اسلام میں حجاب کا حکم
Question
اسلام میں حجاب کا کیا حکم ہے؟ خاص طور پر بالغ عورت کے سر کے بال ڈھانپنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ بالغ مسلمان عورت کا حجاب کرنا -جس میں سر کے بالوں کو ڈھانپنا بھی شامل ہے- شرعاً واجب ہے۔ یہ حکم ہر اس عورت کے لیے ہے جو سنِّ تکلیف یعنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہو۔ اس پر قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ مطہرہ دونوں کی واضح نصوص دلالت کرتی ہیں، اور زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک متقدمین و متاخرین تمام مسلمان علماء کا اس پر اجماع رہا ہے، اور اس مسئلے میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔
تفصیل....
مسلمان عورت پر حجاب کے فرض ہونے کا بیان
یہ بات شرعاً طے شدہ ہے، اور اس پر پوری امتِ مسلمہ کے علماء، مجتہدین، ائمہ، فقہاء اور محدثین کا اجماع ہے کہ ہر وہ مسلمان عورت جو سنِ تکلیف یعنی بلوغت کی عمر کو پہنچ گئی ہو اس پر حجاب واجب ہے۔ سنِ تکلیف سے مراد وہ عمر ہے جس میں لڑکی کو حیض آنا شروع ہو جائے اور وہ عورتوں کی عمر کو پہنچ جائے۔ اس کے بعد اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے پورے جسم کو ڈھانپے، اور اس میں سر کے بال بھی شامل ہیں، سوائے چہرے اور دونوں ہاتھوں کے۔ بعض علماء نے دونوں پاؤں کے ظاہر کرنے کی بھی اجازت دی ہے، اور بعض نے ضرورت کے تحت ان حصوں کے ظاہر ہونے کی بھی گنجائش دی ہے جو عموماً کام کاج کے دوران سامنے آ جاتے ہیں، جیسے کنگن کی جگہ یا لین دین کے وقت بازو کا کچھ حصہ۔ لیکن اس کے علاوہ باقی تمام جسم کو ڈھانپنے کے وجوب میں مسلمانوں میں کبھی کسی نے اختلاف نہیں کیا۔ کیونکہ یہ حکم قرآن و سنت کی صریح نصوص سے ثابت ہے، اور امت کا اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ اسی وجہ سے عہدِ رسالتِ مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لے کر آج تک تمام مسلمانوں کا ہمیشہ اسی پر عمل چلا آ رہا ہے۔
حجاب کے فرض ہونے پر قرآن، سنت اور اجماع سے دلائل
حجاب کے فرض ہونے کے دلائل کی تفصیل یہ ہے:
جہاں تک قرآنِ کریم کا تعلق ہے، تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿يَاأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ﴾ ترجمہ: " اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی بیٹیوں اور مومنوں کی عورتوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی چادروں کا کچھ حصہ اپنے آپ پر لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ قریب ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انھیں تکلیف نہ پہنچائی جائے اور اللہ ہمیشہ سے بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والاہے۔" [الأحزاب: 59]۔
اس آیت کے نزول کا پس منظر یہ تھا کہ عورتیں اپنے بال، گردنیں اور سینے کا کچھ حصہ ظاہر رکھتی تھیں، تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اس سے منع فرمایا، اور حکم دیا کہ وہ اپنی چادریں ان جگہوں پر لٹکا لیا کریں جنہیں وہ کھلا رکھتی تھیں، تاکہ بدکار لوگ ان کی پاکدامنی، پردہ داری اور باحیا ہیئت کو دیکھ کر ان کو نہ چھیڑیں۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فرمان ﴿وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ﴾ سے بیان کر دیا کہ یہ حکم تمام مومن عورتوں کے لیے عام ہے۔
امام مقاتل بن سلیمان نے اپنی تفسیر میں فرمایا: یعنی یہ طریقہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ وہ اپنے لباس اور ہیئت سے پہچان لی جائیں کہ وہ بدکردار عورتیں نہیں ہیں، بلکہ پاک دامن ہیں، لہٰذا کوئی شخص ان کے بارے میں بری خواہش نہ رکھے۔
اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے: ﴿وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُولِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِنْ زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ ترجمہ: "اور مومن عورتوں سے فرما دیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر جو اس میں سے ظاہر ہو جائے اور اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالے رہیں اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے لیے، یا اپنے باپوں، یا اپنے خاوندوں کے باپوں، یا اپنے بیٹوں، یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں، یا اپنے بھائیوں، یا اپنے بھتیجوں، یا اپنے بھانجوں، یا اپنی عورتوں (کے لیے)، یا (ان کے لیے) جن کے مالک ان کے دائیں ہاتھ بنے ہیں، یا تابع رہنے والے مردوں کے لیے جو شہوت والے نہیں، یا ان لڑکوں کے لیے جو عورتوں کی پردے کی باتوں سے واقف نہیں ہوئے اور اپنے پاؤں (زمین پر) نہ ماریں، تاکہ ان کی وہ زینت معلوم ہو جو وہ چھپاتی ہیں اور تم سب اللہ کی طرف توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔" [النور: 31]۔
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں۔ خُمُر، خمار کی جمع ہے، اور عربی زبان میں عورت کے خمار سے مراد وہ چیز ہے جس سے وہ اپنا سر ڈھانپتی ہے، جیسا کہ علامہ فیومی نے المصباح المنیر میں بیان کیا ہے۔
اور الجُیوب، جَیب کی جمع ہے، اور قمیص کے جَیب سے مراد اس کا گلا ہے، یعنی وہ حصہ جو گردن سے کھلا ہوتا ہے، جیسا کہ علامہ فیومی نے المصباح المنیر میں اور علامہ زبیدی نے تاج العروس میں بیان کیا ہے۔س
پس آیتِ کریمہ میں مقصود کو نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے، کیونکہ خمار کو گریبان پر ڈالنے کا مطلب لازماً یہ ہے کہ بال، گردن اور سینہ ڈھانپا جائے۔ اور چہرے پر ڈالنے کے بجائے گریبان پر ڈالنے کا حکم دینا اس بات پر بھی دلالت کرتا ہے کہ چہرہ کھلا رہے۔ یہ نہایت بلیغ، فصیح، روشن اور واضح کلام ہے۔
امام طبری نے جامع البيان میں فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عورتیں اپنی اوڑھنیاں، اور خُمُر خمار کی جمع ہے، اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، تاکہ اس کے ذریعے اپنے بالوں، گردنوں اور کانوں کے زیورات کو چھپا لیں۔
امام ابن حزم نے المحلّٰی میں فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ڈالیں، اور یہ سترِ عورت، گردن اور سینہ ڈھانپنے پر صریح نص ہے، اور اسی میں چہرہ کھلا رکھنے کے جواز کی بھی صراحت موجود ہے۔
اور امام قرطبی نے الہدایة إلى بلوغ النهایة میں فرمایا: یعنی عورتیں اپنی اوڑھنیاں، اور اپنی چادریں اپنے گریبانوں پر ڈال لیا کریں، تاکہ وہ اپنے بالوں اور گردنوں کو چھپا لیں۔
اور جہاں تک سنت کا تعلق ہے، تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضرت اسماء بنت ابی بکر صدیق رضی اللہ عنہما سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور ان کے جسم پر باریک کپڑے تھے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے رخِ انور پھیر لیا اور فرمایا: اے اسماء! جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے جسم کا کوئی حصہ نظر آنا درست نہیں، سوائے اس اور اس کے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چہرۂ انور اور دونوں ہتھیلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ اسے امام ابو داود نے روایت کیا ہے (اور یہ الفاظ انہی کے ہیں)، امام الطبراني نے "مسند الشاميين" میں، امام ابن عدي نے "الكامل" میں، اور امام البيهقي نے "السنن الكبرى"، "الآداب" اور "شعب الإيمان" میں روایت کیا ہے۔
اور امّ المؤمنین سیدہ امّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھیں کہ اتنے میں ابنِ امّ مکتوم آئے اور اندر داخل ہوئے، اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب ہمیں حجاب کا حکم دیا جا چکا تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں ان سے پردہ کرو۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! وہ تو نابینا ہیں، نہ ہمیں دیکھ سکتے ہیں اور نہ پہچانتے ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم دونوں بھی نابینا ہو؟ کیا تم انہیں نہیں دیکھتیں؟ اس حدیث کو امام ابو داود اور امام ترمذی نے روایت کیا ہے۔
اور محمد بن اسامہ بن زید اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے ایک موٹا قبطی کپڑا عطا فرمایا، جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کے ہدیے میں آنے والے کپڑوں میں سے تھا۔ تو میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے وہ قبطی کپڑا کیوں نہیں پہنا؟ میں نے عرض کیا: میں نے وہ اپنی بیوی کو پہنا دیا ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے حکم دو کہ اس کے نیچے ایک اور کپڑا پہن لے، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ کپڑا اس کی ہڈیوں کے خدوخال کو نمایاں کر رہا ہو گا۔ اس حدیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے۔
اور امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے، تو ان کی ایک لونڈی چھپ گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا اسے حیض آنا شروع ہو گیا ہے؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنےعمامہ مبارک کا ایک حصہ پھاڑ کر اسے دیا اور فرمایا: اس سے اوڑھ لیا کرو۔ اس حدیث کو امام ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔
اور جہاں تک اجماع کا تعلق ہے، تو امتِ مسلمہ کے سلف وخلف تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حجاب واجب ہے، اور اس میں سر کے بالوں کو ڈھانپنا بھی شامل ہے۔
امام ابن حزم نے مراتب الإجماع میں فرمایا: اس بات پر سب کا اتفاق ہے کہ آزاد عورت کے بال اور اس کا پورا جسم، سوائے چہرے اور ہاتھوں کے، ستر ہے۔
اور حافظ ابو عمر ابن عبد البر نے التمہید میں فرمایا: علماء کا اس پر اجماع ہے کہ احرام کی حالت میں عورت کو چہرہ کھلا رکھنا ہے، سر نہیں، اور حالتِ احرام میں وہ اپنے سر کو ڈھانپے گی اور اپنے بالوں کو چھپائے گی۔
اور امام ابن عبد البر نے الاستذکار میں فرمایا: حجاز اور عراق کے فقہائے امصار کا اسی بات پر عمل ہے کہ آزاد عورت پر لازم ہے کہ وہ اپنے پورے جسم کو ایک موٹے، کشادہ اور پورا ڈھانپنے والے لباس سے چھپائے، اور اپنے سر پر چادر اوڑھے۔
اور امام ابو المظفر سمعانی نے قواطع الأدلة میں فرمایا: اصل یہ ہے کہ عورت کا پورا بدن ستر ہے، اور اس پر لازم ہے کہ وہ پردہ کرے اور زینت کی نمائش سے بچے۔ البتہ چہرہ ضرورت اور حاجت کی جگہ ہے، کیونکہ معاملات کے وقت اس کی شناخت اور پہچان چہرہ دیکھے بغیر ممکن نہیں، نیز اس کے لین دین اور معاشرتی ضرورتوں کی تکمیل بھی اسی پر موقوف ہے۔ لیکن بالوں کے ظاہر کرنے کی کسی حال میں کوئی ضرورت نہیں، لہٰذا وہ بھی اس کے باقی جسم کی طرح ہیں۔
لہٰذا عورت پر حجاب کا وجوب، یعنی ایسا پردہ جو اس کے پورے جسم کو ڈھانپ لے، سوائے چہرے، دونوں ہتھیلیوں، دونوں پاؤں اور بعض حالات میں بازو کے اس حصے کے جس کے ظاہر ہونے کی حاجت پیش آ جائے، ان قطعی شرعی احکام میں سے ہے جن پر امتِ مسلمہ نے ہر دور میں، اپنے مختلف فقہی مذاہب اور فکری مناہج کے باوجود، اتفاق کیا ہے۔ سلف و خلف میں مسلمانوں کے کسی معتبر عالم نے اس سے ااختلاف نہیں کیا۔ اور ضرورت یا اس کے قائم مقام حاجت کے بغیر جسم کے کسی اور حصے کے ظاہر کرنے کے جواز کا قول اجماعِ امت کے خلاف ہے۔
خلاصہ:
اس بنیاد پر اور مذکورہ سوال کی صورت میں: بالغ مسلمان عورت کا حجاب کرنا -جس میں سر کے بالوں کو ڈھانپنا بھی شامل ہے- شرعاً واجب ہے۔ یہ حکم ہر اس عورت کے لیے ہے جو سنِّ تکلیف یعنی بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہو۔ اس پر قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ مطہرہ دونوں کی واضح نصوص دلالت کرتی ہیں، اور زمانۂ نبوت سے لے کر آج تک متقدمین و متاخرین تمام مسلمان علماء کا اس پر اجماع رہا ہے، اور اس مسئلے میں کبھی کوئی اختلاف نہیں ہوا۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
