ازدحام المقابر

Egypt's Dar Al-Iftaa

ازدحام المقابر

Question

جمعیت کے پاس سیدہ نفیسہ رضی اللہ تعالی عنھا کے قبرستان میں کچھ قبریں ہیں۔ لیکن ان دنوں وہ قبریں فوت شدہ لوگوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان میں سے کچھ بالکل میتیں نئی ہیں کچھ پہلے کی ہیں ۔ جنہیں ابھی دو سال نہیں گزرے ہیں اور یہ بھی کہ اس جگہ کی مٹی رطوبت والی ہے، اس لیے جسم دیر کے ساتھ ختم ہوتے ہیں۔ جب ہم نے جمعیت کے لوگوں کو یہ بات بتائی توان کی طرف سےمشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان میں سے اکثر یہ جواب دیتے ہیں کہ میت نے انہیں یہ وصیت کی تھی کہ اسے سیدہ نفیسہ رضی اللہ تعالی عنھا کے قبرستان میں دفن کیا جائے۔ حالانکہ وہ یہ بھی جانتا تھا کہ جمعیت کے پاس " ست اکتوبر " اور" فیوم " نامی کے شہروں میں قبریں موجود ہیں اور دفن کرنے کیلئے کافی جگہ بھی موجود ہے۔
تو ان وصیتوں کا کیا حکم ہے جوجمعیت کے کچھ لوگوں نے اپنی میتوں کے بارے میں بتائی ہیں
 

Answer

اگر میت نے سیدہ نفیسہ رضی اللہ تعالی عنھا کے قبرستان میں دفن کرنے کی وصیت کی ہو تو جب تک جمعیت کے پاس دوسرے شہروں میں جگہ ہے اور بغیر کسی شرعی ممانعت کےتدفین کے قابل بھی ہے تو اس وصیت پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے۔
ہاں اگر شرعی محظورات سے بچتے ہوئے اس وصیت پر عمل ہوسکتا ہے تو یہ مستحسن عمل ہے اور اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں ہے۔ وہ محظورات یہ ہیں کہ میتوں کی بے حرمتی وغیرہ نہ ہو، جو اس طرح ممکن ہے کہ قبروں کی مختلف منزلیں بنائی جائیں، یا پہلی میتوں کو تابوتوں کے ذریعےاس طرح ڈھانپا جائے کہ وہ تابوت اوپر سے ان کے اجسام سے مس نہ ہوں، پھر اس تابوت پر مٹی ڈالی جائے اورپھر اس کے اوپر نئی میتیں دفن کی جائیں۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب۔
 

Share this:

Related Fatwas