امام کو بدعتی سمجھتے ہوئے اس کے پیچ...

Egypt's Dar Al-Ifta

امام کو بدعتی سمجھتے ہوئے اس کے پیچھے نماز نہ پڑھنے کا فتنہ

Question

جب ہم باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے مسجد میں جاتے ہیں تو کچھ لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ امام کے پیچھے نماز ادا نہیں کرتے بلکہ انتظار کرتے ہیں جب نماز ختم ہو جاتی ہے تو وہ لوگ ایک اور جماعت کرواتے ہیں اور دلیل یہ دیتے ہیں کہ امام بدعتی ہے۔ ان کے اس فعل کا شرعی حکم کیا ہے؟ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ و السلام علی رسول اللہ و آلہ وصحبہ و من والاہ۔۔۔ وبعد: نماز ارکانِ اسلام میں سے ایک رکن ہے ۔ اسے اللہ تعالی نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے۔ اس کی ادائیگی  کی کیفیت کے بارے میں  رسول اللہ نے  بیان فرمایا جسے امام بخاریؒ نے حضرت  مالک بن حویرث سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: " جیسے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے ہو اسی طرح نماز پڑھا کرو " باجماعت نماز ادا کرنا اکیلے نماز ادا کرنے سے افضل ہے۔ صحیحین میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما سے مروی ہے کہ نبی اکرم نے فرمایا: " باجماعت نماز ادا کرنا اکیلے نماز ادا کرنے سے ستائیس گنا افضل ہے" اور باجماعت نماز ادا کرنے کیلئے امام کی ضرورت ہوتی ہے جو امامت کرائے ۔ امامت ایک نمازی کی نماز کو دوسرے کی نماز کے ساتھ ملانے کا نام ہےان شروط کے ساتھ جو شریعت نے بیان کی ہیں۔ اور علماء کرام نے کچھ شرو ط وضع کی ہیں جن کا امام میں پایا جانا ضروری ہے اور یہ شروط کتب فقہ میں بڑی معروف ہیں ۔ جب یہ شروط پائی جائیں تو آدمی امامت کا اہل ہو جاتا ہے۔

یہ بات معلوم ہو گئی کہ جب امام نماز کی کوئی شرط یا رکن نہ چھوڑے تو اس کی نماز اور امامت صحیح ہوتی ہے۔ لیکن جب امام بدعتی ہو  اور اس کی بدعت بھی تکفیری ہو جیسے وہ آدمی جو اللہ تعالی اور اس کے رسول اکرم کو جھٹلاتا ہے تو اس شخص کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے اور اس بات پر علماء کا اتفاق ہے۔ کیونکہ وہ شخص کافر ہوگیا ہے جسے امام بنانا  مسلمانوں  کیلئے جائز نہیں ہے۔اور جس کی بدعت تکفیری نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ کچھ  علماء کرام نے  اس کے پیچھے نماز پڑھنے سے منع کیا ہے اور کچھ علماء کرام نے جائز قرار دیاہے۔ ہر فریق کے پاس اپنے اپنے دلائل ہیں۔

اب ہم یہ بیان کرتے ہیں کہ دور حاضر میں کچھ افراد لوگوں پر ان مسائل میں بدعت کا الزام لگاتے ہیں جن میں علماء کرام کااختلاف ہے۔جیسے داڑھی کو مطلقا چھوڑ دینا اور کپڑوں کو چھوٹا سلوانا وغیرہ وغیرہ اس لیے ضروری ہے کہ ہم بدعت کا بنیادی مفہوم بیان کریں اور یہ بیان کریں کہ قطعی مسائل میں مسلمانوں میں کوئی اختلاف موجود نہیں ہے۔

 

بدعت کا معنی اور مفہوم:

عربی زبان میں بدعت ہر نئی چیز کو کہتے ہیں اس ضمن میں ابو عدنان فرماتے ہیں: مبتدع وہ ہے جو ایسے طریقے پرکوئی چیز لائے جو پہلے موجود نہ ہو ، اسی نے اس کی ابتدا کی ہو۔([1])

شرعی اصطلاح میں بدعت کی تعریف میں علماء کے دو مسلک ہیں۔

پہلامسلک: یہ امام عز بن عبدالسلام کا مسلک ہے۔ آپ کے نزدیک ہر وہ کام جو نبی اکرم نے نہیں کیا وہ بدعت ہے اور پھر بدعت کو پانچ اقسام میں تقسیم کرتے ہیں: 1۔ بدعتِ واجبہ 2۔ بدعتِ حرام 3۔ بدعتِ مستحب 4۔ بدعت مکروہ 5۔ بدعتِ مباح۔

ان کی پہچان کیلئے انہیں قوعدِ شریعہ کے ترازو میں پرکھنا ہوگا۔ جو بدعت ایجابی قواعد کے تحت آئے گی وہ واجب ہو گی ، جو بدعت تحریمی قواعد کے تحت آئے گی وہ حرام ہو گی ، جو بدعت استحباب کے  قواعد کے تحت آئے گی وہ مستحب ہو گی ، جو بدعت کراہت کے قواعد کے تحت آئے گی وہ مکروہ ہو گی اور جو بدعت اباحت کے قواعد کے تحت آئے گی وہ مباح ہو گی ۔([2])

دوسرا مسلک: ان کے نزدیک شرعی اصطلاح میں بدعت کا مفہوم اس کی لغوی  اصطلاح کی نسبت خاص ہے۔ انہوں نے صرف مذموم بدعت کو ہی بدعت قرار دیا ہے اور امام عز بن عبدالسلام کی طرح واجب، مستحب، مباح اور مکروہ  کام کو بدعت کا نام نہیں دیا۔ بلکہ بدعت کو  صرف بدعتِ حرام میں ہی محدود کیا ہے۔ اور جن لوگوں کا یہ مسلک ہے ، ابن رجب حنبلیؒ بھی انہیں میں سے ہیں۔ آپ اس معنی  کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بدعت سے مراد: کوئی ایسی چیز نکالنا جس کی اصل شریعت مطہرہ میں موجود نہ ہو جو اس کی دلیل بن سکے۔ اور اگر اس کی اصل موجود ہے جو اس کی دلیل بن سکتی ہو تو وہ بدعت نہیں ہو گی اگرچہ لغوی لحاظ سے وہ بدعت ہی ہے۔([3])

درحقیقت دونوں مسالک اس بات پر متفق ہیں کہ مذموم بدعت جس کا کرنے والا گناہگار ہے، وہی ہے جس کی کوئی اصل شریعت مطہرہ میں موجود نہ ہو اور جو اس کی دلیل بن سکے۔ مسلم شریف میں نبی اکرم کے ارشاد گرامی " کل بدعة ضلالة " سے یہی مراد ہے۔ اور آئمہ، فقہاء اور وہ علماء کرام جن کی اتباع کی جاتی ہے ان  کے نزدیک  یہی واضح اور صریح مفہوم ہے۔

 

 ضروری وضاحت :

وہ قطعی مسائل جن پر مسلمانوں میں کوئی اخلاف نہیں ہے۔ کیونکہ یہی مسائل اسلام کی اس شناخت کا کردار ادا کرتے ہیں جس میں کسی کا کوئی اخلاف نہیں ہے۔ اور یہ مسائل دین کے ضروری مسائل ہیں۔ انہیں دین کی کلیات کا درجہ حاصل ہے ۔ ان سے نچلے درجے میں وہ اجتہادی مسائل ہیں کہ ان میں مسلمان کیلئے کسی بھی مذہب کی پیروی کرنا جائز ہے بشرطیکہ اصحاب مسالک  ایسے علماء ہوں جو دلیل میں اجتہاد اور غور و فکر کرسکتے ہیں۔ لیکن جس میں اجتہاد کی شروط مفقود ہوں اس کے اجتہاد کا کوئی اعتبار نہیں ہو گا۔ مطلب یہ کہ کسی کیلئے بھی یہ جائز نہیں ہے کہ ایسے مسائل میں اپنے مخالف پر بدعتی، گمراہ یا فاسق   ہونے کا  الزم لگائے جن میں علماء کا اختلاف ہے اور ہر دور میں اس امت کے علماء کرام نے ان مسائل کو قبول کیا ہے۔ اور ان میں کسی نے بھی ان علماء کو گمراہ سمجھنے کی جرأت نہیں کی۔ زیادہ سے زیادہ وہ یہ کرسکتا ہے کہ دوسرے مسلک کی تقلید کر لے۔ اور ایسا کرنے سے امت میں تفریق پیدا نہیں ہو گی۔  اپنے مذہب پر اصرار کرنا کہ یہی حق ہے اس کے علاوہ سب غلط اور باطل ہیں تو یہ طریقہ اختلافات، تنازع اور جھگڑے فساد پیدا کرتا ہے۔

 اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا:  " اور اطاعت کرو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی اور آپس میں نہ جھگڑو  ور نہ تم کم ہمت ہو جاؤ گے اور اکھڑ جائے گی تمہاری ہوا اور (ہر مصیبت پر) صبر کرو بیشک اللہ تعالی صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے "([4])

امام ابن قدامہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اللہ تعالی نے  اس امت میں اصحاب علم آئمہ پیدا کیے اور ان کے ذریعے اسلام کے قواعد  کی بنیاد رکھی  اور ان کے ذریعے سے احکامات کے پیچیدہ امور کو واضح کیا ۔ ان ائمہ کا آپس میں  اتفاق قطعی حجت ہے اور ان کا اختلاف  رحمت ہے ۔([5])

علماء کرام تو  اختلاف اور اس کی حقیقت کو اس طرح سمجھتے تھے جس کی وجہ سے وہ کسی کے اجتہاد پر بھی اس کو فاسق یا بدعتی نہیں کہتے تھے اگرچہ اس کا اجتہاد غلط ہی کیوں نہ ہو۔ امام ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر ہم امام کی اجتہادی غلطی پر ،جو اللہ تعالی کی طرف سے اسے معاف ہے ، اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسے بدعتی کہنا شروع کر دیں تو پھر "ابن نصر" سلامت رہیں گے نہ ہی " ابن مندہ " بچیں گےاور نہ ہی ان سے کوئی بڑا عالم دین بچے گا۔ اللہ تعالی ہی اپنی مخلوق کو راہِ حق کی ہدایت دینے والا ہے، وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے، پس ہم اللہ تعالی کی پناہ مانگتے ہیں خواہشات نفس اور بدخلقی سے۔([6])

ان اساسی مفاہیم کو واضح کرنے  بعد ہم یہ کہیں گے یہ لوگ ان امور میں امام پر بدعت کا حکم لگاتے ہیں جن کے واجب اور سنت ہونے میں علماء کرام کا اختلاف ہے۔ مثلا ڈاڑھی کو بڑھانا وغیرہ۔ یا ان کے حرام اور مکروہ ہونے میں ان کا اختلاف ہے۔  مثلا موسیقی سننا وغیرہ۔ بلکہ انہوں نے صرف اپنے مسلک کو سچا اور اپنے علاوہ سب باطل قرار دیا ہے اور یہی نہیں بلکہ اس کا پرچار کرتے وقت ان مسائل کو قطعی مسائل سے ملا دیتے ہیں۔ جیسے نماز اور روزے  کے فرض ہونا۔

اور داڑھی کٹوانا اور کپڑے چھوٹے سلوانا  جیسے مسائل فقہ اسلامی میں اختلافی مسائل ہیں جن میں کسی بھی امام کی پیروی کرنا مسلمان کیلئے جائز ہے۔ ان مسائل میں لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کرنا اور انہیں بدعتی یا فاسق بنانا  صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے مخالف کی رائے  کو لیا ہے، جائز نہیں ہے۔ اس طرح علی الاطلاق مسلمانوں پر فسق یا بدعت کے الزام لگانا ان میں تفریق پیدا کرنے کا سبب بنے گا، جو بہت بڑا جرم ہے  اللہ تعالی ہمیں اس سے محفوظ فرمائے۔

بنا بر ایں مذکورہ سوال میں ہم یہ کہیں گے کہ ظنی مسائل میں لوگوں پر  جھوٹی تہمتیں نہیں لگانی چاہئیں اور نہ ہی ان مسائل کو بدعت سمجھتے ہوئے ان لوگوں کی اقتداء میں نماز  ترک کرنی چاہیے۔ یہ اختلافی مسائل ہیں ان کی وجہ سے امت مصطفی علی صاحبھا افضل الصلاۃ والتسلیم میں فتنہ فساد اور تفریق  پیدا کرنا جائز نہیں ہے۔ اللہ تبارک وتعالی نے ہمیں جماعت میں رہنے کا حکم دیا ہے اور فرقہ بندی سے منع فرمایا ہے بارگاہ خداوندی سے دعا ہے کہ مسلمانوں کے دلوں میں اتحاد پیدا فرمائے۔ آمین۔

 

والله تعالى اعلم بالصواب۔

 

 

 



[1] تاج العروس امام زبیدی 20/307 ط وزارم الاعلام- الکویت

[2] مصالح الآنام امام عز بن عبدالسلام 2/337 ط۔ دارالکتب

[3] جامع العلوم الحکم لابن رجب 2/127 ط۔مؤسسۃ الرسالۃ

[4] سورۃ الانفال 46

[5] المغنی امام ابن قدامہ 1/2ط۔ دار احیاء التراث

[6] سیر اعلام النبلاء14/40 ط۔ مؤسسۃ الرسالۃ

Share this:

Related Fatwas