حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال

Egypt's Dar Al-Ifta

حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال

Question

حرمت والے مہینوں میں کون سے نیک اعمال کیے جائیں؟ میں نے اپنے ایک دوست کو حرمت والے مہینوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا، وہ کہہ رہا تھا کہ یہ دوسرے مہینوں کی طرح ہی ہیں، اور ان میں نیک عمل کرنے کی کوئی خاص فضیلت نہیں، بلکہ یہ دوسرے دنوں کے اعمال کی طرح ہی ہیں۔ لہٰذا براہِ کرم وضاحت فرمائیں: حرمت والے مہینے کون سے ہیں؟ اور کیا ان کو سال کے دوسرے مہینوں پر کوئی فضیلت حاصل ہے؟ نیز ان مہینوں میں کن نیک اعمال کی کثرت مستحب ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ حرمت والے چار مہینے یہ ہیں: رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم۔ یہ مہینے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب زمانوں میں سے ہیں، لہٰذا ان میں فرض نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، اور گناہوں اور معاصی سے بچنا چاہیے۔ ان مہینوں میں نیک اعمال کی کثرت مستحب ہے، جیسے روزہ رکھنا، صدقہ دینا، ذکر کرنا وغیرہ، کیونکہ ان میں نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ اور ان کی فضیلت بہت عظیم ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی خاص اہمیت ہے۔

تفصیلات:

حرمت والے مہینوں کی فضیلت کا بیان

اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اپنے کلام میں مہینوں کی تعداد بارہ مقرر فرمائی ہے، اور ان میں سے چار مہینوں کو خاص حرمت والا بنایا، ان کی عظمت کو بڑھایا اور ان میں خیر و برکت کو زیادہ کیا، اور وہ یہ ہیں: رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ﴾ ترجمہ:" بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے۔ سو ان میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو" (التوبہ: 36)۔

اور حضرت ابو بکرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "زمانہ اسی حالت پر لوٹ آیا ہے جس پر وہ اس دن تھا جب اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینوں کا ہے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں، تین پے در پے ہیں: ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم، اور چوتھا مضر (قبیلہ) کا رجب ہے جو جمادیٰ اور شعبان کے درمیان ہے" (متفق علیہ)۔

امام نووي نے "شرح صحیح مسلم" (11/168، طبع دار إحياء التراث العربي) میں فرمایا: مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ حرمت والے چار مہینے یہی ہیں جو حدیث میں مذکور ہیں۔

اور ان مہینوں کے حرام (حرمت والے) ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ان میں گناہ کا عذاب زیادہ سخت ہوتا ہے اور نیکی کا ثواب زیادہ بڑھ جاتا ہے، جیسا کہ امام رازی نے اپنی تفسیر میں بیان کیا ہے۔ اور امام طبري نے اپنی تفسیر (11/444، طبع دار ہجر) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت [{إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِنْدَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنْفُسَكُمْ} یعنی: بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی تعداد اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہے، جس دن اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا تھا۔ ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا اور درست دین ہے، لہٰذا ان (حرمت والے مہینوں) میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔"] کے بارے میں نقل کیا کہ یہ حکم تمام مہینوں کے بارے میں ہے، پھر ان میں سے چار مہینوں کو خاص طور پر حرمت والا قرار دیا، ان کی حرمت کو بڑھایا، اور ان میں گناہ کو زیادہ بڑا اور نیک عمل کو زیادہ عظیم اور اس کے اجر کو زیادہ بڑھا دیا۔

اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے بعض زمانوں کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور کچھ کو خاص شرف اور برتری عطا فرمائی ہے، تاکہ وہ خیر کے موسم بن جائیں، دعاؤں کی قبولیت کے مواقع ہوں، نیکیوں کے اجر میں اضافہ ہو، عبادت میں محنت کی جائے، نیک اعمال کثرت سے کیے جائیں، اور گناہوں سے بچا جائے۔

اور ان زمانوں میں سے جنہیں اللہ تعالیٰ نے منتخب فرمایا، چنا، جن کی عظمت کو بڑھایا اور جنہیں فضیلت دی، وہ یہ حرمت والے مہینے ہیں؛ کیونکہ یہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب زمانوں میں سے ہیں، جیسا کہ حضرت کعب الاحبار رحمہ اللہ نے بیان کیا ہے جسے امام بیہقی نے "شعب الإيمان" میں روایت کیا ہے۔

اور علامہ الطاهر بن عاشور نے "التحرير والتنوير" (10/184، طبع الدار التونسية) میں فرمایا: زمانوں اور مقامات کی فضیلت اللہ تعالیٰ کے بتانے یا اطلاع دینے سے ہی معلوم ہوتی ہے؛ کیونکہ جب اللہ کسی وقت یا جگہ کو فضیلت دیتا ہے تو انہیں اپنی رضا کے حصول کے مواقع بنا دیتا ہے، جیسے یہ کہ وہ دعاؤں کی قبولیت کے مواقع ہوں، یا نیکیوں کے اجر میں اضافہ کا سبب ہوں۔

حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال

ان مہینوں میں نیک اعمال کی کثرت مستحب ہے؛ کیونکہ ان میں اجر بڑھا دیا جاتا ہے۔ اور سب سے افضل عبادات میں سے فرائض کی پابندی اور نمازوں کو ان کے اوقات پر ادا کرنا ہے؛ کیونکہ یہی وہ محبوب ترین اعمال ہیں جو بندہ اپنے رب کے قریب ہونے کے لیے کرتا ہے۔ چنانچہ حدیثِ قدسی میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرا بندہ جن اعمال کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے اور کوئی عبادت مجھ کو اس سے زیادہ پسند نہیں ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے (یعنی فرائض مجھ کو بہت پسند ہیں جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ)" (بخاری)۔

اور ان حرمت والے مہینوں میں گناہوں سے بچنا، معصیت کے کاموں سے دور رہنا اور اپنی جان پر ظلم نہیں کرنا چاہیے؛ کیونکہ ان مہینوں میں ظلم اور گناہ کا ارتکاب زیادہ سنگین جرم، بڑا گناہ اور زیادہ سخت وبال کا باعث ہوتا ہے۔

علامہ ابن حجر الهيتمي نے "الفتح المبين" (ص: 589، طبع دار المنہاج) میں فرمایا: قتادہ نے کہا کہ حرمت والے مہینوں میں ظلم زیادہ بڑا گناہ اور زیادہ سنگین جرم ہے، اور اس بات کو ان سے پہلے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بھی بیان کیا ہے۔

اور نیک اعمال میں سے ایک بہترین عمل ان مہینوں میں کثرت سے روزے رکھنا بھی ہے؛ کیونکہ یہ روزے کے لیے موزوں اوقات ہیں اور نہایت فضیلت والے زمانے ہیں، جیسا کہ امام غزالی کی کتاب "احیاء علوم الدین" میں مذکور ہے۔

چنانچہ مُجیبہ باہلیہ اپنے والد یا چچا سے روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور (کبھی) چھوڑ بھی دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو، حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھو اور چھوڑ دو"، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین انگلیوں سے اشارہ کیا، پھر انہیں ملا لیا اور پھر کھول دیا (ابو داود، ابن ماجہ)۔

اور متعدد سلف صالحین سے یہ منقول ہے کہ وہ حرمت والے مہینوں کے روزوں کا خاص اہتمام کرتے تھے اور بڑی رغبت رکھتے تھے، جیسے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، حسن بصری اور ابو اسحاق سبیعی، اور امام ثوری فرمایا کرتے تھے: "مجھے حرمت والے مہینوں میں روزہ رکھنا زیادہ پسند ہے"۔ (مراجع: لطائف المعارف لابن رجب، شرح سنن ابی داود لابن رسلان)

اور ابو الاحوص کوفی سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہمیں ابو اسحاق سبیعی نے فرمایا: "میں حرمت والے مہینوں میں روزے رکھتا ہوں"، جیسا کہ "مسند ابن الجعد" میں مذکور ہے۔

اور فقہاء کے چاروں مذاہب کے اقوال اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عمل مستحب ہے۔([1])

اور ان مہینوں میں جن نیک اعمال کی کثرت کرنی چاہیے ان میں سے ایک اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا کثرت سے ذکر کرنا بھی ہے؛ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے عظیم ترین راستوں میں سے ہے، اور قرآنِ حکیم اور احادیثِ نبویہ میں ہر وقت اور ہر حال میں ذکرِ الٰہی کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا﴾، ترجمہ: "اے ایمان والو! اللہ کا کثرت سے ذکر کرو" (الأحزاب: 41)۔

علامہ الخطيب الشربيني نے "السراج المنیر" (3/254، طبع مطبعة بولاق) میں فرمایا: یعنی (اللہ کا ذکر) رات اور دن میں، خشکی اور سمندر میں، صحت اور بیماری میں، پوشیدہ اور ظاہر ہر حال میں ہونا چاہیے۔ اور مجاہد نے کہا: کثرتِ ذکر کا مطلب یہ ہے کہ بندہ کبھی اللہ کو نہ بھولے، پس یہ تمام اوقات کو شامل ہو جاتا ہے۔

اور حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: " کیا میں تمہارے سب سے بہتر اور تمہارے رب کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور سب سے بلند درجے والے عمل کی تمہیں خبر نہ دوں؟ وہ عمل تمہارے لیے سونا چاندی خرچ کرنے سے بہتر ہے، وہ عمل تمہارے لیے اس سے بھی بہتر ہے کہ تم (میدان جنگ میں) اپنے دشمن سے ٹکراؤ، وہ تمہاری گردنیں کاٹیں اور تم ان کی گردنیں کاٹو (یعنی تمہارے جہاد کرنے سے بھی افضل)" صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں! فرمایا: "اللہ تعالیٰ کا ذکر" (ترمذی، ابن ماجہ)۔

فقہائے کرام کے ان حرمت والے مہینوں میں روزے رکھنے کو مستحب قرار دینے اور سلفِ صالحین کے ان مہینوں کے ساتھ خصوصی اہتمام سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ حرمت والے مہینوں میں نیک اعمال کی بڑی فضیلت ہے، جیسے روزہ رکھنا، صدقہ کرنا، اللہ کا ذکر، کھانا کھلانا، صلہ رحمی کرنا، اور نوافل کی کثرت کرنا؛ کیونکہ ان مہینوں میں اجر و ثواب بڑھا دیا جاتا ہے، اور نیک اعمال کے قبول ہونے کی امید زیادہ ہوتی ہے؛ کیونکہ یہ زمانہ شرف و فضیلت والا ہے، اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نزدیک اس کا بڑا مقام ہے، اور یہ ان ایام و اوقات میں سے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں۔

خلاصہ
اس بنا پر، اور سوال میں مذکور صورت کے مطابق: حرمت والے چار مہینے یہ ہیں: رجب، ذو القعدہ، ذو الحجہ اور محرم۔ یہ مہینے اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت محبوب زمانوں میں سے ہیں، لہٰذا ان میں فرض نمازوں کو ان کے وقت پر ادا کرنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے، اور گناہوں اور معاصی سے بچنا چاہیے۔ ان مہینوں میں نیک اعمال کی کثرت مستحب ہے، جیسے روزہ رکھنا، صدقہ دینا، ذکر کرنا وغیرہ، کیونکہ ان میں نیک اعمال کا اجر بہت زیادہ اور ان کی فضیلت بہت عظیم ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان کی خاص اہمیت ہے۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "الفتاویٰ الہندیۃ" (1/202، طبع دار الفکر)،
"المقدمات الممهدات" علامہ ابن رشد الجد (1/242، طبع دار الغرب الإسلامي)،
"مغنی المحتاج" علامہ الخطيب الشربيني (2/187، طبع دار الكتب العلمية)،
"الإنصاف" علامہ مرداوی (3/347، طبع مطبعة السنة المحمدية)۔

Share this:

Related Fatwas