احرام کی ممنوعات کا بیان

Egypt's Dar Al-Ifta

احرام کی ممنوعات کا بیان

Question

احرام کی حالت میں کن چیزوں سے منع کیا گیا ہے؟ اور کیا یہ احکام مردوں اور عورتوں کے لیے الگ الگ ہیں؟ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں، اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ احرام کی حالت میں کچھ کام ایسے ہیں جن سے مُحرِم کو پرہیز کرنا ضروری ہے جب تک وہ احرام میں ہو۔ ان میں بعض کام مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہیں، جیسے بدن یا کپڑے میں خوشبو لگانا، جسم کے کسی بھی حصے کے بال کاٹنا یا ان کو کھینچنا، ناخن کاٹنا، تراشنا یا کسی بھی طریقے سے انہیں ختم کرنا، شکار کرنا، حرم کے درختوں کو کاٹنا اور جماع اور اس کے مقدمات جیسے شہوت کے ساتھ بوسہ لینا اور جسمانی تعلق قائم کرنا وغیرہ، نیز نکاح کرنا—اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔

اور بعض ممنوعات صرف مردوں کے ساتھ خاص ہیں، جیسے سلے ہوئے یا جسم کے مطابق فِٹ کپڑے پہننا اور سر کو ایسے کپڑے سے ڈھانپنا جو اسے مکمل طور پر چھپانے والا اور سر سے ملا ہوا ہو۔

اور بعض ممنوعات صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، جیسے نقاب یا کسی اور چیز کے ذریعے چہرہ ڈھانپنا، اور اسی طرح ہاتھوں کو ڈھانپنا بھی۔ عورت کو ہر قسم کے کپڑے پہننے کی اجازت ہے، لیکن وہ نقاب یا اس جیسی چیز سے چہرہ اور دستانوں وغیرہ سے ہاتھ نہیں ڈھانپ سکتی۔

تفصیلات۔۔۔

احرام کا مفہوم

احرام سے مراد حج یا عمرہ کے لیے تلبیہ کہنا اور اس میں داخل ہونا ہے۔ اسے “احرام” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس کے ذریعے انسان ایک ایسے عمل میں داخل ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس پر بعض وہ چیزیں حرام ہو جاتی ہیں جو پہلے اس کے لیے حلال تھیں، کیونکہ لغت میں “حَرُم” کا معنی منع اور سختی ہے۔

یہ لغوی معنی فقہی تعریف میں بھی ملحوظ رکھا گیا ہے، کیونکہ جمہور فقہاء کے نزدیک احرام سے مراد حج یا عمرہ کی نیت کرنا ہے، جبکہ احناف اور بعض مالکیہ کے نزدیک احرام نیت کے ساتھ تلبیہ کے مل جانے سے مکمل ہوتا ہے۔([1])

احرام کی وہ ممنوعات جن میں مرد اور عورت دونوں شریک ہیں

فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احرام کے کچھ ممنوعات ہیں جن سے مُحرم کو حالتِ احرام میں اجتناب کرنا لازم ہے۔ ان میں بعض وہ ہیں جو مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے مشترک ہیں، بعض صرف مردوں کے ساتھ خاص ہیں، اور بعض صرف عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں۔ ان مشترکہ ممنوعات میں سے کچھ یہ ہیں:

بدن یا کپڑے میں خوشبو لگانا ممنوع ہے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص کے جواب میں، جس نے محرم کے لباس کے بارے میں سوال کیا تھا، فرمایا: “محرم نہ قمیص پہنے، نہ عمامہ، نہ پاجامہ، نہ ٹوپی والا جبہ، اور نہ ایسا کپڑا جسے ورس یا زعفران لگا ہو۔” (متفق علیہ)

اسی طرح ان میں بال کاٹنا یا جسم کے کسی بھی حصے کے بالوں کو کھنچنا، ناخن کاٹنا، تراشنا یا کسی بھی ذریعے سے انہیں ختم کرنا، اور خشکی کے جنگلی جانوروں کا شکار کرنا اور حرم کے درختوں کو کاٹنابھی شامل ہے۔

اسی طرح مرد اور عورت دونوں پر جماع اور اس کے مقدمات بھی حرام ہیں، جیسے جسمانی تعلق قائم کرنا اور شہوت کے ساتھ بوسہ لینا وغیرہ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَعْلُومَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ﴾ [البقرة: 197] ترجمہ: حج کے چند معروف مہینے ہیں، پس جو ان میں (اپنے اوپر) حج فرض کر لے تو حج کے دوران نہ جماع ہو ، نہ گناہ ہو، اور نہ جھگڑا۔

اسی میں نکاح کا عقد بھی شامل ہے، اگرچہ اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ جمہور فقہاء یعنی مالکیہ، شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک حالتِ احرام میں نکاح کا عقد کرنا جائز نہیں، چاہے عقد کرنے والا مرد ہو یا عورت، اپنے لیے کرے یا کسی دوسرے کے لیے۔([2])۔ اس کی دلیل امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “محرم نہ نکاح کرے، نہ نکاح کروائے، اور نہ پیغامِ نکاح دے” (اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے)۔

جبکہ احناف، سفیان الثوری، ابراہیم نخعی اور عطاء بن أبي رباح — اور یہی قول عبد الله بن عباس اور عبد الله بن مسعود رضی اللہ عنہم سے بھی منقول ہے — اس بات کے قائل ہیں کہ محرم کا نکاح کرنا جائز ہے، خواہ محرم مرد ہو یا عورت، وہ خود عقد کرے یا کسی دوسرے کو وکیل بنائے۔ البتہ دخول (ازدواجی تعلق) کو احرام سے فارغ ہونے تک مؤخر کرنا واجب ہے۔([3])

احرام کی وہ ممنوعات جو صرف مردوں کے ساتھ خاص ہیں

جہاں تک مردوں کے ساتھ مخصوص ممنوعات کا تعلق ہے تو ان میں سلے ہوئے یا جسم کے مطابق فِٹ کپڑے پہننا شامل ہے، چاہے وہ سلائی والے ہوں یا بغیر سلائی کے، اگر وہ عام لباس کی شکل میں ہوں۔ اسی طرح سر کو ایسے کپڑے یا چیز سے ڈھانپنا جو اسے مکمل طور پر ڈھانپنے والا اور سر سے ملا ہوا ہو۔([4])۔ اس کی دلیل عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ہمیں احرام کی حالت میں کون سے کپڑے پہننے کا حکم دیتے ہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “قمیص نہ پہنو، نہ پاجامے، نہ عمامے، نہ ٹوپی والے جبے، سوائے اس کے کہ کسی کے پاس جوتے نہ ہوں تو وہ موزے پہن لے، لیکن انہیں ٹخنوں سے نیچے کاٹ لے” (بخاری)۔

احرام کی وہ ممنوعات جو صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہیں

جہاں تک عورت کے ساتھ مخصوص ممنوعات کا تعلق ہے تو ان میں نقاب یا کسی اور ذریعے سے چہرہ ڈھانپنا شامل ہے، اسی طرح دستانے پہن کر ہاتھوں کو ڈھانپنا بھی ممنوع ہے؛ کیونکہ عورت کا احرام چہرے اور ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ البتہ عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ ایسا پردہ کرے جو چہرے سے الگ اور دور ہو، یعنی کپڑا اس طرح لٹکائے جو چہرے کو نہ چھوئے۔ اگر اتفاقاً کپڑا چہرے کو چھو بھی جائے اور وہ فوراً ہٹا دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔([5]

اس کی دلیل عبد الله بن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “محرم عورت نقاب نہ پہنے اور نہ دستانے استعمال کرے” (بخاری)۔

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق: احرام کی حالت میں کچھ کام ایسے ہیں جن سے مُحرِم کو پرہیز کرنا ضروری ہے جب تک وہ احرام میں ہو۔ ان میں بعض کام مرد اور عورت دونوں کے لیے مشترک ہیں، جیسے بدن یا کپڑے میں خوشبو لگانا، جسم کے کسی بھی حصے کے بال کاٹنا یا ان کو کھینچنا، ناخن کاٹنا، تراشنا یا کسی بھی طریقے سے انہیں ختم کرنا، شکار کرنا، حرم کے درختوں کو کاٹنا اور جماع اور اس کے مقدمات جیسے شہوت کے ساتھ بوسہ لینا اور جسمانی تعلق قائم کرنا وغیرہ، نیز نکاح کرنا—اس میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔

اور بعض ممنوعات صرف مردوں کے ساتھ خاص ہیں، جیسے سلے ہوئے یا جسم کے مطابق فِٹ کپڑے پہننا اور سر کو ایسے کپڑے سے ڈھانپنا جو اسے مکمل طور پر چھپانے والا اور سر سے ملا ہوا ہو۔

اور بعض ممنوعات صرف عورتوں کے ساتھ خاص ہیں، جیسے نقاب یا کسی اور چیز کے ذریعے چہرہ ڈھانپنا، اور اسی طرح ہاتھوں کو ڈھانپنا بھی۔ عورت کو ہر قسم کے کپڑے پہننے کی اجازت ہے، لیکن وہ نقاب یا اس جیسی چیز سے چہرہ اور دستانوں وغیرہ سے ہاتھ نہیں ڈھانپ سکتی۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1]  "درر الحكام شرح غرر الأحكام" ملا خسرو الحنفي (1/219، ط. دار إحياء الكتب العربية)

"شرح الرسالة لابن أبي زيد القيرواني" أحمد زروق المالكي (1/527، ط. دار الكتب العلمية)

"فتوحات الوهاب" سليمان الجمل الشافعي (2/407، ط. دار الفكر)

"الروض المربع" البهوتي الحنبلي (ص: 285، ط. دار المؤيد)

[2]  "كفاية الطالب الرباني وحاشيته" علي بن خلف المنوفي المالكي (2/75، ط. دار الفكر)
"مغني المحتاج" الخطيب الشربيني الشافعي (4/258، ط. دار الكتب العلمية)
"كشاف القناع" البهوتي الحنبلي (2/441، ط. عالم الكتب)

[3] "الاختيار لتعليل المختار" ابن مودود الموصلي الحنفي (3/89، ط. مطبعة الحلبي)

[4] "مغني المحتاج" الخطيب الشربيني الشافعي (2/18)
"كشاف القناع" البهوتي الحنبلي (2/425)
"الإقناع في مسائل الإجماع" ابن القطان (1/261)
"الاستذكار" ابن عبد البر (4/14، ط. دار الكتب العلمية)

[5] "طرح التثريب في شرح التقريب" الحافظ العراقي (5/46، ط. دار إحياء التراث العربي)
"المبسوط" السرخسي الحنفي (4/128، ط. دار المعرفة)
"شرح مختصر خليل" الخراشي المالكي (2/345، ط. دار الفكر للطباعة)
"تحفة الحبيب على شرح الخطيب" البجيرمي الشافعي (2/451-452، ط. دار الفكر)
"المغني" ابن قدامة (3/301، ط. مكتبة القاهرة)

Share this:

Related Fatwas