خرید و فروخت میں عوض کی شرط رکھنا

Egypt's Dar Al-Ifta

خرید و فروخت میں عوض کی شرط رکھنا

Question

سال ٢٠٠٥ء مندرج استفتاء پر ہم مطلع ہوئے جو مندرجہ ذیل سوال پر مشتمل ہے:

طرفین کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا کہ طے شدہ رقم کے بدلے زمین کے ایک ٹکڑے کی خرید و فروخت ہوگی ، اور ابتدائی اتفاق کے طور پر ٥٠٠٠٠ پونڈ بھی ادا کر دئے گئے، اور ابتدائی خرید و فروخت کا معاہدہ بھی لکھا گیا جس میں یہ تصریح کر دی گئی کہ یہ پیشگی رقم معاہدہ میں خلل پڑنے کی صورت میں بیچنے والے کی ہو جائے گی ، اور ایک ماہ بعد بقیہ رقم کو ادا کئے جانے پر اتفاق ہوا، معاہدہ ہوجانے کے ایک ہفتے کے بعد خریدنے والا مکر گیا اور دوسرے فریق یعنی بیچنے والے کو اس بات کی خبر دی، تو بیچنے والے نے ٥٠٠٠٠ کی رقم لوٹانے سے انکار کر دیا، تو کیا شرعی لحاظ سے اس کا موقف درست ہے؟

Answer

بعض فقہائے کرام نے عوض کی شرط کو جائز قرار دیا ہے اور اس کے پورا کرنے کو واجب کہا ہے اور اس میں مالِ مشروط ادا کرنے کو ضروری جانا ہے ، چنانچہ حنبلیوں نے بیان کیا ہے کہ جس نے کوئی چیز خریدی اور اس کی کچھ قیمت ادا کر دی اور بقیہ رقم ادا کرنے کے لیے کچھ مہلت مانگی تو بیچنے والے نے اس پر یہ شرط لگا دی کہ اگر مقرر وقت آنے پر باقی قیمت ادا نہ کی گئی تو جو خریدنے والے نے پیشگی قیمت ادا کی ہے وہ بیچنے والے کی ملکیت ہو جائیگی، تو یہ شرط درست ہے اور اس پر اس کا اثر بھی مرتب ہوگا، چنانچہ خریدنے والے نے مقررہ وقت پر بقیہ رقم ادا نہ کی تو پیشگی قیمت بیچنے والے کی ملکیت ہو جائیگی.
نیزفرماتے ہيں: بے شک ان کے نزدیک شرطوں کے بارے میں یہ عام قاعدہ ہے کہ معاہدوں میں جدونوں طرف سے ہر قسم کی شرط رکھنا جائز ہے سوائے اس شرط کے جو کسی حرام چیز کو حلال کرے یا کسی حلال چیز کو حرام کرے ، اسی طرح وہ شرط بھی جائز ہے جس کی حرمت کے متعلق شریعت میں کوئی خاص نص نہ ہو ، سوال میں مذکور شرط کے بارے میں شریعت میں کوئی ایسی تصریح نہیں پائی جاتی ہے جس سے یہ شرط حرام ہو سکے، اور جب وہ کسی حرام کو حلال اور کسی حلال کو حرام نہ کرتی ہو تو وہ جائز ہے. اور علامہ حطاب مالکی کی'' التزامات'' نامی کتاب میں آیا ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر پر عقد نکاح میں یہ شرط لگا دے کہ اگر مرد دوسری شادی کرے گا تو اس کو اتنی رقم دینی پڑے گی تو یہ شرط درست ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہے، اگر اس نے اس پر دوسری شادی کی تو مال دینا لازم ہو جائے گا ، اور ان کی یہ تصریح شرط کے معتبر ہونے کے بارے میں ہے، شرط کے پورا کرنے اور وقت پر مالِ مشروط صاحب شرط کو دینے کے وجوب پر واضح بیان ہے.
جو شرط سوال میں مذکور ہے اس میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو شریعت کے خلاف ہو، اور مشروط مقدار میں بھی کوئی جہالت نہیں ہے جس سے معاہدہ پر کوئی اثر پڑتا ہو ، لہذا ان فقہائے کرام کے نزدیک یہ شرط قابل اعتبار ہے اور فتویٰ کے لیے ہم اسی رائے کواختیار کرتے ہیں ، کیونکہ عرف میں اسی پر عمل ہے اور معاملات میں اس کی ضرورت بھی پڑتی ہے اور اس سے حرج کا ازالہ بھی ہوگا لہذا جب خریدار مکر جائے ، تو شرط رکھنے والے کے لئے یہ مال لینا حلال ہے.

و اللہ سبحانہ و تعالی اعلم.
 

Share this:

Related Fatwas