نقاب کا حکم

Egypt's Dar Al-Ifta

نقاب کا حکم

Question

ہمارے پاس آئے ہوے۔ فتوی نمبر ٢٣٤١ بابت سال٢٠٠٤ مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے ، جو مندرجہ ذیل سوال پر مشتمل ہے:
سوال نقاب کے حکم سے متعلق ہے كہ کیا نقاب فرض ہے؟. چنانچہ بعض فقہائے کرام نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث سے يہى استدلال کیا ہے اور نقاب کو واجب قرار دیا ہے کیونکہ آپ رضی اللہ عنہا حج میں اپنے چہرے مبارک کو ڈھانپتی تھیں حتی کہ مسافرین گزر جایا کرتے تھے.

Answer

مسلمان عورت سے جو شرعی لباس مطلوب ہے، وہ ايسا کوئی بھی لباس ہے جس سے جسم کے فتنہ انگیز اعضاء چھپ جائیں اور جسم کی ساخت ظاہر نہ ہو اور وه شفاف یا نہایت باریک نہ ہو، اور جس سے چہرے اور ہاتھوں کو چھوڑ کر پورے جسم کا پردہ ہو جائے.
اسی طرح عورتیں رنگین کپڑے بھی پہن سکتی ہیں مگر شرط یہ ہے کہ جاذب نظر یا فتنہ انگیز نہ ہوں. اگر یہ شرطیں کسی بھی لباس میں پائی جاتی ہوں تو مسلمان عورتوں کے لئے اس لباس کا پہننا اور اس میں نکلنا جائز ہے.
لیکن وہ نقاب جس سے عورتیں اپنا چہرہ چھپاتی ہیں اور وہ دستانے جن سے ہاتھ چھپاتی ہیں، تو ان كے بارے میں جمہور کا مذہب یہ ہے کہ واجب نہیں ہيں. اورعورت کے لیے چہرہ اور دونوں ہاتھوں کا کھلا رکھنا جائز ہے اللہ تعالی کا ارشاد ہے: (وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا( - اور نہ دیکھائیں اپنا سنگھار مگر ان میں سے جو خود بخود ظاہر ہو - [ سورہ نور: ٣١). واضح رہنا چاہئے کہ جمہور صحابہ اور ان کے بعد کے ائمہ کرام نے ''جو خود بخود ظاہر ہو '' یا ظاہری زینت کی تفسیر میں کہا ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور دونوں ہاتھ ہیں. اور یہ تفسیر حضرت ابن عباس،حضرت انس اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہم سے منقول ہے.
نيز اللہ تعالی کے اس ارشاد سے بھی استدلال کرتے ہیں: (وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنّ) - اور ڈالیں اپنی اوڑھنیاں اپنے گریبانوں پر ۔ [ سورہ نور: ٣١]. کیونکہ ''الخمار'' سر کی اوڑھنی " دوپٹے " کو کہتے ہیں. اور'' الجیب'' سینے کی قمیص کی اوپر والی کھلی جگہ کو کہتے ہیں. اور اللہ تعالی نے مسلمان عورت کو اپنی اوڑھنی سے اپنا سینہ چھپانے کا حکم فرمایا ہے، اور اگر چہرہ کو بھی چھپانا واجب ہوتا تو آیت کریمہ میں اس کی بھی صراحت ہو جاتی.
حدیث پاک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: ''حضرت ابو بکر کی بیٹی اسماء حضرت رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے پاس آئیں اور باریک لباس پہنے ہوئے تھیں. تو حضرت رسول اللہ صلى الله عليه و سلم نے اپنا چہرہء مبارک ان سے پھیر لیا اور فرمایا : ''اے اسماء! جب عورت حیض کی عمر کو پہنچ جائے تو اِس کو اور اِس کو چھوڑ کر اور کچھ نہیں دکھنا چاہئے''. آپ صلى الله عليه و سلم نے چہرہء مبارک اور دونوں ہاتھوں کی طرف اشارہ فرمایا۔ ابو داود نے اس حدیث کی روایت کی ہے۔ اور اس بارے میں اور بھی بہت سارے واضح دلائل موجود ہیں جن میں چہرے اور ہاتھوں کے کھلے رہنے کے جواز پر دلائل موجود ہیں.
لیکن بعض فقہا ئے کرام کی رائے یہ ہے کہ عورت کا چہرہ ڈھانپنا واجب ہے، اس لئے کہ امام احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے كہ انہوں نے فرمایا، ہم حضرت رسول اللہ صلى الله عليه و سلم کے ساتھ حالت احرام میں ہوتیں، اور جب قافلے ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمارے نزدیک پہنچ جاتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی چادر کو سر کے اوپر سے چہرے پر ڈا ل ليتی تھیں اور جب وہ آگے گزر جاتے تھے تو پھر کھول لیتیں''.
اگر دقت نظر سے دیکھا جائے تو اس حدیث شریف میں عورت کا چہرہ چھپانے کے واجب ہونے کی دلیل نہیں ہے. کیونکہ صحابہ کرام کا عمل کسی بھی حوالے سے وجوب پر دلالت کرتا ہی نہیں. جبکہ یہاں عین ممکن ہے کہ یہ حکم امہات المؤمنین کے لئے خاص ہو، جس طرح حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ان کے نکاح کی حرمت انکی خصوصیات میں سے ہے.
علم اصول فقہ میں یہ قاعدہ مشہور و معروف ہے کہ جب حقیقی احوال کے بارے میں احتمال پیدا ہو جاتا ہے اور ان میں اجمال آجاتا ہے تو پھر ان سے استدلال کرنا درست نہیں رہتا.
امام بخاری نے اپنی صحیح میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ حضرت رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ''احرام والی عورت نہ چہرے کا پردہ کرے اور نہ ہی دستانے پہنے''۔ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ چہرہ اور دونوں ہاتھ ستر میں شامل نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں اس حکم سے مستثنی ہیں. اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ ستر میں شامل ہوں کیونکہ نماز میں اور احرام کی حالت میں ان کے کھلے رکھنے کے وجوب پر اتفاق ہو چکا ہے.
یہ بدیہی امر ہے کہ شریعت ہرگز نماز میں اور احرام میں ستر کھولنے کو واجب قرار نہیں دے سکتی ہے. اور جو احرام کی ممنوعہ چیزیں ہیں وه اصل میں مباح چیزیں ہیں جیسے کہ ، سلا ہوا کپڑا پہننا، خوشبو لگانا اور شکار کرنا وغیرہ وغیرہ، اور ان میں سے کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو پہلے واجب رہی ہو اور بعد میں احرام کی وجہ سے حرام ہوئی ہو.
خلاصہ کلام یہ ہے کہ مسلمان عورت کا چہرہ اور دونوں ہاتھوں کا چھپانا فرض نہیں ہے، بلکہ مباح کے زمرے میں آسکتا ہے. اور اگر کوئی عورت چہرے اور ہاتھوں کو چھپانا چاہتی ہے تو اس کا یہ عمل جائز ہے ۔ اگر صرف شرعی پردہ یعنی بغیر چہرے اور ہاتھوں کے پردہ کرتی ہے تو بھی اس نے اپنی ذمہ داری نبھادی اور اپنا فریضہ ادا کردیا.

و الله سبحانه و تعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas