ایامِ رمی میں کسی دن رمیِ جمرات چھو...

Egypt's Dar Al-Ifta

ایامِ رمی میں کسی دن رمیِ جمرات چھوٹ جانے والے شخص کا حکم

Question

اگر حاجی رمیِ جمرات کے کسی دن میں جمرات کی رمی کرنا بھول جائے یا کسی وجہ سے رمی نہ کر سکے تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا وہ کسی دوسرے دن اسے کر سکتا ہے؟

Answer

الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ حاجی کے لیے رمیِ جمرات کا وقت یومِ نحر (10 ذوالحجہ) سے شروع ہوتا ہے اور ایامِ تشریق کے تیسرے دن سورج غروب ہونے تک باقی رہتا ہے۔ چنانچہ یومِ نحر میں حاجی جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں مارتا ہے، اور ایامِ تشریق کے ہر دن تینوں جمرات (جمرۂ صغریٰ، جمرۂ وسطیٰ اور جمرۂ کبریٰ) میں سے ہر ایک کو سات سات کنکریاں مارتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص رمی کا وقت ختم ہونے تک رمی نہ کرے تو اس پر فدیہ واجب ہو جاتا ہے۔

البتہ اگر اس سے مقررہ رمیوں میں سے کوئی رمی فوت ہو جائے، تو وہ ایامِ تشریق کے باقی ماندہ دنوں میں اسے کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں چھوٹی ہوئی رمی اور جس دن تلافی کر رہا ہے اس دن کی رمی کے درمیان ترتیب قائم رکھنا واجب ہوگا، یعنی پہلے فوت شدہ رمی ادا کرے، پھر اس دن کی رمی کرے۔ اور جو رمی اس نے بعد میں ادا کی، وہ قضا نہیں بلکہ ادا شمار ہوگی۔

تفصیل...۔

رمیِ جمرات کا حکم اور اس کا وقت

رمیِ جمرات حج کے واجبات میں سے ایک واجب ہے، اور اس کے وجوب پر پوری امت کا اجماع ہے۔ رمی کے دن چار ہیں: یومِ نحر (10 ذوالحجہ) جس میں جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں ماری جاتی ہیں۔اور ایامِ تشریق، جو یومِ نحر کے بعد آنے والے تین دن ہیں، یعنی 11، 12 اور 13 ذوالحجہ۔ ان دنوں میں تینوں جمرات (جمرۂ صغریٰ، جمرۂ وسطیٰ اور جمرۂ کبریٰ) میں سے ہر ایک کو مسلسل سات سات کنکریاں ماری جاتی ہیں، اور یہ عمل ایامِ تشریق کے ہر دن انجام دیا جاتا ہے۔

حج میں رمیِ جمرات ترک کرنے کا حکم

بغیر کسی عذر کے رمیِ جمرات کو مکمل طور پر ترک کر دینا، یہاں تک کہ اس کا وقت ختم ہو جائے، فدیہ واجب کر دیتا ہے۔ رمی کا وقت ایامِ تشریق کے تیسرے دن سورج غروب ہونے پر ختم ہو جاتا ہے۔

امام ابن عبد البر نے "التمهيد" (17/255) میں فرمایا: "علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس شخص سے ایامِ تشریق میں واجب کی گئی رمی فوت ہو جائے اور آخری دن سورج غروب ہو جائے، جو یومِ نحر سے چوتھا دن اور ایامِ تشریق کا تیسرا دن ہے، تو رمی کا وقت ختم ہو چکا ہے اور پھر کبھی اس کے لیے رمی کرنا ممکن نہیں رہتا، البتہ علماء کے مختلف اقوال کے مطابق وہ دم یا کھانا کھلا کر اس کی تلافی کرے گا۔"

اس کی دلیل وہ روایت ہے جو عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "جس شخص کو حج کے مناسک میں سے کوئی عمل بھول جائے یا وہ اسے ترک کر دے، اسے چاہیے کہ ایک دم (قربانی) دے۔"اس روایت کو موقوفاً امام مالک نے "الموطأ" میں، اور امام بیہقی نے "السنن" اور "معرفة الآثار" میں روایت کیا ہے، اور مذکورہ الفاظ امام بیہقی کی روایت کے ہیں۔

ایامِ رمی میں کسی دن رمیِ جمرات چھوٹ جانے والے شخص کا حکم

جس شخص سے یومِ نحر کی رمی یا ایامِ تشریق کے ابتدائی دنوں میں سے کسی دن کی رمی فوت ہو جائے، تو فقہاء نے اس کی تفصیل بیان کی ہے۔ فقہائے احناف کے نزدیک اگر وہ اپنے فوت شدہ دن کی رمی اس دن کے بعد آنے والی رات میں کر لے تو یہ ادا شمار ہوگی اور اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا؛ کیونکہ رات اپنے سے پہلے والے دن کے تابع ہوتی ہے، لیکن اگر وہ رمی کو طلوعِ فجر کے بعد تک مؤخر کر دے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ قضا شمار ہوگی اور اس پر فدیہ بھی لازم ہوگا۔ اس کے برخلاف امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن الشیبانی کے نزدیک ایسی صورت میں فدیہ لازم نہیں ہوگا۔([1])

فقہائے مالکیہ کے نزدیک اگر رمی کا دن گزر جائے تو حاجی رات میں یا اس کے بعد رمی کر سکتا ہے، لیکن یہ رمی ادا نہیں بلکہ قضا شمار ہوگی؛ کیونکہ ادا کا وقت، یعنی دن، ختم ہو چکا ہے۔ نیز اس صورت میں اس پر فدیہ بھی لازم ہوگا۔([2])

جبکہ فقہائے شافعیہ کے اَظہر قول اور فقہائے حنابلہ کے نزدیک اگر کسی حاجی سے ایامِ تشریق کے ابتدائی دنوں میں سے کسی دن کی رمی فوت ہو جائے تو وہ باقی ماندہ ایامِ تشریق میں اس کی تلافی کر سکتا ہے، اور یہ رمی ادا شمار ہوگی، قضا نہیں، نیز اس پر کوئی فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا۔

ان کی دلیل یہ ہے کہ منیٰ کے تمام ایام رمی کے جواز کا وقت ہیں اور وہ گویا ایک ہی دن کے حکم میں ہیں، البتہ ہر دن اپنی رمی کے لیے وقتِ اختیار رکھتا ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص نے ایک دن کی رمی ایامِ تشریق کے کسی بعد والے دن میں ادا کر لی تو یہ کافی ہوگی اور اس پر کچھ لازم نہیں آئے گا۔اسی طرح تمام فوت شدہ رمیوں کو آخری دن جمع کرکے ادا کرنا بھی جائز ہے، لیکن اس صورت میں فوت شدہ رمی اور موجودہ دن کی رمی کے درمیان ترتیب قائم رکھنا واجب ہوگا؛ چنانچہ پہلے فوت شدہ رمی ادا کرے، پھر اپنے موجودہ دن کی رمی کرے۔([3])

اس کی دلیل وہ روایت ہے جو عاصم بن عدی عجلانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے "اونٹ چرانے والوں کو رخصت دی کہ وہ ایک دن رمی کریں اور ایک دن چھوڑ دیں۔" اس روایت کو ابن ماجہ، ابو داود، ترمذی اور نسائی نے روایت کیا ہے۔

اور ابو داود کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ: "رسول اللہ ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو منیٰ میں رات گزارنے سے رخصت دی؛ چنانچہ وہ یومِ نحر کو رمی کریں، پھر اگلے دن دو دنوں کی رمی اکٹھی کر لیں، اور روانگی کے دن (یومِ نفر) رمی کریں۔"

اس حدیث سے استدلال کی صورت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اونٹوں کے چرواہوں کو رمیِ جمرات مؤخر کرنے کی اجازت دی، جبکہ وہ بعد میں ایامِ تشریق کے باقی دنوں میں اس کی تلافی کر لیتے تھے، جیسا کہ ابن عبد البر نے "الاستذکار" میں بیان فرمایا ہے۔

نیز اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ایامِ تشریق گویا ایک ہی دن کے حکم میں ہیں؛ کیونکہ جب نبی کریم ﷺ نے چرواہوں کو ایک دن کی رمی اگلے دن تک مؤخر کرنے کی اجازت دی تو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دوسرا دن پہلے دن کی رمی کے لیے بھی وقت شمار ہوتا ہے۔

حاصلِ کلام یہ ہے کہ اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر حاجی رمی کے دن سورج غروب ہونے سے پہلے جمرات کی رمی کر لے تو اس کی رمی صحیح طور پر ادا شمار ہوگی۔ اسی طرح اگر ایامِ تشریق کے تیسرے دن سورج غروب ہو جائے اور اس نے ابھی تک رمی نہ کی ہو تو رمی کا وقت ختم ہو چکا ہوگا اور اس پر فدیہ واجب ہوگا۔ اختلاف صرف اس شخص کے بارے میں ہے جو کسی دن کی رمی کو اتنا مؤخر کر دے کہ اس دن کا سورج غروب ہو جائے۔ چنانچہ فقہائے احناف کے نزدیک فجر طلوع ہونے تک رات میں رمی کرنا جائز ہے، اور یہ ادا شمار ہوگی، نیز کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا۔ البتہ اگر فجر کے بعد رمی کرے تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک اس پر فدیہ لازم ہوگا، جبکہ امام ابو یوسف اور امام محمد بن حسن الشیبانی اس کے قائل نہیں ہیں۔ فقہائے مالکیہ کے نزدیک دن گزر جانے کے بعد اگر رات میں رمی کی جائے تو وہ قضا شمار ہوگی اور فدیہ بھی لازم ہوگا۔ جبکہ فقہائے شافعیہ کے اَظہر قول اور فقہائے حنابلہ کے نزدیک رمی کا وقت پورے ایامِ تشریق تک برقرار رہتا ہے، لہٰذا اگر ان دنوں میں بعد میں رمی کر لی جائے تو وہ ادا شمار ہوگی، قضا نہیں، اور اس پر کوئی فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا۔

ایامِ رمی میں کسی دن رمیِ جمرات چھوٹ جانے والے شخص کے بارے میں فتویٰ کے لیے مختار قول

فتویٰ کے لیے مختار قول وہ ہے جسے فقہائے شافعیہ کے اَظہر قول اور فقہائے حنابلہ نے اختیار کیا ہے، کہ ایامِ تشریق کے تمام دن رمی کا وقت ہیں۔ لہٰذا جس شخص سے کسی دن کی رمی فوت ہو جائے، وہ ایامِ تشریق کے باقی دنوں میں اسے ادا کر سکتا ہے، اور اس پر کوئی فدیہ لازم نہیں ہوگا، نیز اس کی رمی ادا شمار ہوگی۔ اس قول کو اختیار کرنے کی وجہ حجاج کے لیے آسانی پیدا کرنا اور ان سے مشقت و تنگی کو دور کرنا ہے۔ اس کی اصل اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾، ترجمہ: "اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے دشواری نہیں چاہتا۔"، اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾، ترجمہ: "اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔" نیز نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: " مجھے یکسو اور آسان دین دے کر مبعوث کیا گیا ہے۔" اس حدیث کو امام احمد بن حنبل نے "المسند" میں اور طبرانی نے "المعجم الکبیر" میں روایت کیا ہے۔

خلاصہ

اس بنا پر اور سوال کے مطابق یہ واضح ہوا ہے کہ حاجی کے لیے رمیِ جمرات کا وقت یومِ نحر (10 ذوالحجہ) سے شروع ہوتا ہے اور ایامِ تشریق کے تیسرے دن سورج غروب ہونے تک باقی رہتا ہے۔ چنانچہ یومِ نحر میں حاجی جمرۂ عقبہ کو سات کنکریاں مارتا ہے، اور ایامِ تشریق کے ہر دن تینوں جمرات (جمرۂ صغریٰ، جمرۂ وسطیٰ اور جمرۂ کبریٰ) میں سے ہر ایک کو سات سات کنکریاں مارتا ہے۔ پس اگر کوئی شخص رمی کا وقت ختم ہونے تک رمی نہ کرے تو اس پر فدیہ واجب ہو جاتا ہے۔

البتہ اگر اس سے مقررہ رمیوں میں سے کوئی رمی فوت ہو جائے، تو وہ ایامِ تشریق کے باقی ماندہ دنوں میں اسے کر سکتا ہے، لیکن اس صورت میں چھوٹی ہوئی رمی اور جس دن تلافی کر رہا ہے اس دن کی رمی کے درمیان ترتیب قائم رکھنا واجب ہوگا، یعنی پہلے فوت شدہ رمی ادا کرے، پھر اس دن کی رمی کرے۔ اور جو رمی اس نے بعد میں ادا کی، وہ قضا نہیں بلکہ ادا شمار ہوگی۔

والله سبحانه وتعالى أعلم.

 


[1] "اللباب في شرح الكتاب" علامہ المیدانی (1/ 210، ط. المكتبة العلمية)، "رد المحتار" علامہ ابن عابدین (2/ 521-522، ط. دار الفكر)۔

[2] "الشرح الصغير" علامہ الدردیر (2/ 63، ط. دار المعارف)۔

[3] "منهاج الطالبين" امام نووی (ص: 90، ط. دار الفكر)، "تحفة المحتاج" ابن حجر ہیتمی (4/ 138، ط. دار إحياء التراث العربي)، "مغني المحتاج" خطیب شربینی (2/ 279، ط. دار الكتب العلمية)، "شرح منتهى الإرادات" ابو السعادات البہوتی (1/ 590، ط. عالم الكتب)، "الإنصاف" مرداوی (4/ 46، ط. دار إحياء التراث العربي)۔

Share this:

Related Fatwas