حج سے واپس آنے کے آداب
Question
حج سے واپس آنے والے شخص کے لیے کون سے آداب ہیں؟ میرے والد صاحب اس سال حج کے لیے گئے ہیں، اور انہوں نے مجھ سے کہا ہے کہ میں آپ حضرات سے دریافت کروں کہ حج سے واپس آنے والے شخص کے لیے کون سے اہم آداب ملحوظ رکھے جائیں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ حج سے واپس آنے والے شخص کے لیے بہت سے آداب ہیں۔ ان میں سے اہم یہ ہیں: اپنے اہل و عیال کے پاس جلد واپس آنا، مناسب دعاؤں کا اہتمام کرنا، نقیعہ (واپسی پر ضیافت) کرنا، اپنے گھر والوں کو اپنی آمد کے وقت سے آگاہ کرنا، گناہوں اور معاصی سے اجتناب کرنا، اور آخرت کی فکر اور اس سے تعلق کو ہمیشہ برقرار رکھنا؛ تاکہ وہ حج سے حاصل ہونے والی روحانی پاکیزگی کو محفوظ رکھ سکے، اور اس کا حال حج کے بعد پہلے سے بہتر ہو جائے۔
تفصیل۔۔۔۔
حج کی فضیلت اور حاجی پر اس کے اثرات کا بیان
بیت اللہ شریف کا حج مسلمان کی زندگی میں ایک عظیم ربانی نعمت اور فیصلہ کن موڑ ہے۔ جب انسان اپنے حج کو مکمل کرتا ہے اور دورانِ حج نہ فحش باتیں کرتا ہے اور نہ گناہوں میں مبتلا ہوتا ہے، تو وہ اپنے وطن اس حال میں واپس لوٹتا ہے کہ اس کے گناہ معاف ہو چکے ہوتے ہیں، گویا وہ آج ہی اپنی ماں کے بطن سے پیدا ہوا ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے حج کرے، پھر نہ فحش کلامی کرے اور نہ نافرمانی و گناہ میں مبتلا ہو، وہ اس دن کی طرح (گناہوں سے پاک ہو کر) لوٹتا ہے جس دن اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ’’وہ گناہوں سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے اس دن تھا جب اس کی ماں نے اسے جنا تھا۔‘‘ اس روایت کو امام اسحاق بن راہویہ نے اپنی "مسند" میں روایت کیا ہے۔
لوگ اس شخص کو، جسے اللہ تعالیٰ نے حج جیسی عظیم فرض عبادت کی ادائیگی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ہو، عزت، تعظیم اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں؛ کیونکہ اسے بیت اللہ الحرام کی حاضری کا حال ہی میں شرف حاصل ہوا ہوتا ہے، اور حج کی عبادت لوگوں کے دلوں میں نہایت عظیم مقام رکھتی ہے۔ لہٰذا حاجی کو چاہیے کہ وہ اس بلند مرتبے کے شایانِ شان ہو، اس کے اخلاق میں مثبت تبدیلی آئے اور اس کے اعمال و رویّے بہتر ہو جائیں۔ چنانچہ روایت کیا گیا ہے کہ حجِ مبرور کی علامت یہ ہے کہ انسان حج کے بعد پہلے سے زیادہ نیک اور بہتر ہو جائے۔ اس بات کو امام الماوردي نے "الحاوی الکبیر" میں نقل کیا ہے۔ اسی طرح حاجی کو چاہیے کہ وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ سے اپنا تعلق مضبوط کرے، اپنے دل میں آخرت کی طلب پیدا کرے، نیک اعمال کی پابندی کرے۔ ایک مرتبہ امام حسن بصري سے پوچھا گیا: "حجِ مبرور کیا ہے؟" تو انہوں نے فرمایا: " یہ کہ تم اس حال میں واپس لوٹو کہ دنیا سے بے رغبت اور آخرت کے طلب گار ہو۔" اس روایت کو علامہ شجری نے "ترتیب الأمالی" میں ذکر کیا ہے۔ حاجی کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ میں ایسی نیکی اور بھلائی پیدا کرے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو، یہاں تک کہ حج کی وہ برکتیں اور نورانیت جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہیں، اس کے رب کے ساتھ معاملے میں بھی ظاہر ہوں اور لوگوں کے ساتھ اس کے برتاؤ میں بھی نمایاں ہوں۔ یقیناً یہ وہ چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے کہ اپنے بندے پر اپنی نعمت کا اثر دیکھے۔" اس حدیث کو امام ترمذي، امام أحمد بن حنبل اور امام بخاري نے روایت کیا ہے۔
حج سے واپسی کے آداب
بیت اللہ شریف کا حج کرنے والے شخص کے لیے بہت سے ایسے آداب ہیں جن کا اسے خیال رکھنا چاہیے۔ یہ آداب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنتِ مبارکہ سے ماخوذ ہیں۔ ان کی رعایت کرنے سے حاجی کا اجر بڑھ جاتا ہے اور اسے حج کی برکتیں حاصل ہوتی ہیں۔ ان آداب میں سے چند یہ ہیں:
اپنے وطن اور اہل و عیال کی طرف جلد واپسی اختیار کرنا: چنانچہ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "جب تم میں سے کوئی شخص اپنا حج مکمل کر لے تو اسے چاہیے کہ اپنے اہل و عیال کی طرف جلد واپس لوٹے، کیونکہ یہ اس کے اجر میں زیادہ اضافہ کرنے والا ہے۔" اس حدیث کو دارقطنی، بیہقی اور حاکم نے روایت کیا ہے۔
سواری پر سوار ہوتے وقت دعائے سفر پڑھنا۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: «اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، ﴿سُبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ وَإِنَّا إِلَى رَبِّنَا لَمُنْقَلِبُونَ﴾ اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ فِي سَفَرِنَا هَذَا البِرَّ وَالتَّقْوَى، وَمِنَ الْعَمَلِ مَا تَرْضَى، اللَّهُمَّ هَوِّنْ عَلَيْنَا سَفَرَنَا هَذَا وَاطْوِ عَنَّا بُعْدَهُ، اللَّهُمَّ أَنْتَ الصَّاحِبُ فِي السَّفَرِ، وَالْخَليفَةُ فِي الْأَهْلِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وَعْثَاءِ السَّفَرِ، وَكَآبَةِ الْمَنْظَرِ، وَسُوءِ الْمُنْقَلَبِ فِي الْمَالِ وَالْأَهْلِ۔ ترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارے تابع کر دیا، حالانکہ ہم اسے قابو میں لانے والے نہ تھے، اور بے شک ہمیں اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ اے اللہ! ہم اپنے اس سفر میں تجھ سے نیکی، تقویٰ اور ایسے اعمال کا سوال کرتے ہیں جن سے تو راضی ہو۔ اے اللہ! ہمارے لیے اس سفر کو آسان فرما اور اس کی دوری کو ہمارے لیے سمیٹ دے۔ اے اللہ! تو ہی سفر میں ہمارا ساتھی اور گھر والوں میں ہمارا نگہبان ہے۔ اے اللہ! میں سفر کی مشقت، ناخوشگوار مناظر دیکھنے اور مال و اہل میں برے انجام سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور جب سفر سے واپس آئے تو یہی دعا پڑھے اور اس میں یہ الفاظ مزید شامل کرے: آيِبُونَ، تائِبُونَ، عَابِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ» رواه الإمام مسلم. ترجمہ: "ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت گزار ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔"یہ حدیث امام مسلم نے روایت کی ہے۔
سنتِ مطہرہ میں وارد مخصوص دعا کا اہتمام کرنا: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی غزوہ، حج یا عمرہ سے واپس تشریف لاتے تو زمین کی ہر بلند جگہ پر تین مرتبہ "اللہ اکبر" کہتے، پھر یہ دعا پڑھتے: "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، آيِبُونَ، تَائِبُونَ، عَابِدُونَ، سَاجِدُونَ، لِرَبِّنَا حَامِدُونَ، صَدَقَ اللَّهُ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ." ترجمہ: "اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ ہم لوٹنے والے ہیں، توبہ کرنے والے ہیں، عبادت گزار ہیں، سجدہ کرنے والے ہیں اور اپنے رب کی حمد کرنے والے ہیں۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور تمام لشکروں کو تنہا شکست دی۔" یہ حدیث متفق علیہ ہے۔ اس دعا اور تکبیر کا مقصد اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار، اس کے ذکر پر مداومت اور اس کے دین اور کلمۂ حق کی سربلندی کا اعلان کرنا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلند مقامات پر پہنچ کر یہ ذکر اس لیے فرماتے تھے کہ وہاں سے زمین کا وسیع حصہ نظر آتا ہے، لہٰذا مناسب تھا کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ کامیابیوں اور نعمتوں کا استقبال تکبیر اور تعظیم کے ساتھ کیا جائے۔ اسی طرح جن اذکار میں بلند آواز سے اعلان کرنا مشروع ہے، ان کے لیے بلند مقامات زیادہ موزوں ہوتے ہیں، جیسے اذان اور تلبیہ؛ کیونکہ اس سے ذکرِ الٰہی کا اظہار زیادہ نمایاں ہوتا ہے۔ اس کے برعکس نشیبی جگہوں میں اس ذکر کو مخصوص کرنے میں گویا پوشیدگی کا پہلو پایا جاتا ہے۔ یہی بات امام الباجي نے "المنتقی" میں بیان فرمائی ہے۔
اپنے اہل و عیال کو اپنی آمد کے وقت سے آگاہ کرنا: امام نووی نے "الإیضاح فی مناسک الحج والعمرة" میں فرمایا ہے: "مستحب ہے کہ جب آدمی اپنے وطن کے قریب پہنچ جائے تو اپنے آگے کسی شخص کو بھیج دے جو اس کے گھر والوں کو اس کی آمد کی اطلاع دے دے، تاکہ وہ اچانک ان کے پاس نہ پہنچے؛ کیونکہ یہی سنت ہے۔"
اور ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں اطلاع دینے کا طریقہ اسی زمانے کے حالات کے مطابق ہوگا، چنانچہ آج کے دور میں فون، پیغام یا دیگر ذرائع سے اطلاع دی جا سکتی ہے۔
اپنے شہر یا وطن کو دیکھتے وقت مسنون دعا کرنا: جب حاجی اپنے شہر یا وطن کے قریب پہنچ کر اسے دیکھے تو مستحب ہے کہ یہ دعا کرے: اللهم إني أسألك خيرها، وخير أهلها، وخير ما فيها ترجمہ: "اے اللہ! میں تجھ سے اس بستی کی بھلائی، اس کے رہنے والوں کی بھلائی اور اس میں موجود تمام خیر و برکت کا سوال کرتا ہوں۔" اسی طرح یہ دعا بھی پڑھے: اللهم اجعل لنا بها قرارًا، ورزقًا حسنًا، اللهم ارزقنا جَنَاها، وأعذنا من وبالها، وحببنا إلى أهلها، وحبب صالحي أهلها إلينا. ترجمہ: "اے اللہ! ہمارے لیے اس بستی میں پُرسکون رہائش اور عمدہ رزق عطا فرما۔ اے اللہ! ہمیں اس کے پھل اور پیداوار نصیب فرما، اس کی آفات اور مصیبتوں سے ہماری حفاظت فرما، ہمیں اس کے لوگوں کا محبوب بنا دے اور اس کے نیک لوگوں کی محبت ہمارے دلوں میں پیدا فرما۔" جیسا کہ امام نووی نے "الإیضاح" میں بیان فرمایا ہے۔
لوگوں کو کھانے پر جمع کرنا: جس طرح ہر مسافر کی واپسی پر ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے، اسی طرح حج سے واپس آنے والے کے لیے بھی لوگوں کو کھانے پر مدعو کرنا مستحب ہے۔ اس دعوت کو "نقیعہ" کہا جاتا ہے۔ مسافر کے حج یا کسی اور سفر سے واپس آنے پر نقیعہ کرنا اور لوگوں کو اس میں مدعو کرنا ایک پسندیدہ عمل ہے جسے شریعت نے برقرار رکھا ہے، اور اس کی اصل سنتِ نبویہ سے ثابت ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک اونٹ یا ایک گائے ذبح فرمائی۔ اس حدیث کو امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس پر "واپسی کے وقت کھانا کھلانے کا باب" قائم کیا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر سے واپسی پر مہمان نوازی کرنا اور لوگوں کو کھانا کھلانا مستحب ہے۔ یہی طریقہ سلفِ صالحین کا بھی رہا ہے، جیسا کہ امام ابن بطال نے "شرح صحیح البخاری" میں ذکر فرمایا ہے۔
امام بدر الدين عينی نے "عمدة القاری" میں فرمایا ہے: "اس کھانے کو 'نقیعہ' کہا جاتا ہے۔ نقیعہ میں نون پر زبر اور قاف پر زیر ہے۔ یہ لفظ 'نقع' سے مشتق ہے، جس کے معنی غبار کے ہیں؛ کیونکہ مسافر سفر کی گرد و غبار اپنے ساتھ لے کر واپس آتا ہے۔"
اسی طرح ملا علي القاري نے "مرقاة المفاتیح" میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی مذکورہ حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرمایا: "سفر سے واپس آنے والے کے لیے سنت یہ ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق لوگوں کی ضیافت کرے۔" یہ بات امام طیبی نے ذکر کی ہے۔ جبکہ ابن الملک نے فرمایا: "واپسی کے بعد ضیافت کرنا سنت ہے۔"
اہل و عیال اور دیگر عزیزوں کے لیے تحائف تحائف لانا: حاجی کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے گھر والوں اور دوست احباب کے لیے ایسے تحائف لے کر آئے جن سے انہیں خوشی حاصل ہو اور ان کے دلوں میں بیت اللہ الحرام کی زیارت کا شوق پیدا ہو۔ مثلاً کپڑے، مسواک، تسبیح، عطر، جائے نماز اور دیگر مفید اشیاء۔
مختصراً یہ ہے کہ حج سے واپس آنے والے شخص کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش بات یہ ہے کہ وہ ہر اس ادب اور اخلاق کو اپنائے جو اس عظیم عبادت کی تکمیل کے شایانِ شان ہو، اور ان برکتوں کو محفوظ رکھنے کا ذریعہ بنے جو اسے حج کے مناسک، عبادات اور مقدس مقامات کی حاضری سے حاصل ہوئی ہیں۔ چنانچہ اسے چاہیے کہ حج کے بعد اس کی زندگی، اخلاق، عبادات اور لوگوں کے ساتھ معاملات پہلے سے بہتر ہوں، تاکہ حج کے آثار اس کے کردار اور عمل میں نمایاں رہیں۔
خلاصۂ حکم
مذکورہ تفصیل کی روشنی میں، سوال میں بیان کردہ صورت میں حج سے واپس آنے والے شخص کے لیے بہت سے آداب ہیں۔ ان میں سے اہم یہ ہیں: اپنے اہل و عیال کے پاس جلد واپس آنا، مناسب دعاؤں کا اہتمام کرنا، نقیعہ (واپسی پر ضیافت) کرنا، اپنے گھر والوں کو اپنی آمد کے وقت سے آگاہ کرنا، گناہوں اور معاصی سے اجتناب کرنا، اور آخرت کی فکر اور اس سے تعلق کو ہمیشہ برقرار رکھنا؛ تاکہ وہ حج سے حاصل ہونے والی روحانی پاکیزگی کو محفوظ رکھ سکے، اور اس کا حال حج کے بعد پہلے سے بہتر ہو جائے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
