مدینہ منورہ پہلے جانے والے شخص کے ل...

Egypt's Dar Al-Ifta

مدینہ منورہ پہلے جانے والے شخص کے لیے میقاتِ احرام

Question

ایک شخص مصر سے سیدھا مدینہ منورہ جا رہا ہے، تو کیا اس کے لیے جائز ہے کہ وہ "ابیارِ علی" (جو اہلِ مدینہ کا میقات ہے) سے احرام باندھے، یا اسے سفر سے پہلے ہی مصر سے احرام باندھ لینا چاہیے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ مذکورہ شخص جو مصر سے سیدھا مدینہ منورہ جا رہا ہے اور اہلِ مصر کے میقات "رابغ" سے نہیں گزر رہا، اس کے لیے میقاتِ احرام اہلِ مدینہ کا میقات "ابیارِ علی" ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی مصر سے روانگی سے قبل، یا ایئرپورٹ سے، یا کسی اور جگہ سے ہی احرام باندھ لے، اور اس میں نہ اس پر کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کوئی حرج ۔

 

حج اور عمرہ کی مشروعیت کی حکمت اور احرام کا مفہوم

اللہ تعالیٰ نے حج اور عمرہ دونوں کو بہت سی حکمتوں اور عظیم مقاصد کے لیے مشروع فرمایا ہے، ان دونوں میں مومنوں کے عزم و حوصلے کو تقویت ملتی ہے، اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان کی کامل بندگی اور دنیاوی مشاغل سے مکمل بے نیازی کا اظہار ہوتا ہے، تاکہ وہ اللہ کی رحمت کے امیدوار اور اس کی مغفرت کے طلبگار ہوں۔ دیکھیں: امام حجۃ الاسلام امام غزالی کی کتاب "إحياء علوم الدين" (1/266، دار المعرفة)۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک عمرہ کے بعد دوسرا عمرہ دونوں کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہے اور حج مبرور (مقبول) کی جزا جنت کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔

شرعی طور پر یہ بات طے ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان [﴿وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ﴾ یعنی "حج اور عمرہ کو اللہ کے لیے مکمل کرو"] پر صحیح عمل اسی وقت ممکن ہے جب ان کے مناسک کی رعایت کی جائے اور ان ممنوعات سے بچا جائے جو احرام کی حالت میں حاجی یا معتمر پر حرام ہو جاتے ہیں، جیسے مردوں کے لیے سلے ہوئے کپڑے پہننا، احرام کے بعد بدن یا کپڑوں پر خوشبو استعمال کرنا وغیرہ۔

جمہور فقہاء کے نزدیک احرام سے مراد یہ ہے کہ انسان دل میں حج یا عمرہ (یا دونوں، اگر قران کا ارادہ ہو) میں داخل ہونے کی نیت کرے، جبکہ فقہائے احناف اور بعض مالکی فقہاء کے نزدیک احرام اس وقت متحقق ہوتا ہے جب نیت کے ساتھ تلبیہ یا اس کے قائم مقام کوئی ذکر بھی شامل ہو۔([1])

مدینہ منورہ پہلے جانے والے شخص کے لیے میقاتِ احرام

شریعتِ مطہرہ نے حج یا عمرہ کا ارادہ کرنے والے شخص کے لیے احرام باندھنے کے مخصوص اور معین مقامات مقرر فرمائے ہیں، جنہیں "مواقيتِ مکانیہ" کہا جاتا ہے۔ یہ مقامات حرمِ مکی سے قرب و بُعد کے اعتبار سے مختلف ہیں، اور یہ اس سمت کے لحاظ سے ہیں جہاں سے حاجی یا معتمر آتا ہے۔ چنانچہ "ذوالحلیفہ" اہلِ مدینہ کا میقات ہے، جسے آج کل "ابیارِ علی" کہا جاتا ہے، اور "الجحفہ" اہلِ شام، مصر اور تبوک والوں کا میقات ہے، جسے آج کل "رابغ" کہا جاتا ہے، اور "قرن المنازل" اہلِ نجد اور طائف کا میقات ہے، جسے آج "السيل الكبير" کہا جاتا ہے، اور "یلملم" اہلِ یمن کا میقات ہے، جسے آج "السعدیہ" کہا جاتا ہے۔

ان میقاتوں کی تعیین کی اصل دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، آپ  رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ کو میقات مقرر کیا، شام والوں کے لیے حجفہ، نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم۔ یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہوں۔ یہاں تک کہ مکہ کے لوگ احرام مکہ ہی سے باندھیں۔ یہ حدیث امام بخاری اور امام مسلم نے روایت کی ہے، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔

پس آپ ﷺ کے اس فرمان « یہ میقات ان ملک والوں کے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے گزر کر حرم میں داخل ہوں » سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان مقامات سے احرام باندھنا صرف انہی علاقوں کے لوگوں کے ساتھ خاص نہیں ہے، بلکہ اگرچہ اصل میں یہ ان ہی کے لیے مقرر کیے گئے ہیں، لیکن جو دوسرے لوگ ان میقاتوں پر آئیں اور وہاں سے گزریں، وہ بھی وہیں سے احرام باندھیں گے، جیسا کہ امام مظہری کی کتاب "المفاتیح فی شرح المصابیح" میں مذکور ہے۔

اسی پر جمہور فقہاء یعنی احناف، مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نصوص متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے وطن سے حج یا عمرہ کی نیت سے نکلے اور راستے میں کسی دوسرے علاقے کے میقات سے گزرے اور پھر وہیں سے مکہ مکرمہ جائے، تو اس کا میقات وہی ہوگا جس علاقے کے میقات سے وہ گزرا ہے، کیونکہ اس کے وہاں سے گزرنے کی وجہ سے گویا وہی اس کا میقات بن گیا۔ بعض فقہاء نے اس کی مثال مصری لوگوں سے دی ہے کہ جب وہ مصر سے پہلے مدینہ منورہ جائیں اور پھر وہاں سے مکہ مکرمہ جائیں، تو اس صورت میں ان کا میقات اہلِ مدینہ کا میقات ہوگا، نہ کہ اہلِ مصر کا۔([2])

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ احرام کا اصل مقصد بیت اللہ شریف اور اس کے حرم کی تعظیم کرنا اور اس میں داخلے کے شرف و عظمت کو ظاہر کرنا ہے۔([3]) اور یہ تعظیم ہر اس میقات سے احرام باندھنے سے حاصل ہو جاتی ہے جس سے انسان گزرتا ہے، اس میں حاجی یا معتمر کے وطن یا اس ملک کا کوئی اعتبار نہیں جس سے وہ آیا ہو، جیسا کہ امام جوینی نے "نهاية المطلب" میں امام شافعی سے نقل کیا ہے۔

اس سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ حاجی یا معتمر کو اس کے گزرنے والے میقات سے احرام باندھنے کا حکم دینا، اور اسے اس کے اپنے ملک کے میقات کا پابند نہ بنانا، شریعتِ مطہرہ کی وسعت اور اس بات کی دلیل ہے کہ وہ مکلفین سے تنگی دور کرنے کا لحاظ رکھتی ہے؛ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے عموم کے مطابق ہے: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ ترجمہ:" اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا۔" اور فرمایا: ﴿مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ﴾ [المائدة: 6]، ترجمہ:" اللہ تم پر کوئی تنگی ڈالنا نہیں چاہتا، بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور تم پر اپنی نعمت پوری کرے تاکہ تم شکر گزار بنو۔" اور فرمانِ الٰہی ہے: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ [الحج: 78]. ترجمہ:" اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔"

اگر حاجی یا معتمر میقات تک پہنچنے سے پہلے یا کسی ایسے میقات سے گزرنے سے قبل احرام باندھنا چاہے جو اس کے اپنے ملک کا میقات نہ بھی ہو، جیسے اپنے گھر، ایئرپورٹ یا کسی اور جگہ سے احرام باندھ لے، تو اس پر اجماع نقل کیا گیا ہے کہ اس کا احرام صحیح منعقد ہو جاتا ہے، اگرچہ فقہاء کے درمیان اس کی تفصیل اور بعض اختلاف موجود ہے۔ اس اجماع کو متعدد ائمہ نے نقل کیا ہے، جن میں امام ابن المنذر نے "الإجماع" (ص: 51) میں اور امام ابن القطان نے "الإقناع" (1/250) میں ذکر کیا ہے، اور یہی قول فتویٰ کے لیے مختار ہے۔

خلاصہ

مذکورہ تفصیل کی بنا پر اور صورتِ مسئولہ میں یہ حکم ہے کہ مذکورہ شخص جو مصر سے سیدھا مدینہ منورہ جا رہا ہے اور اہلِ مصر کے میقات "رابغ" سے نہیں گزر رہا، اس کے لیے میقاتِ احرام اہلِ مدینہ کا میقات "ابیارِ علی" ہے، تاہم اس کے باوجود اس کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ اس سے پہلے ہی مصر سے روانگی سے قبل، یا ایئرپورٹ سے، یا کسی اور جگہ سے ہی احرام باندھ لے، اور اس میں نہ اس پر کوئی گناہ ہے اور نہ ہی کوئی حرج ۔  

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "رد المحتار" امام ابن عابدین حنفی (2/ 467، مطبوعہ دار الفكر)، اور "الشرح الكبير" امام ابو البرکات دردیر مالکی (2/ 21، مطبوعہ دار الفكر، مع حاشیہ امام دسوقی)، اور "حاشیہ امام سلیمان جمل شافعی علی شرح المنہج" (2/ 407، مطبوعہ دار الفكر)، اور "الروض المربع" امام ابو السعادات بہوتی حنبلی (ص: 285، مطبوعہ دار المؤید)۔

 

[2] المبسوط از شمسُ الائمہ سرخسی حنفی (4/ 167، مطبوعہ دار المعرفة)

الشرح الصغير از امام ابو البرکات دردیر مالکی (2/ 23، مطبوعہ دار المعارف)

المجموع از امام نووی شافعی (7/ 198، مطبوعہ دار الفكر)

كشاف القناع از امام ابو السعادات بہوتی حنبلی (2/ 465، مطبوعہ دار الكتب العلمية)

 

[3] المبسوط از شمس الائمہ سرخسی حنفی (4/ 167) اور رد المحتار از امام ابن عابدین حنفی (2/ 455)

Share this:

Related Fatwas