مسجد کے ذریعے پولیو کے بارے میں شعو...

Egypt's Dar Al-Ifta

مسجد کے ذریعے پولیو کے بارے میں شعور بیداری مھم

Question

بت سال ٢٠٠٥ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے ،جس میں مسجدوں کے منبروں کے ذریعے سے لوگوں کو پولیو کے خطرے کے بارے میں شعور بیدار کرنے کی مھم سے متعلق سوال آیا ہے، مساجد کے بعض اماموں کا اس عمل سے پہلو تہی کرنا اس مرض کے پھیلاؤ کا باعث بن رہا ہے اور ابھی تک اس کا خاتمہ ممکن نہ ہوسکا ہے، واضح رہے کہ یہ بیماری صرف پانچ ممالک میں پائی جاتی ہے جن میں مصر بهى شامل ہے؟

Answer

شعور بیداری کی یہ مہم اس نصیحت کے زمرے میں داخل ہے جس کو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ارشاد مبارک میں دین قرار دیا ہے چنانچہ فرمایا ہے: ''الدین النصیحۃ'' ، دین تو خیرخواہی ہی ہے، ہم نے پوچھا کس کے لئے؟ فرمایا '' اللہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے قائدین اور عوام کےلئے''، اس حدیث کو امام مسلم نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کی روایت سے نقل کیا ہے. اور شریعت مطہرہ میں یہ قاعدہ طے شدہ ہے کہ''الضرر یزال''یعنی نقصان دور کیا جائے، مزید برآں جب یہ نصیحت لوگوں میں پھیلے ہوئے وباء یا بچوں کے پولیو سے متعلق ہو تو یہ اسی قدر فرض کفایہ کے دائرے میں ہو گی جس قدر اسے وہ نقصان دور کیا جاسکتا ہو، اور جب اس وباء کو دور کرنے کےلئے مسجد وں کے سوا اور کوئی وسائل نہ ہوں جیسا کہ ان گاؤوں میں ہوتا ہے جہاں اس کے خطرات سے لوگ صرف اور صرف خطیبوں اور اماموں کے ذریعے سے ہی خبردار ہوتے ہیں تو ان اماموں اور خطیبوں کے حق میں یہ نصیحت فرض عین ہے، اور اس صورت میں ان گاؤوں کے بچے ان کے سر امانت ہیں ، جان لیں کہ یہ امر مسجد میں گمشدہ چیز کے اعلان کے زمرے میں داخل نہیں ہے کیونکہ گمشدہ چیز کی تلاشي ایک ذاتی مفاد ہے جبكہ شعور بیداری مھم مفاد عامہ سے متعلق ہے اور پھیلے وباء کو دور کرنا واجب ہے اس لئے لوگوں کا اس کے ازا لے کےلئے آپس میں تعاون کرنا واجب ہے.

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas