طلوعِ آفتاب سے قبل تک نمازِ فجر کو...

Egypt's Dar Al-Ifta

طلوعِ آفتاب سے قبل تک نمازِ فجر کو مؤخر کرنا

Question

 کیا طلوعِ آفتاب سے قبل تک نمازِ فجر کو مؤخر کرنا جائز ہے؟

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد! اگر نمازی نے صبح کی نماز طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب کے درمیان ادا کرلی تو اس نے نماز صحیح وقت پر ادا کی، لیکن اس کا وقت فضیلت میں چار درجوں پر مشتمل ہے:
1۔ فضیلت والا وقت، وہ یہ کہ نماز اول وقت میں ادا کی جائے۔
2۔ اختیاری وقت، وہ یہ کہ وقتِ فضیلت کے بعد روشنی پھیلنے تک ادا کی جائے۔
3۔ بغیر کراہت کے جائز وقت، وہ یہ کہ روشنی پھیلنے سے لے کر سرخی پھیلنے تک ادا کی جائے۔
4۔ جائز وقت مگر کراہت کے ساتھ، وہ یہ کہ سرخی کے وقت اور طلوع آفتاب کے وقت کے درمیان ادا کرنا۔
اسی ترتیب کے مطابق نماز کی ادائیگی کے فضائل اور اس پر ثواب کے درجات ہیں؛ پہلے درجے میں سب سے زیادہ ثواب ہے، اور آخری میں سب سے کم۔
امام رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نماز فجر کا وقت طلوعِ فجر سے لے کر طلوعِ آفتاب سے قبل تک ہے، اختیاری وقت یہ ہے کہ روشنی پھیلنے کے وقت سے مؤخر نہ کی جائے؛ حدیث، جبریل کی وجہ سے۔ اور اس کے چار اوقات ہیں: وقتِ فضیلت، یہ اول وقت ہے، پھر اختیاری وقت ہے، یہ روشنی پھیلنے تک ہوتا ہے، پھر بغیر کراہت کے جائز وقت، یہ طلوعِ آفتاب سے قبل سرخی تک ہوتا ہے ، پھر اس کے بعد کراہت کے ساتھ جائز وقت ہے یعنی اس وقت تک نماز میں تاخیر کرنا مکروہ ہے۔
والله سبحانه وتعالى اعلم۔

 

Share this:

Related Fatwas