منجمد بینک اکاؤنٹ کی زکوٰۃ کا حکم جس میں مالک کو تصرف کی اجازت نہ ہو
Question
ایک نوجوان اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمنی گیا، اور سفری تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اس نے ایک منجمد بینک اکاؤنٹ کھولا جس میں اس نے اپنی قیام کی مدت کے اخراجات جیسے گھر کا کرایہ، انشورنس، کھانا وغیرہ کے لیے رقم جمع کرائی۔ اس اکاؤنٹ سے وہ آزادانہ طور پر تصرف نہیں کر سکتا۔ کیا اس رقم پر زکوٰۃ واجب ہوگی، واضح رہے کہ یہ رقم نصاب کو پہنچتی ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ اس نوجوان کی وہ رقم جو اس نے مذکورہ ملک میں اپنے عارضی قیام کے دوران اخراجات (جیسے رہائش کا کرایہ، انشورنس، خوراک وغیرہ) کے لیے ایک منجمد بینک اکاؤنٹ میں جمع کر رکھی ہے، اس پر شرعاً زکوٰۃ واجب نہیں ہے، اگرچہ وہ نصاب کو پہنچتی ہو۔
تفصیل:
زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط
اللہ تعالیٰ نے اموال میں زکوٰۃ فرض کی ہے، اور اسے اس شخص پر واجب قرار دیا ہے جو نصاب کا مالک ہو، جبکہ اس کے ذمے کوئی قرض نہ ہو، اور اس مال پر قمری مہینوں کے اعتبار سے ایک سال گزر جائے، اور وہ مال اس کی اور اس کے زیرِ کفالت افراد کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو؛ کیونکہ شریعت نے زکوٰۃ کو لوگوں پر تنگی ڈالنے یا ان کو ان کی طاقت سے بڑھ کر مکلف بنانے کے لیے مقرر نہیں کیا، بلکہ اس کا مقصد محتاجوں کی حاجت پوری کرنا اور معاشرے کے طبقات کے درمیان باہمی تعاون (تکافل) کو فروغ دینا ہے، اس انداز میں کہ زکوٰۃ دینے والا نہ تنگی میں مبتلا ہو اور نہ اپنی یا اپنے زیرِ کفالت افراد کی ضروریات میں کوتاہی کا شکار ہو۔
اور زکوٰۃ کی مشروعیت کی اصل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِمْ بِهَا﴾ (التوبہ: 103)، ترجمہ:"ان کے مالوں میں سے صدقہ (زکوٰۃ) لے لیجیے، جس کے ذریعے آپ انہیں پاک کریں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے۔" یعنی اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کو نفس کو بخل کی بیماری سے پاک کرنے کا ذریعہ بنایا، اور خرچ کرنے اور دینے کی صفت کے ذریعے اسے نفس کی تہذیب کا وسیلہ قرار دیا، اور مؤمن کے دل میں عبودیت کے معانی کو بڑھانے کا سبب بنایا، تاکہ وہ اپنے مال سے حد سے زیادہ وابستہ نہ ہو اور نہ ہی اس پر مغرور ہو، بلکہ اللہ کے فضل کو پہچانے اور اس کی عطا کردہ نعمتوں پر اس کے احسان کو یاد رکھے ۔
امام قشیری نے "لطائف الإشارات" میں اس تطہیر کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ زکوٰۃ انسان کو اس کے نفس کے بخل سے پاک کرتی ہے، اور اسے اس بات کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ اپنے مال پر فخر کرنے کے بجائے اللہ کے احسان کو سمجھے کہ اس نے اسے اس مال سے کچھ حصہ جدا کرنے یعنی خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔
اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا تو فرمایا: “انہیں بتاؤ کہ اللہ نے ان کے مالوں میں ایک صدقہ فرض کیا ہے، جو ان کے مالداروں سے لیا جائے گا اور ان کے فقراء کی طرف لوٹایا جائے گا۔” (متفق علیہ)
منجمد بینک اکاؤنٹ (مجمَّد اکاؤنٹ) کی حقیقت
بند یا منجمد بینک اکاؤنٹ دراصل بینک اکاؤنٹس کی ایک خاص قسم ہے جسے بعض ممالک اپنے انتظامی اور مالیاتی ضوابط کے تحت اس شرط کے طور پر مقرر کرتے ہیں کہ کوئی شخص ان کے ملک میں داخلہ اور قیام حاصل کر سکے۔ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ سفر کرنے والے کی مالی استطاعت کی تصدیق ہو جائے، اور یہ اکاؤنٹ عموماً غیر منافع بخش ہوتا ہے ۔
اس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ متعلقہ اتھارٹی سفر کے خواہش مند شخص (چاہے وہ تعلیم، ملازمت یا کسی اور سرکاری مقصد کے لیے جا رہا ہو) کو اس بات کا پابند کرتی ہے کہ وہ ایک مخصوص رقم جمع کروائے جو اس کے بنیادی اخراجات جیسے رہائش، خوراک وغیرہ کو ایک مقررہ مدت (عموماً ایک سال) تک پورا کرنے کے لیے کافی ہو۔ یہ رقم اس کے نام پر کھولے گئے ایک خاص بینک اکاؤنٹ میں رکھی جاتی ہے، مگر اس پر نکالنے کے حوالے سے پابندیاں عائد ہوتی ہیں، چنانچہ اسے ہر ماہ ایک متعین حد تک ہی رقم نکالنے کی اجازت ہوتی ہے، جس سے زیادہ وہ نہیں لے سکتا۔ اس پابندی کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اس شخص کے پاس پورے قیام کے دوران کم از کم ضروری اخراجات کے لیے رقم موجود رہے۔ اور اسے ان پابندیوں سے آزاد ہونے یا ان میں تبدیلی کی اجازت صرف اسی وقت ملتی ہے جب مقررہ مدت پوری ہو جائے یا کوئی قانونی وجہ پیدا ہو جائے جس کی بنیاد پر اکاؤنٹ کی پابندیاں ختم یا تبدیل کی جا سکیں۔
اور جب اس اکاؤنٹ میں جمع شدہ مال کی نوعیت یہ ہو کہ وہ ایک حد تک سرکاری ضابطے کی قید میں بند ہو، اس طرح کہ اس کا مالک جب چاہے اسے نہ نکال سکتا ہو، نہ اپنی مرضی سے کہیں منتقل کر سکتا ہو، اور نہ ہی اسے مختلف نفع بخش صورتوں میں لگا سکتا ہو، جیسے خرید و فروخت یا سرمایہ کاری وغیرہ، اور یہ مال دراصل اس کی عارضی قیام کے دوران بنیادی اخراجات کے لیے مخصوص ہو—یعنی وہ اخراجات جن کے بغیر انسان کی زندگی نہیں چل سکتی، جیسے رہائش کا کرایہ، طبی انشورنس، آمد و رفت کے اخراجات، اور کھانے پینے، لباس اور علاج وغیرہ کی ضروریات—جیسا کہ سوال میں مذکور ہے؛ تو فقہاء کی رائے یہ ہے کہ ایسا مال جو اس طرح کے لازمی اخراجات میں خرچ ہونے کے لیے مشغول ہو، اسے حکماً معدوم کے درجہ میں شمار کیا جاتا ہے ، لہٰذا اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
امام کاسانی نے "بدائع الصنائع" میں مال پر زکوٰۃ کے وجوب کی شرائط بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ مال انسان کی بنیادی ضروریات سے زائد ہو، کیونکہ اسی سے غنا اور نعمت کا تحقق ہوتا ہے، یعنی آدمی اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، اور اسی صورت میں خوش دلی کے ساتھ زکوٰۃ ادا کرنا ممکن ہوتا ہے؛ اس لیے کہ جو مال بنیادی ضرورت میں صرف ہو رہا ہو، اس کا مالک اس سے بے نیاز نہیں ہوتا، اور نہ ہی وہ مال حقیقی نعمت شمار ہوتا ہے، کیونکہ ضروری مقدار سے زیادہ ہی تنعّم (آرام و آسائش) حاصل ہوتا ہے، جبکہ ضروری مقدار تو بقاء اور جسم کی سلامتی کے لیے ہوتی ہے، لہٰذا اس پر شکر بھی دراصل بدن کی نعمت کا شکر ہے، اور ایسے مال سے خوش دلی کے ساتھ ادائیگی ممکن نہیں ہوتی، اس لیے زکوٰۃ بھی اس انداز سے ادا نہیں ہو سکتی جس کا حکم دیا گیا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اپنے مالوں کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔”
اور امام بدر الدین عینی حنفی نے "البنایہ" میں فرمایا کہ بنیادی ضرورت وہ ہے جو انسان کو ہلاکت سے بچائے، خواہ حقیقتاً یا حکماً، جیسے نفقہ۔
اور امام زین الدین ابن نجیم نے "البحر الرائق" میں زکوٰۃ کے مال کی شرط بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ مال بنیادی ضروریات سے فارغ ہو، کیونکہ جو مال ان ضروریات میں مشغول ہو وہ گویا معدوم (یعنی موجود نہ ہونے کے حکم میں) ہے۔ اور "شرح المجمع" میں ابنِ ملک نے اس کی تفسیر یہ بیان کی ہے کہ بنیادی ضرورت وہ ہے جو انسان کو ہلاکت سے بچائے، یا تو حقیقتاً (جیسے نفقہ) یا حکماً (جیسے قرض)۔
خلاصہ:
مذکورہ تفصیل کی بنیاد پر، صورتِ مسئولہ میں اس نوجوان کی وہ رقم جو اس نے جرمنی میں اپنے عارضی قیام کے دوران اخراجات (جیسے رہائش کا کرایہ، انشورنس، خوراک وغیرہ) کے لیے ایک منجمد بینک اکاؤنٹ میں جمع کر رکھی ہے، اس پر شرعاً زکوٰۃ واجب نہیں ہے، اگرچہ وہ نصاب کو پہنچتی ہو۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
