ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیر شروع کرنے کا حکم
Question
ایک خاتون پوچھ رہی ہیں: کیا یہ مستحب ہے کہ میں ذوالحجہ کے مہینے کے آغاز ہی سے اپنے گھر والوں کے ساتھ مل کر تکبیر کہنا شروع کر دوں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ ان مبارک دنوں میں اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر تکبیر کہنا نیکی اور تقویٰ پر باہمی تعاون کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدة: 2] ترجمہ: “نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون نہ کرو۔” اور یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ ﷺ کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک سنت کو زندہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ ذوالحجہ کے مہینے کے آغاز سے تکبیر کہنا مستحب ہے، اور ان مبارک دنوں میں ذکر صرف تکبیر تک محدود نہیں، بلکہ اس میں تسبیح، تہلیل اور دیگر اذکار بھی شامل ہیں۔
تفصیل۔۔۔
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کی فضیلت
اللہ تعالیٰ نے بعض اوقات کو بعض پر مختلف رحمتوں اور عطاؤں کے ذریعے فضیلت دی ہے، اور ان مواقعِ خیر کو غنیمت سمجھنے اور ان سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی ہے، تاکہ اللہ کی رحمت، اس کی مغفرت اور معافی حاصل کی جا سکے۔ چنانچہ جناب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “تمہارے رب عزوجل کی طرف سے تمہاری زندگی کے دنوں میں کچھ خاص رحمتیں اور عنایتیں ہوتی ہیں، لہٰذا ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو، شاید تم میں سے کسی کو ان میں سے کوئی ایسی رحمت مل جائے جس کے بعد وہ کبھی بدبخت نہ ہو۔” اسے امام طبرانی نے “المعجم الأوسط” میں روایت کیا ہے۔
انہی مبارک رحمتوں اور نورانی موسموں میں سے ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن بھی ہیں، جن میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں اور گناہ و خطائیں مٹا دی جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی قسم کھاتے ہوئے فرمایا: ﴿وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ﴾ [الفجر: 1-2] ترجمہ: “قسم ہے فجر کی، اور دس راتوں کی۔”
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں مستحب اعمال
اللہ تعالیٰ نے ان مبارک دنوں میں مختلف قسم کی عبادات اور نیکیوں کی طرف ترغیب دی ہے، جیسے: روزہ، نماز، صدقہ، ذکر، دعا، استغفار، تسبیح، تہلیل، تکبیر، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام، قرآنِ کریم کی تلاوت اور اس کو غور سے سننا، اور اس کے علاوہ دیگر نیک اعمال؛ کیونکہ ان دنوں میں کیے گئے اعمال کو دیگر دنوں کے مقابلے میں خاص فضیلت اور امتیاز حاصل ہے۔
چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “ان دنوں سے بڑھ کر کسی دن میں نیک عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب نہیں۔” یعنی ذی الحجہ کے دس دن۔ اسے امام احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔
یہ عمومی طور پر تمام نیک اعمال کے بارے میں ہے۔
ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیر شروع کرنے کا حکم
جہاں تک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بطور خاص تکبیر کہنے کا تعلق ہے، جسے “تکبیرِ مطلق” کہا جاتا ہے اور جو اس مہینے کے آغاز ہی سے شروع ہو جاتی ہے، تو شرعاً مستحب ہے کہ مسلمان ان مبارک دنوں میں تکبیر کو ایسے مقامات پر ادا کرے جو اس کے لیے مناسب ہوں، جیسے مسجد، گھر وغیرہ۔ اس میں مقیم اور مسافر، مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس عمومی فرمان کے تحت ہے: ﴿لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ﴾ [الحج: 28] “تاکہ وہ اپنے فائدے کے مواقع پر حاضر ہوں اور ان مقررہ دنوں میں اللہ کے نام کا ذکر کریں اس پر جو اس نے انہیں چوپایوں سے رزق دیا ہے۔”
“ایامِ معلومات” سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں، یعنی اس مہینے کے پہلے دن سے لے کر یوم النحر (قربانی کے دن) تک، جیسا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، اور یہی جمہور علماء کا قول ہے، جیسا کہ امام قرطبی رحمہ اللہ نے “الجامع لأحكام القرآن” (3/2-3، مطبوعہ: دار الكتب المصرية) میں ذکر کیا ہے۔
اور حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: “اللہ کے نزدیک ان دس دنوں سے بڑھ کر کوئی دن نہیں جن میں نیک عمل زیادہ محبوب ہو، لہٰذا ان دنوں میں کثرت سے حمد، تکبیر اور تہلیل (لاإله إلا الله) کیا کرو۔” اسے امام احمد اور امام بیہقی نے “شعب الإيمان” میں روایت کیا ہے۔
علامہ حجّاوی رحمہ اللہ “الإقناع” (1/202، دار المعرفة) میں فرماتے ہیں: “دونوں عیدوں میں مطلق تکبیر مستحب ہے، اور اس کا اظہار مساجد، گھروں اور راستوں میں، حالتِ حضر و سفر میں ہر اس جگہ کیا جائے جہاں اللہ کا ذکر جائز ہو۔ اور عید الاضحیٰ میں مطلق تکبیر ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے آغاز سے شروع ہوتی ہے، چاہے (ان دنوں میں) قربانی کے جانور نظر آئیں یا نہ آئیں، اور یہ یوم النحر کے خطبہ کے ختم ہونے تک جاری رہتی ہے۔”
اور علامہ رُحیبانِی رحمہ اللہ “مطالب أولي النهى” (1/803، ط. المكتب الإسلامي) میں مطلق تکبیر کے زمان اور مکان کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں: “اور ذوالحجہ کے پورے دس دنوں میں مطلق تکبیر کہنا سنت ہے، چاہے قربانی کے جانور نظر آئیں یا نہ آئیں۔ اور مطلق تکبیر ہر اس جگہ سنت ہے جہاں اللہ کا ذکر جائز ہو، جیسے مسجد، گھر، اور راستہ؛ مسافر ہو یا مقیم، آزاد ہو یا غلام، مرد ہو یا عورت، اہلِ دیہات ہوں یا شہروں کے رہنے والے۔”
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ منقول ہے کہ وہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیر کی سنت کو زندہ کرنے کا خاص اہتمام فرماتے تھے، اور اسے بلند آواز سے لوگوں کے مجمع میں ادا کرتے، اس میں خود بھی شریک ہوتے اور لوگ بھی ان کے ساتھ تکبیر کہتے۔ چنانچہ روایت ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم دونوں ایامِ عشرہ میں بازار کی طرف نکلتے اور تکبیر کہتے، تو لوگ بھی ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتے۔ اسے امام بخاری نے معلقاً روایت کیا ہے، اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے “تغلیق التعلیق” (2/378، مطبوعہ: المكتب الإسلامي) میں اسے موصولاً بیان کیا ہے۔
پس ذوالحجہ کے آغاز ہی سے تکبیر کو ان مبارک دنوں کا شعار (علامتی عمل) بنا دیا گیا، تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سلف صالحین کی سنت کو زندہ کیا جائے، چاہے یہ تکبیر انفرادی ہو یا اجتماعی طور پر کہی جائے۔
البتہ اگر مسلمان زیادہ ثواب حاصل کرنے کے لیے اپنے ذکر کو بڑھانا چاہے اور اذکارِ لسانی، مثلاً حمد، تہلیل، تکبیر وغیرہ میں تنوع پیدا کرنا چاہے تو یہ جائز ہے، اور اس پر اسے اجر بھی ملے گا اور اس میں کوئی حرج نہیں۔
امام نووی رحمہ اللہ “الأذکار” (ص:147، دار الفكر) میں ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں کے اذکار کے باب میں فرماتے ہیں: “ان دس دنوں میں دوسرے دنوں کی نسبت ذکر کی کثرت مستحب ہے۔” اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ذکر مطلقاً مستحب ہے، خواہ اس کی صورتیں اور انداز مختلف ہوں، اور اس کے الفاظ و تعبیرات متنوع ہوں۔
اسی طرح ان مبارک دنوں میں اہلِ خانہ کے ساتھ مل کر تکبیر کہنا بھی ایک عظیم مقصد رکھتا ہے، کیونکہ یہ نیکی اور تقویٰ پر باہمی تعاون کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ [المائدة: 2] ترجمہ: “نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو، اور گناہ اور زیادتی کے کاموں میں باہمی تعاون نہ کرو۔”
اور یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اور آپ کے بعد صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت کو زندہ کرنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اور شریعت میں یہ قاعدہ مسلم ہے کہ “وسائل کا حکم اپنے مقاصد کے تابع ہوتا ہے”، جیسا کہ امام عز بن عبد السلام رحمہ اللہ نے “قواعد الأحكام” (1/53، دار الكليات الأزهرية) میں ذکر کیا ہے۔
خلاصہ
اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق یہ ہے کہ سائلہ کے لیے مستحب ہے کہ وہ ذوالحجہ کے مہینے کے آغاز ہی سے اپنے گھر والوں کے ساتھ گھر میں اللہ تعالیٰ کی تکبیر کہنا شروع کرے، اور ان کے لیے یہ بھی جائز ہے کہ وہ صرف تکبیر پر اکتفا نہ کریں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کسی بھی شکل میں کریں، جیسے تسبیح، تہلیل اور دیگر اذکار۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
