بعض بدعتی گروہوں کے الزامات

Egypt's Dar Al-Ifta

بعض بدعتی گروہوں کے الزامات

Question

زیر نمبر ٢٣٣١ بابت سال ٢٠٠٦ء مندرج ڈاک پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل مسئلے پر مشتمل ہے:

میں سری لنکا سے تعلق رکھتا ہوں، ہمارے ہاں کچھ لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اہل قرآن اور اہل حدیث کہتے ہیں یا اہل توحید کہتے ہیں اور وہ مندرجہ ذیل اصولوں کے ماننے والے ہیں:
١۔ اجماع اور قیاس کے حجت ہونے سے انکار كرنا.
٢۔ چار مذاہب یا دیگر مذاہب میں سے کسی مذہب کی تقلید کو نا جائز کہنا، اور ہر شخص پر اجتہاد کو واجب قرار دینا اگر چہ وه عربی زبان سے نابلد ہى كيوں نہ ہو.

٣۔ وہ صحابہ رضی اللہ تعالی عنھم کے اقوال کو حجت نہیں مانتے کیونکہ ان کے بقول صحابہ۔ رضی اللہ عنھم ۔ نے قرآن كريم اور حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی حديث کی مخالفت کی ہے.

Answer

    ان فاسد اقوال کو اہل سنت و جماعت کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں ہے، نہ ہی ان كى اہل حدیث کی طرف نسبت کرنا درست ہے اور نہ ہی اہل رائے کی طرف، بلکہ اسلامی مذاہب میں سے کسی قابل اعتبار مذہب کی طرف بھی ان باتوں کی نسبت صحیح نہیں ہے، بلکہ مسلمانوں کے علمائے کرام کے نزدیک یہ بات متفق علیہ ہے کہ اجماع ایک ایسی قطعی حجت ہے جس کی مخالفت کرنا جائز نہیں ہے، بلکہ اجماع  تو اسلام کا تشخص ہے، اور اس کو دین اسلام کی معروف ضرورت سے تعبیر کیا جاتا ہے، اس بات کی دلیل اللہ تعالی کا یہ ارشاد ہے: (وَمَن يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُالْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىوَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءتْ مَصِيرًا) - اور جو رسول کے خلاف کرے بعد اس کے کہ اس پر ہدایت کا راستہ کھل چکا اور مسلمانوں کی راہ سے جدا راہ چلے ہم اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں گے اور اسے دوزخ میں داخل کریں گے اور کیا ہی بری جگہ پلٹنے کی - [سورہ نساء : ٥١١]. اور اس مضمون کی حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث وارد ہیں کہ"امت گمراہی پر جمع نہیں ہوگی".

 اسی طرح وہ فقہائے کرام جو قابل اعتبار ہیں اس بات پر متفق ہیں کہ قیاس بھی اصول کی کتابوں میں اس كے مذکورہ شرائط کے ساتھ ايک حجت ہے، حتی کہ فقہاء کی ایک جماعت نے یہ فتویٰ بهى صادر کیا ہے کہ اگر فقہاء کےلئے کوئی چیز وقف کی جائے تو قیاس کے منکر اس میں شامل نہیں ہونگے.
اور جہاں تک مذاہب اربعہ اور دیگر مذاہب کی تقلید كو حرام قرار دیتے ہوئے ہر شخص پر اگر چہ وه عربی زبان سے ناواقف بھی ہو، اجتہاد واجب قرار دینے کے قول کی بات ہے تو یہ حقیقت میں ایک قسم کا جنون ہے جس کى نسبت عقلمندوں کی طرف كرنا درست نہیں ہے، عام آدمی کو اجتہاد کی تکلیف دینا ایسے ہی ہے جیسے ایک لاچار اپاہج کو اُڑنے کی تکلیف دینا، اور یہ طاقت سے بالا تر کی تکلیف دینا ہے، اس کے علاوہ جب اس بات کے ساتھ پیروی کیے جانے والے چاروں مذاہب کی تقلید کا انکار بھی شامل ہو تو اس کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ اسلام کے نام پر اسلام کے قواعد کو مٹانا مقصود ہے، اور حدیث پر عمل کرنے کے نعروں کے در پردهحديث کو ختم کرنا مقصود ہے، ایسے حالات میں اہل علم پر واجب ہے کہ یہ فاسد اقوال پھیلانے والے گھناؤنے فتنے کو دفن کرنے کےلئے مداخلت کریں، چونكہ ان اقوال کی تشہیر کرنے والا اگر ان کی حقیقت پر مطلع ہو جائے اور ان کا انجام جان لے اور وہ اللہ تعالی کی خوشنودی کا طلبگار ہو تو وہ ضرور ان کا انکار کردیگا اور ان سے لا تعلقی کا اظہار کریگا.
 رہی بات صحابہ کرام کے ان اقوال کی حجت کی جن میں انہوں نے اختلاف کیا ہے تو اس حجیت کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے ، اس کے متعلق کتابوں میں مفصل گفتگو کی گئی ہے، لیکن ایک مسلمان پر واجب ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے ساتھ ہميشہ ادب ملحوظ رکھے کیونکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی نے ساری مخلوق سے بہتر جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کےلئے منتخب کیا ہے اور يہی  وه حضرات ہیں جو دین اسلام کے پہونچانے والے اور شریعت مطہرہ کو منتقل کرنے والے ہیں، ان پر یہ تہمت باندھنا کہ انہوں نے قرآن و حدیث کی عمدًا مخالفت کی ہے یہ ان حضرات رضی اللہ عنھم کی بارگاہ میں بڑی بے ادبی ہے، بلکہ ان کے بارے میں نیک گمانی میں یہ کہنا چاہئے کہ، یہ فلاں کی صوابدید کے مطابق ہے ، یا شاید ان کو یہ حدیث نہ پہونچی ہو ، یا یہ کہ ان کے نزدیک یہ حدیث صحیح نہ ہو.
 اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرنے والے اور صحیح دین کی پیروی کے طلبگار مسلمان پر واجب ہے کہ اپنا دین ہر کسی سے نہ لیا کرے اور ہر ايسے ایرے غیرے نتھو خیرے کی بات پر کان نہ دھرے جس کو شریعت میں بات کرنے کی اہلیت حاصل نہ ہو، بلکہ امام محمد ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ کے اس قول کو پیش نظر رکھے: "بے شک یہ علم دین ہے، اس لئے جانچ پڑتال کیا کرو کہ تم اپنا دین کس سے لے رہے ہو".

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.

Share this:

Related Fatwas