تبدیلی خون کے محتاج بیماروں کےلئے ز...

Egypt's Dar Al-Ifta

تبدیلی خون کے محتاج بیماروں کےلئے زکوۃ

Question

سال ٢٠٠٩ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پرمشتمل ہے:

گردوں کی بیماری، کینسر اور خون کی دائمی بیماری میں مبتلا اشخاص جو خون کے پیکيٹس کے ضرورت مند ہوتے ہیں اور خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کیا ان کے لئے زکوۃ کا حصول جائز ہے، واضح رہے کہ حکومت کے خرچے پر علاج میں خون کی تھیلیاں شامل نہیں ہوتیں؟

Answer

جی ہاں! جائز ہے اگر وہ علاج کا خرچہ برداشت نہ کرسکتے ہوں ،کیونکہ زکوۃ کے مصارف میں فقیر اور نادار شامل ہیں، اللہ تعالی کا فرمان عالی شان ہے: (إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاء وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ وَاللّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)- زکوٰة تو انہیں لوگوں کےلیے ہے محتاج اور بالكل نادار اور جو اسے وصول کرکے لائیں اور جن کے دلوں میں اسلام كي الفت ڈالی جائے اور گردنیں آزاد كرانے میں اور قرضداروں کو اور الله کی راہ میں اور مسافر کو، یہ الله کا ٹھہرایا ہوا فريضہ ہے، اور الله علم و حکمت والا ہے - [التوبۃ: ٦٠]. فقیر اور اسی کے مثل نادار ہر وہ شخص ہے جس کی آمدنی اس کی ساري بنیادی ضرورتوں یا بعض ضرورتوں کے لئے ناکافی ہو،جیسے کہ کھانے، رہنے، پینے ، پہننے اور علاج کروانے کےلئے کافی نہ ہو.

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas