کیا ماں کا ماموں بیٹی کا محرم ہے

Egypt's Dar Al-Ifta

کیا ماں کا ماموں بیٹی کا محرم ہے

Question

 حج عمرہ کروانا بھی ہماری چیرٹی کی سرگرمیوں میں سے ایک ہے، ہمیں ایک عورت کا پاسپورٹ ملا ہے جو اپنے ماں کے ماموں کے ساتھ عمرہ کلئے جانا چاہتی ہے، جو کہ ان دونوں کے ساتھ سفر کرۓ گا؛ تو کیا ماں کا ماموں اس عورت کا محرم ہے؟ یاد رہے کہ اس آدمی کی بہن جو کہ اس عورت کی نانی ہے، بھی اسی کارواں میں عمرہ کیلئے جارہی ہے۔

Answer

 الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد: شرعا یہ بات مسلم ہے کہ ماں یا باپ کے ماموں ہمیشہ کیلئے محرم ہونے میں سگے ماموں کی طرح ہیں، اگرچہ جتنی بھی پشتیں پیچھے چلی جائیں۔ مردوں کیلئے جن عورتوں سے نکاح کرنا حرام ہے ان کا ذکر کرتے ہوۓ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ﴾ ( ) ''حرام کردی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور تمہاری بھتیجیاں اور اور تمہاری بھانجیاں ''
شمس الدين خطيب شربيني رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حرام کی گئی عورتوں میں سے چوتھی اور پانچویں تمام جہتوں سے بھتیجیاں اور بھانجیاں ہیں اور پھر ان کی اولاد کی بیٹیاں ہیں، نسب میں چاہے جتنی بھی نیچے چلی جائیں۔( )

اس بناء پر ہم کہیں گے کہ ماں کا ماموں اس عورت کا محرم ہے جو کہ اس پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے حرام ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.

Share this:

Related Fatwas