کسی ملک کے باشندوں کا ایک ہی فقہی مذہب کی پابندی اختیار کرنے کا حکم
Question
سائل پوچھ رہا ہے کہ کسی ملک کے باشندوں کے لیے صرف ایک فقہی مذہب کی پابندی اختیار کرنے کا کیا حکم ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛اسلامی شریعت میں آسانی کے مظاہر میں سے ایک فقہی مذاہب کا تنوع (مختلف ہونا) ہے۔ یہ تنوع باہمی اتفاق، معاشرتی ہم آہنگی اور صفوں کے اتحاد کا ایک ذریعہ بھی ہے؛ چنانچہ کسی ملک کے باشندوں کا کسی مخصوص فقہی مذہب کی پابندی اختیار کرنا نظم و ضبط کے قیام، جماعت سے وابستگی اور دینی رہنمائی کے مرجع کو متحد رکھنے کا ذریعہ بنتا ہے، یعنی اس علاقے کے باشندے اپنے ان علما کے فتاویٰ پر عمل کرتے ہیں جن کی طرف وہ رجوع کرتے ہیں۔ یہ علما اپنے فقہی مذہب کے اصول و قواعد کی روشنی میں اس کے احکام و مسائل کو لوگوں کے پیش آمدہ حالات اور نئے مسائل پر ان کے معاشرتی مصالح کو مدنظر رکھتے ہوئے منطبق کرتے ہیں۔
اس طرح فقہی مذہب معاشرے کی دینی ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے، کیونکہ اس کا تعلق انسان کی زندگی کے تمام امور سے ہے، جن میں دینی شعائر و عبادات، معاہدات و معاملات، عرف و عادات شامل ہیں۔ یہ تمام امور اس آسانی کا حصہ ہیں جو شریعت نے مکلفین کے لیے فراہم کی ہے، اور ان سے مشقت و تنگی دور کرنے کے اسباب میں سے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمایا: ﴿يُرِيدُ اللهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ [البقرة: 185]، ترجمہ: اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے تنگی نہیں چاہتا‘‘ اور فرمایا: ﴿وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ﴾ [الحج: 78] ترجمہ: ’’اور اس نے دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔‘‘
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، نہ کہ سختی پیدا کرنے والا۔‘‘ اسے امام بخاری نے روایت کیا ہے۔
تمام معتبر فقہی مذاہب خیر پر مبنی ہیں۔ امام قرافی نے الذخيرة (1/140-141، مطبوعہ: دار الغرب الإسلامي) میں نقل کیا ہے: ’’امام زناتی نے فرمایا: تمام مذاہب جنت تک پہنچنے کے راستے اور سعادت کے ذرائع ہیں؛ چنانچہ جو شخص ان میں سے کسی راستے پر چلے گا، وہ اسے منزل تک پہنچا دے گا۔
پس کسی ملک کے باشندوں کا کسی مخصوص فقہی مذہب پر متفق ہونا ان کے ثقافتی اتحاد کو محفوظ رکھنے، انتشار سے بچانے اور باہمی اختلاف و نزاع کو کم کرنے کا ذریعہ ہے۔ اور یہ ایسے مقاصد ہیں جن پر ریاستیں قائم ہوتی ہیں اور جن کے ذریعے ان کے وسائل اور قومی اثاثوں کا تحفظ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح کسی علاقے کے باشندوں کا ایک مخصوص فقہی مذہب کی پابندی اختیار کرنا حقوق کے استحکام اور معاملات میں نظم و ضبط کا باعث بنتا ہے، بالخصوص ان اختلافی احکام میں جن کے تحت ایک فقہی قول کے مطابق کوئی حق ثابت ہوتا ہے، جبکہ دوسرے قول کے مطابق وہ ثابت نہیں ہوتا۔ اگر لوگوں کو یہ آزادی دے دی جائے کہ ہر شخص اپنی رائے کے مطابق حکم لگائے اور اپنی خواہش کے موافق اقوال میں سے انتخاب کرتا رہے، تو اکثر اوقات اس سے بہت سے معاملات میں اضطراب اور بے نظمی پیدا ہو سکتی ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
