شیئر بازار میں حصہ پر تجارت کرنا

Egypt's Dar Al-Ifta

شیئر بازار میں حصہ پر تجارت کرنا

Question

سال ٢٠٠٩ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو حسب ذیل سوال پرمشتمل ہے:

کیا شیئر بازار میں حصے پر تجارت کا معاملہ کرنا حلال ہے ، چو نکہ میں نے دس ہزار پونڈ کے مالی مستندات خریدے اور مضاربہ کیا تو دو سال کے عرصے میں وہ ایک بڑی رقم بن گئى،لیکن تقریبا ایک سال قبل مجھ سے میرے ایک دوست نے کہا کہ یہ معاملہ شرعی لحاظ سے جائز نہیں ہے، تاہم میں نے ان کی بات کو اہمیت نہیں دی اور یہ معاملہ جاری رکھا، اور ہر دن میرا نفع بڑھ رہا ہے؟
اگر یہ معاملہ حرام ہو تو میں اس رقم کا کیا کروں جو میں نے اس مضاربہ سے حاصل کی ہے؟

Answer

شیئر بازار میں معاملہ کرنا شرعی لحاظ سے جائز ہے بشرطیکہ تجارت کی غرض سے ہو، بازار کو کھلواڑ بنانے کی نيت سے نہ ہو، اور کمپنی کا کاروباربھی جائز ہو، اسی طرح کمپنی کی پونچی اور مستندات برقرار اور معلوم ہوں، اگر یہ شرائط پائے جاتے ہوں تو آپ کا مال حلال ہے اس میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ شیئر بازار بنیادی طور پرتجارت کےلئے مال فراہم کرنے کا ایک وسیلہ ہے جوئے بازی کا بازار نہیں ، اور جو اسے اس کے مقصد سے ہٹا دے وہ شرعی لحاظ سے گناہ گار ہے.

باقی اللہ سبحانہ و تعالی زیادہ بہتر جاننے والا ہے.
 

Share this:

Related Fatwas