وضو میں صرف خمار کے اوپر مسح کرنے کا حکم
Question
ایک خاتون کہتی ہیں: کام کی جگہ پر وضو کرتے وقت ان کے لیے خمار اتارنا مشکل ہوتا ہے، تو کیا وہ سر کا مسح کرنے کے بجائے خمار (سر ڈھانپنے والا دوپٹہ) پر مسح کر سکتی ہیں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ سر کے مسح میں واجب مقدار یہ ہے کہ سر کے کسی بھی حصے تک تری پہنچ جائے، خواہ وہ حصہ بہت تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مثلاً ایک بال یا اس کا کچھ حصہ۔ عورت کام کے دوران یہ عمل اپنے خمار کے نیچے سر کے اگلے حصے پر مسح کرکے کر سکتی ہے۔ لہٰذا عورت کے لیے صرف خمار پر مسح کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے اپنے بالوں ہی پر اتنی مقدار میں مسح کرنا ہوگا جتنی مقدار میں وہ مسح کرنے پر قادر ہو۔ البتہ اگر ہاتھ کی تری بالوں تک پہنچ جائے تو یہ بھی کافی ہے۔ مثلاً عورت اپنا گیلا ہاتھ خمار کے اوپر رکھے اور اس کی تری بالوں تک پہنچ جائے، تو یہ مسح کے لیے کافی ہوگا اور اس کا وضو صحیح ہوجائے گا۔
تفصیلات۔۔۔
وضو میں سر کا مسح کرنے کا حکم
فقہاء کا اس بات پر اجماع ہے کہ اجمالی طور پر وضو کے ارکان میں سر کا مسح بھی شامل ہے، جس کے بغیر وضو صحیح نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! جب تم نماز کے لیے گحڑے ہونے لگو تو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لیا کرو، اور اپنے سروں کا مسح کر لیا کرو اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔ [المائدة: 6]
علامہ ابن عبد البر نے التمهيد (4/31، ط: وزارة الأوقاف المغربية) میں فرمایا: ’’علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ چہرہ دھونا، کہنیوں تک دونوں ہاتھ دھونا، ٹخنوں تک دونوں پاؤں دھونا اور سر کا مسح کرنا، یہ سب فرض ہیں۔‘‘
علامہ ابن قدامہ نے المغني (1/92، ط: مكتبة القاهرة) میں فرمایا: ’’سر کے مسح کے واجب ہونے میں کوئی اختلاف نہیں۔‘‘
وضو میں صرف خمار کے اوپر مسح کرنے کا حکم
اگرچہ فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اجمالی طور پر وضو کے ارکان میں سر کا مسح شامل ہے، تاہم اس میں اختلاف ہے کہ سر کے کتنے حصے کا مسح واجب ہے، اس بارے میں مفتیٰ بہ قول وہ ہے جو شافعیہ نے اختیار کیا ہے کہ سر کے کچھ حصے پر گیلا ہاتھ پھیر دینے سے مسح ادا ہوجاتا ہے، خواہ انگلی کے ایک پور کے برابر حصہ ہی ہو، بشرطیکہ وہ سر کے تین بالوں، ایک بال یا سر کے اگلے حصے کے کسی ایک بال کے کچھ حصے پر ہو۔ اور صرف ان بالوں پر مسح کرنا کافی نہیں جو سر کی حدود سے باہر نکل کر لٹک رہے ہوں۔
علامہ خطیب شربینی نے مغني المحتاج (1/176، ط: دار الكتب العلمية) میں فرمایا: ’’وضو کے فرائض میں چوتھا فرض سر کے کچھ حصے کی جلد کا مسح کرنا ہے، یا سر کی حدود کے اندر موجود کچھ بالوں کا مسح کرنا ہے، خواہ ایک ہی بال ہو یا اس کا کچھ حصہ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ بال سر سے نیچے کی طرف کھینچنے کی صورت میں سر کی حدود سے باہر نہ نکلے۔ لہٰذا اگر بال کھینچنے کی وجہ سے سر کی حدود سے باہر نکل جائے تو اس پر مسح کافی نہیں ہوگا، یہاں تک کہ اگر بال گھنگریالے ہوں اور کھینچنے کی صورت میں سر کی حدود سے باہر نکل جائیں تو ان پر بھی مسح کرنا جائز نہیں۔‘‘
اور صرف خمار کے اوپر مسح کرنے سے وضو صحیح نہیں ہوتا۔ یہی حکم احناف، مالکیہ اور حنابلہ کی ایک روایت کے نزدیک ہے، اور یہی نافع، نخعی، حماد بن ابی سلیمان، اوزاعی اور سعید بن عبدالعزیز کا قول ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ﴾ [المائدة: 6] میں جس سر کے مسح کا حکم دیا گیا ہے، اس کی شرط پوری نہیں ہوتی۔ نیز خمار کو عام طور پر اتارنا مشکل نہیں ہوتا، جیسے سر کی ٹوپی وغیرہ اتارنے میں دشواری نہیں ہوتی۔ شافعیہ بھی اس حکم میں ان حضرات کے موافق ہیں، بشرطیکہ ہاتھ کی تری بالوں تک نہ پہنچی ہو۔ لیکن اگر عورت خمار کے اوپر اپنا گیلا ہاتھ رکھے اور اس کی تری بالوں تک پہنچ جائے تو صحیح قول کے مطابق اتنا مسح کافی ہوگا۔ مزید تفصیلات کیلئے دیکھیے([1])۔
چونکہ مسلمان عورت کو اپنے کام کی جگہ پر بعض اوقات ایسی دشواری کا سامنا ہوسکتا ہے جس کی وجہ سے اس کے لیے حجاب اتارنا مشکل ہو، اس لیے وہ اپنے خمار کے نیچے سے سر کے اگلے حصے پر اتنی مقدار میں مسح کر سکتی ہے جتنی تک اس کا ہاتھ پہنچ سکتا ہو۔ یہی طریقہ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بھی اختیار کرتی تھیں۔ چنانچہ امام بیہقی نے السنن الكبرى میں امّ المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ: «كَانَتْ إِذَا تَوَضَّأَتْ تُدْخِلُ يَدَهَا مِنْ تَحْتِ الرِّدَاءِ تَمْسَحُ بِرَأْسِهَا كُلِّهِ» ’’جب وہ وضو کرتیں تو اپنی چادر کے نیچے ہاتھ داخل کرتیں اور اپنے پورے سر کا مسح کرتیں۔‘‘ علامہ ابن منذر نے الأوسط (1/470، دار طيبة ایڈیشن) میں فرمایا ہے: عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ اور عطاء نے کہا: “عورت خمار کے نیچے سے اپنا ہاتھ داخل کرے اور اپنے سر کے اگلے حصے کا مسح کرے۔”
حنابلہ کے مذہب میں اور امام ابن حزم کے نزدیک خمار پر مسح کرنا جائز ہے۔ اس کے جواز کی اصل دلیل حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث ہے: «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على الخفين والخمار» “رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موزوں اور خمار پر مسح فرمایا۔” اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ یہاں خمار سے مراد عمامہ ہے([2])۔
اور خمار پر مسح کو جائز قرار دینے والے اہلِ علم نے یہ شرط رکھی ہے کہ خمار کو ٹھوڑی کے نیچے سے لپیٹا گیا ہو، اور اسے طہارتِ کاملہ حاصل کرنے کے بعد پہنا گیا ہو، نیز مسح کی مدت بھی موزوں پر مسح کی مقررہ مدت کے مطابق ہو؛ یعنی مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات، جبکہ مسافر کے لیے تین دن اور ان کی راتیں([3])۔
اور اس مسئلے میں انہوں نے امام ابو ثور کے مذہب سے اتفاق کیا ہے کہ خمار یا عمامہ پہننے کے وقت باوضو ہونا شرط ہے۔ علامہ ابن حزم نے المحلى (1/309) میں فرمایا ہے: امام ابو ثور نے کہا: “عمامہ اور خمار پر مسح اسی شخص کے لیے جائز ہے جس نے انہیں باوضو ہو کر پہنا ہو، اس کا قیاس موزوں پر کیا جائے گا۔” ختم شدہ عبارت۔
خلاصہ
مذکورہ بالا تفصیل کی روشنی میں اور سوال میں بیان کردہ صورتِ حال کے مطابق، سر کے مسح میں واجب مقدار یہ ہے کہ سر کے کسی بھی حصے تک تری پہنچ جائے، خواہ وہ حصہ بہت تھوڑا ہی کیوں نہ ہو، مثلاً ایک بال یا اس کا کچھ حصہ۔ عورت کام کے دوران یہ عمل اپنے خمار کے نیچے سر کے اگلے حصے پر مسح کرکے کر سکتی ہے۔ لہٰذا عورت کے لیے صرف خمار پر مسح کرنا کافی نہیں، بلکہ اسے اپنے بالوں ہی پر اتنی مقدار میں مسح کرنا ہوگا جتنی مقدار میں وہ مسح کرنے پر قادر ہو۔ البتہ اگر ہاتھ کی تری بالوں تک پہنچ جائے تو یہ بھی کافی ہے۔ مثلاً عورت اپنا گیلا ہاتھ خمار کے اوپر رکھے اور اس کی تری بالوں تک پہنچ جائے، تو یہ مسح کے لیے کافی ہوگا اور اس کا وضو صحیح ہوجائے گا۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
([1]) المبسوط.، للسرخسي. 1/101، مطبعة السعادة، والمدونة.، للإمام مالك. 1/124، دار الكتب العلمية، والمجموع.، للنووي. 1/409، المطبعة المنيرية، والمغني.، لابن قدامة. 1/222، مكتبة القاهرة.
([2]) الفروع.، لابن مفلح. 1/204، مؤسسة الرسالة، والمحلى.، لابن حزم. 1/303، دار الفكر، والأوسط.، لابن المنذر. 1/470.
([3]) الشرح الكبير.، لابن قدامة. 1/168، دار الكتاب العربي، وكشاف القناع.، للبهوتي. 1/113، عالم الكتب.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
