حجِ قران میں ایک شخص کی طرف سے حج ا...

Egypt's Dar Al-Ifta

حجِ قران میں ایک شخص کی طرف سے حج اور دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کا حکم

Question


حجِ قران کی صورت میں ایک شخص کی طرف سے حج اور دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کا کیا حکم ہے؟ ایک شخص کے والدین فوت ہو چکے ہیں، اور وہ چاہتا ہے کہ کسی کو وکیل بنائے تاکہ وہ اس کے والد کی طرف سے حج کرے اور اس کی والدہ کی طرف سے عمرہ ادا کرے، اس طرح کہ دونوں کو قران کے طور پر جمع کرے، تو کیا یہ جائز ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اس شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے والد کی طرف سے حج کرنے اور اپنی والدہ کی طرف سے عمرہ ادا کرنے کے لیے وکیل بنائے، اور ان دونوں کو حجِ قران کی صورت میں جمع کرے، البتہ اس صورت میں اس پر دمِ قران واجب ہوگا، اور اس دم میں ہدی پیش کرنا ضروری ہے، جو شریعت کے مطابق بکری، گائے، اونٹ، یا گائے/اونٹ کے ساتویں حصے کی صورت میں ہو سکتا ہے، جمہور فقہاء کا یہی موقف ہے، اور جو شخص اس کی استطاعت نہ رکھے وہ حج کے دوران تین دن اور واپس آنے کے بعد سات دن روزے رکھے۔

دوسرے کی طرف سے حج اور عمرہ کرنے کا حکم

حج ان عبادات میں سے ہے جن میں نیابت (کسی دوسرے کی طرف سے ادا کرنا) صرف عجز اور معذوری کی صورت میں جائز ہوتی ہے، مطلق طور پر نہیں، کیونکہ یہ عبادت مالی اور بدنی دونوں پہلو رکھتی ہے۔اور یہ موقف جمہور فقہاء یعنی احناف، شافعیہ اور حنابلہ کا ہے۔ لہٰذا ایک صاحبِ استطاعت مسلمان کے لیے جائز ہے کہ وہ فوت شدہ یا ایسے بیمار شخص کی طرف سے حج کرے جو خود حج ادا کرنے سے عاجز ہو۔ دوسرے کی طرف سے حج میں نیابت کے جواز کی اصل دلیل وہ حدیث ہے جو حضرت عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک عورت آئی اور اس نے عرض کیا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقہ میں دی تھی، پھر وہ فوت ہو گئی، آپ ﷺ نے فرمایا: "تمہیں اس کا اجر مل گیا اور وہ تمہیں میراث کے طور پر واپس مل گئی۔" اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ان پر ایک مہینے کے روزے واجب تھے، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ان کی طرف سے روزے رکھو۔" اس نے عرض کیا: انہوں نے کبھی حج نہیں کیا، کیا میں ان کی طرف سے حج کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: "ان کی طرف سے حج کرو۔" اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔

اور حضرت ابو رَزِین عُقیلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے والد بہت بوڑھے ہیں، وہ نہ حج کر سکتے ہیں، نہ عمرہ اور نہ ہی سفر کی طاقت رکھتے ہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اپنے والد کی طرف سے حج کرو اور عمرہ بھی ادا کرو۔" اسے ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی نے "فتح الباری" (4/69) میں فرمایا: اس حدیث سے یہ فائدہ حاصل ہوتا ہے کہ دوسرے کی طرف سے حج کرنا جائز ہے، اور کوفہ کے فقہاء نے اس کے عموم سے استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس شخص نے خود حج نہ کیا ہو وہ بھی دوسرے کی طرف سے حج کر سکتا ہے، لیکن جمہور فقہاء نے ان کی مخالفت کی ہے اور اس حکم کو اس شخص کے ساتھ خاص کیا ہے جس نے پہلے خود اپنا حج ادا کیا ہو۔

اور یہ شرط ہے کہ نائب (یعنی جسے کسی کی طرف سے حج کے لیے مقرر کیا جائے) پہلے خود اپنا فرض حج ادا کر چکا ہو، تاکہ وہ دوسرے کی طرف سے حج ادا کر سکے؛ اس کی دلیل وہ روایت ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے ہوئے سنا: "لبیک شبرمہ کی طرف سے"، آپ ﷺ نے فرمایا: "شبرمہ کون ہے؟" اس نے عرض کیا: میرا بھائی ہے یا کہا کہ میرا کوئی قریبی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: "کیا تم نے اپنا حج کیا ہے؟" اس نے کہا: نہیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "پہلے اپنا حج کرو، پھر شبرمہ کی طرف سے حج کرو۔" اسے ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔

حج میں "قِران" کا مفہوم

اگرچہ حج اور عمرہ دونوں الگ الگ عبادات ہیں، لیکن ان کی ادائیگی کے طریقوں میں سے ایک طریقہ "قران" ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حاجی حج اور عمرہ دونوں کو ایک ہی احرام میں جمع کر لے، یعنی وہ ایک ساتھ دونوں کی نیت کر کے احرام باندھے، یا پہلے عمرہ کا احرام باندھے پھر طوافِ عمرہ شروع کرنے سے پہلے اس میں حج کی نیت شامل کر لے، اور یہ سب حج کے مہینوں میں ہو، اور درمیان میں دونوں عبادات کے درمیان احرام ختم نہ کرے۔([1])

حجِ قران کی صورت میں ایک شخص کی طرف سے حج اور دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کا حکم

فقہاء کے درمیان اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ کیا حجِ قران کی صورت میں ایک شخص کی طرف سے عمرہ اور دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنا جائز ہے یا نہیں۔

احناف، بعض مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک یہ شرط نہیں ہے کہ دونوں مناسک (حج اور عمرہ) ایک ہی شخص کی طرف سے ہوں، بلکہ یہ جائز ہے کہ عمرہ ایک شخص کی طرف سے ہو اور حج دوسرے شخص کی طرف سے۔ البتہ جو شخص ایسا قران کرے یا کروائے اس پر دمِ قران لازم ہوگا، کیونکہ دونوں عبادات کو ایک ہی سفر میں جمع کیا گیا ہے، اور یہی قول فتویٰ کے لیے مختار ہے۔

جبکہ مالکیہ کے ظاہر مذہب اور شافعیہ کے نزدیک یہ شرط ہے کہ حج اور عمرہ دونوں ایک ہی شخص کی طرف سے ہوں، اور شافعیہ کے نزدیک مزید یہ بھی ہے کہ اس صورت دونوں اعمال فاعل یعنی کرنے والے ہی کے لیے واقع ہوتے ہیں ۔([2])

حجِ قِران میں ایک شخص کی طرف سے حج اور دوسرے کی طرف سے عمرہ کرنے کے حکم میں مفتیٰ بہ قول

اس میں فتویٰ کے لیے مختار قول یہ ہے کہ احناف، بعض مالکیہ اور حنابلہ کے نزدیک یہ جائز ہے کہ حجِ قران میں دونوں مناسک (حج اور عمرہ) دو مختلف افراد کی طرف سے واقع ہو سکتے ہیں، اور یہ شرط نہیں ہے کہ دونوں ایک ہی شخص کی طرف سے ہوں۔ یہ رائے شریعتِ مطہرہ کے اس اصول پر مبنی ہے کہ مکلفین سے تنگی دور کی جائے اور آسانی پیدا کی جائے، خاص طور پر حج کے باب میں، کیونکہ اس میں مشقت کا زیادہ احتمال ہوتا ہے۔ اس کی بنیاد "المشقة تجلب التيسير یعنی مشقت آسانی کو لازم کرتی ہے" کے قاعدے پر ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ "جب معاملہ تنگ ہو جائے تو وسعت پیدا ہو جاتی ہے"۔ دیکھیے: "الأشباه والنظائر" للسبکی (1/49، دار الكتب العلمية)۔

اور اس بنا پر حاجی کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں ادا کرے اور اسے "قارن" کہا جاتا ہے، اور یہ اس طرح ہوگا کہ وہ دونوں کے لیے ایک ساتھ احرام باندھے، یا پہلے عمرہ کا احرام باندھے پھر طوافِ عمرہ شروع کرنے سے پہلے اس میں حج کی نیت شامل کر لے، اور یہ سب حج کے مہینوں میں ہو، اور درمیان میں دونوں عبادات کے درمیان احرام ختم نہ کرے ۔

حج اور عمرہ کو قران کی صورت میں جمع کرنے والے (قارن) پر واجب ہونے والی ہدی کا حکم

فقہاء کرام کا اس بات پر اجماع ہے کہ قارن پر دمِ نسک واجب ہے۔ علامہ ابن القطان نے "الإقناع في مسائل الإجماع" (1/288، ط. الفاروق الحديثة) میں نقل کیا ہے: "قارن پر ہدی کے واجب ہونے پر اجماع ہے"۔

اس میں واجب ہدی (قربانی) یہ ہے کہ بکری، گائے یا اونٹ ذبح کیا جائے، یا گائے یا اونٹ کے ساتویں حصے میں شرکت کی جائے، جیسا کہ جمہور فقہاء کے نزدیک ہے۔ اور جو شخص اس کی استطاعت نہ رکھے تو وہ تین روزے حج کے دوران اور سات روزے واپسی کے بعد رکھے، قارن پر ہدی اس لیے واجب ہوتا ہے کہ وہ ایک ہی سفر میں دو عبادتیں (حج اور عمرہ) جمع کرتا ہے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ﴾ ترجمہ:" تو جو (تم میں) حج کے وقت تک عمرے سے (تمتع یعنی) فائدہ حاصل کرنا چاہے وہ جیسی قربانی میسر ہو کرے۔ اور جس کو (قربانی) نہ ملے وہ تین روزے ایام حج میں رکھے اور سات جب واپس ہو۔ یہ پورے دس ہوئے۔ " [البقرة: 196]۔

امام قرطبی نے اپنی تفسیر "تفسير القرطبي" (2/392، دار الكتب المصرية) میں فرمایا ہے: "اور قِران کو تمتع کے باب میں اس لیے شامل کیا گیا ہے کہ قارن دو بار مشقت برداشت کرنے سے بچ جاتا ہے؛ ایک بار عمرہ کے سفر کی اور دوسری بار حج کے سفر کی، اور وہ دونوں کو جمع کر لیتا ہے، نیز وہ ہر ایک کے لیے الگ الگ میقات سے احرام نہیں باندھتا بلکہ حج کو عمرہ کے ساتھ ملا دیتا ہے، اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت آ جاتا ہے: ﴿فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ﴾۔

اور تمتع کی یہ صورت ایسی ہے جس کے جواز میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے؛ لہٰذا متمتع پر ہدی (قربانی) کے جو احکام ہیں، وہی احکام قارن پر بھی لاگو ہوتے ہیں۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع فرمایا، اور آپ ﷺ نے قربانی بھی کی اور ذوالحلیفہ سے ہدی کو اپنے ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ آپ ﷺ نے ابتدا عمرہ کے احرام سے کی، پھر حج کا احرام باندھا، اور لوگوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عمرہ کو حج کے ساتھ ملا کر تمتع کیا۔ ان میں سے بعض لوگوں نے قربانی کی تھی اور ہدی کو ساتھ لے کر گئے تھے، اور بعض نے قربانی نہیں کی۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا: " تم میں سے جو قربانی لے کر آیا ہے وہ ان چیزوں سے جنہیں اس نے (احرام باندھ کر) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پورا نہ کرے۔ اور جو شخص قربانی نہیں لایا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جائے (اور آٹھ ذوالحجہ کو) پھر حج کا (احرام باندھ کر) تلبیہ پکارے (اور رمی کے بعد) قربانی کرے۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دوران میں اور سات دن گھر لوٹ کر روزے رکھے۔ "۔ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔

اور قارن کا حکم ہدی کے وجوب میں متمتع کی طرح ہے، کیونکہ متمتع پر دم اس لیے واجب ہوتا ہے کہ اس نے دو عبادات (حج اور عمرہ) کو ایک ہی وقت کے احرام کے ساتھ جمع کیا، تو قارن پر دم بدرجۂ اولیٰ واجب ہوگا، کیونکہ اس نے دونوں عبادات کو ایک ہی احرام میں جمع کیا ہے۔

خلاصہ
مذکورہ تفصیل کی بنا پر اور صورتِ مسئولہ میں یہ جائز ہے کہ اس شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی دوسرے کو اپنے والد کی طرف سے حج کرنے اور اپنی والدہ کی طرف سے عمرہ ادا کرنے کے لیے وکیل بنائے، اور ان دونوں کو حجِ قران کی صورت میں جمع کرے، البتہ اس صورت میں اس پر دمِ قران واجب ہوگا،  اور اس کا حج صحیح اور کافی ہوگا، اور اسی طرح ہر اس شخص کی طرف سے عمرہ بھی صحیح اور مجزی ہوگا جس کی طرف سے وہ نیابت کر رہا ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "المبسوط" للسرخسی (4/25)، "بداية المجتهد" لابن رشد (2/100)، "المهذب" للشيرازی (1/368)، اور "المغنی" لابن قدامہ (3/260)۔

[2] "الهداية" للعلامة المرغيناني الحنفي (1/179، ط. دار إحياء التراث العربي) ، و"العناية شرح الهداية" للعلامة أكمل الدين البابرتي الحنفي (3/152، ط. دار الفكر)، و"مواهب الجليل" للإمام الحطاب المالكي (2/559-560، ط. دار الفكر)، و"الغرر البهية" لشيخ الإسلام زكريا الأنصاري الشافعي (2/260-261، ط. المطبعة الميمنية)، و"كشاف القناع" للعلامة أبي السعادات البهوتي الحنبلي (2/413-414، ط. دار الفكر)۔

 

Share this:

Related Fatwas