرور پہنچاتا ہے، جو اس پر طاری ہونے والے خوف، گھبراہٹ اور ذہنی دہشت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ بلکہ بعض حالات میں معاملہ بڑھ بھی جاتا ہے اور یہ اس کے جسمانی نقصان کا سبب بھی بن سکتا ہے، جیسے اس کے حیاتیاتی نظام میں خرابی پیدا ہو جانا یا اس کے بعض اعضاء متاثر ہو جانا، بلکہ کبھی یہ اس کی ہلاکت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ یہ سب اذیت کی صورتیں ہیں، اور اذیت کی تعریف امام مناوی نے اپنی کتاب "التوقیف على مهمات التعاریف" میں یوں بیان کی ہے: "وہ چیز جو کسی جاندار کو اس کی جان یا جسم میں نقصان یا تکلیف پہنچائے"۔ شریعتِ مطہرہ نے ایسی اذیت سے منع کیا ہے اور اس کے ارتکاب پر سختی سے روکا ہے؛ جیسا کہ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا محمد  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "نہ ابتداً کسی کو نقصان پہنچاؤ اور نہ بدلے میں کسی کو نقصان پہنچاؤ"۔ اس حدیث کو امام ابن ماجه نے روایت کیا ہے۔

فقہاء کی عبارات بھی اسی معنی کی تائید کرتی ہیں۔

امام شرف الدین النووی نے اپنی کتاب "المجموع" میں فرمایا: "جاندار کی حرمت اس بات میں ہے کہ اسے تکلیف پہنچانے سے روکا جائے"۔

اسی طرح امام زین الدین بن نجیم نے "البحر الرائق" میں لکھا: "اصل یہ ہے کہ جانور کو تکلیف پہنچانا شرعاً جائز نہیں، مگر اس صورت میں جب اس میں خود اسی کے لیے کوئی مصلحت ہو"۔

اور اس سے بڑھ کر اس بات کی کیا دلیل ہو سکتی ہے کہ شریعت جانور کے نفسیاتی پہلو کا بھی خیال رکھتی ہے کہ اس نے بعض جانوروں کو انسانوں کے فائدے اور معاش کے لیے ذبح کرنے کی اجازت دینے کے باوجود انسان کو اس عمل میں مطلقاً آزادی نہیں دی اور نہ ہی اسے اس کی خواہش اور ذاتی اندازے پر چھوڑا، بلکہ اس کے گرد مضبوط ضابطوں اور لازمی احکام کا ایک حصار قائم کیا ہے جو اسے احسان کا پابند بناتا ہے اور اسے سختی، بے رحمی، بے جا چھیڑ چھاڑ اور مثلہ (اعضاء کاٹنے) جیسے تمام اذیت ناک طریقوں سے روکتا ہے۔ حالانکہ بعض جانور جیسے چوپائے اس فطرت پر پیدا کیے گئے ہیں کہ بالآخر انہیں موت کا سامنا کرنا ہی ہے، لیکن یہ بات ذبح کرنے والے کو اس کی اجازت نہیں بن جاتی کہ وہ انہیں بے رحمی سے ذبح کرے یا ان کے دل میں خوف اور گھبراہٹ پیدا کرے، بلکہ اس پر لازم ہے کہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ نرم اور بہتر طریقہ اختیار کرے اور اس طرح جلدی جان نکالے کہ درد کم سے کم ہو، تکلیف میں اضافہ نہ ہو، ضرر بڑھنے نہ پائے اور جان نکلنے کا وقت طویل نہ ہو۔

شریعت نے ان مفاہیم کو ایسے عملی آداب کے ذریعے بھی نافذ کیا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے۔ ان میں سے نمایاں یہ ہیں: چھری کو تیز کرنا، ذبیحہ کو آرام دینا، اسے نرمی اور شفقت کے ساتھ لانا، چھری کو اس سے چھپا کر رکھنا، اور اسے ان جانوروں کی نظروں سے دور رکھنا جنہیں ذبح کیا جانا ہو؛ تاکہ احسان کا مقصد حاصل ہو اور اسے نفسیاتی و جسمانی اذیت کے اسباب سے بچایا جا سکے۔ کیونکہ اگرچہ جانور عقل نہیں رکھتے، لیکن وہ اپنے مالک کو پہچانتے ہیں اور موت کو بھی محسوس کرتے ہیں۔

چنانچہ شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو حدیثیں حفظ کی ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: “بے شک اللہ نے ہر چیز پر احسان کو لازم کیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے کرو، اور جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو، اور تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنی چھری کو تیز کرے اور اپنے ذبیحہ کو راحت پہنچائے”۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے ایک بکری کو ذبح کرنے کیلئے لٹا رکھا تھا، اور وہ اسی وقت اپنی چھری تیز کر رہا تھا، تو سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “کیا تم اسے کئی مرتبہ مارنا چاہتے ہو؟ تم نے اسے لٹانے سے پہلے اپنی چھری کیوں تیز نہ کر لی؟” اسے امام حاکم نے "المستدرک" میں روایت کیا اور الفاظ انہی کے ہیں، نیز امام بیہقی نے "السنن الکبریٰ" میں روایت کیا ہے۔

اور امام نووی نے "شرح صحیح مسلم" میں ذبح کرنے والے کے لیے مستحب امور بیان کرتے ہوئے فرمایا: “ذبیحہ کے سامنے چھری تیز نہ کرے، نہ ایک جانور کو دوسرے کے سامنے ذبح کرے، اور نہ ہی اسے گھسیٹ کر ذبح کرنے کی جگہ کی طرف لے کر جائے”۔

اور حافظ ابن رجب نے اپنی کتاب "جامع العلوم والحکم" میں امام احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہوئے بیان کیا کہ جانوروں کے ساتھ ذبح کے وقت کیا برتاؤ ہونا چاہیے: “انہیں نرمی کے ساتھ ذبح کے لیے لے جایا جائے، چھری کو ان سے چھپا کر رکھا جائے، اور صرف ذبح کے وقت ہی ظاہر کی جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا ہے کہ چھریاں چھپائی جائیں۔ اور فرمایا: جانوروں سے بعض چیزیں پوشیدہ رکھی جاتی ہیں مگر یہ بات ان سے پوشیدہ نہیں کہ وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انہیں مرنا ہے۔ اور ابن سابط سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: جانور ہر چیز پر پیدا کیے گئے ہیں، لیکن وہ اپنے رب کو پہچانتے ہیں اور موت سے ڈرتے ہیں”۔

اسی طرح امام مناوی نے "فیض القدیر" میں فرمایا: “ذبح کرنے والے کے لیے مستحب ہے کہ وہ قوت کے ساتھ تیزی سے کاٹے اور چھری کو آگے پیچھے حرکت دے، اور سب سے آسان اور کم تکلیف دینے والا طریقہ اختیار کرے جو جلدی جان نکالنے والا ہو، اور حتیٰ المقدور جانور کے ساتھ نرمی کرے، نہ اسے زور سے پٹخے، نہ ہی اسے سختی سے گھسیٹ کر ذبح کرنے کی جگہ کی طرف لے کر جائے، چھری کو تیز رکھے، اور کُند چھری سے ذبح کرنا حرام ہے جو صرف زیادہ زور لگانے سے کاٹتی ہو”۔

اور جب شریعت کا یہ طریقہ اُن جانوروں کے ساتھ ہے جن کا ذبح کرنا جائز قرار دیا گیا ہے، باوجود اس کے کہ ان کی ضرورت بھی ہے اور ان کی جان لینے میں مصلحت بھی ملحوظ ہے، تو پھر اُن جانوروں کے بارے میں اس کی رعایت اور بھی زیادہ مؤکد ہو جاتی ہے جن کا ذبح کرنا اصلًا حرام ہے، جیسے بلیاں اور کتے وغیرہ۔ بلکہ ایسے جانور ہر طرح کی اذیت سے بچائے جانے کے زیادہ مستحق ہیں اور ان کو ہر قسم کی زیادتی سے مکمل طور پر محفوظ رکھا جانا چاہیے، کیونکہ نہ ان کی جان لینے میں کوئی معتبر مصلحت ہے اور نہ ہی کوئی ایسی ضرورت جو ان کے ساتھ ایذاء کو جائز بنائے، لہٰذا انہیں تکلیف دینا خالص زیادتی، صریح جرم اور ایک ایسا عبث و فساد ہے جس سے شریعت نے منع کیا ہے۔

اور جانوروں کو کھیل تماشے یا دل لگی کا ہدف بنانے کی ممانعت میں وارد احادیث بھی کثرت کے ساتھ آئی ہیں۔

چنانچہ عبد الله بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “کسی روح والی چیز کو (نشانہ بازی کا) ہدف مت بناؤ۔” اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

امام سیوطی نے "شرح صحیح مسلم" میں اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: “اس سے مراد یہ ہے کہ زندہ جانور کو نشانہ نہ بنایا جائے جیسے چمڑے وغیرہ کے بنے ہوئے ہدف پر تیر چلایا جاتا ہے”۔

اور حدیث میں لفظ “غرضًا” چونکہ نکرہ اور نہی کے سیاق میں آیا ہے، اس لیے یہ عموم کا فائدہ دیتا ہے، جس میں جانور کو اذیت دینے کی تمام صورتیں شامل ہو جاتی ہیں، چاہے وہ براہِ راست ہوں جیسے مارنا یا تیر اندازی کرنا، یا بالواسطہ ہوں جیسے ڈرانا یا نفسیاتی خوف پیدا کرنا۔ اسی میں وہ جدید طرزِ عمل بھی داخل ہے جسے "حیوانی مٹھائی کو ذبح کرنے" کا ٹرینڈ کہا جاتا ہے۔

امام مناوی نے "فیض القدیر" میں اس ممانعت کے اندر پوشیدہ معانی اور اس کے قبح و فساد کے پہلو بیان کرتے ہوئے فرمایا: “اس میں اللہ کی مخلوق کے بارے میں جرأت، اس کی بے حرمتی اور محض کھیل کے طور پر اذیت دینا پایا جاتا ہے”۔

اور عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص پر لعنت فرمائی جو کسی ذی روح کو نشانہ بنائے۔ اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

امام نووی نے "شرح صحیح مسلم" میں اس وعید کی علت واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کئی خرابیاں جمع ہیں، جیسے جانور کو عذاب دینا، اس کی جان کو ضائع کرنا، اس کی مالیت کو ضائع کرنا، اگر وہ ذبح شدہ ہو تو اس کی ذبحیت کو بے فائدہ کرنا، اور اگر ذبح نہ کیا گیا ہو تو اس کے فائدے کو ضائع کر دینا۔

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کو سامنے رکھتے ہوئے کہا جائے گا کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ان ویڈیوز میں جہاں کچھ لوگ کیک یا آٹے سے بنے ہوئے جانوروں کے مجسموں کو ذبح کرنے کی نقل کرتے ہیں اور یہ کام اسی جنس کے کسی زندہ جانور کے سامنے کرتے ہیں، جس سے اس جانور پر خوف، گھبراہٹ اور بے چینی کے آثار ظاہر ہوتے ہیں- جسے "حیوانی مٹھائی کو ذبح کرنا" کے ٹرینڈ کے نام سے جانا جاتا ہے- یہ شرعاً حرام ہے؛ کیونکہ اس سے زندہ جانور کو نفسیاتی اذیت پہنچتی ہے، اور یہ رحمت اور احسان کے اس عظیم مقصد کی صریح خلاف ورزی ہے جسے شریعتِ مطہرہ نے تمام جاندار مخلوقات کے حق میں قائم کیا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas