تکرار کے ساتھ چھینکنے والے کو (تشمي...

Egypt's Dar Al-Ifta

تکرار کے ساتھ چھینکنے والے کو (تشميت )" يرحمك الله" کہنا

Question

اگر کسی کو چھینک آئی اور اسے " يرحمك الله " (اللہ تجھ پر رحم فرمائے ) کہہ دیا گیا ہو اس کے بعد پھر اسے بار بار چھینکیں آ رہی ہوں، تو کیا ایک بار " يرحمك الله " کہنا کافی ہو گا یا کہ ہر بار " يرحمك الله " کہنا ہوگاَ 

Answer

الحمد للہ والصلاۃ والسلام علی سیدنا رسول اللہ وآلہ وصحبہ ومن والاہ۔ اما بعد!
عربی زبان میں '' التشميت '' خیر وبرکت کی دعا کرنے کو کہتے ہیں، اور شریعت میں اس کا معنی ہے: چھینکنے والے کیلئے دعاءِ رحمت کرنا، جب مسلمان کو چھینک آئے تو '' الحمد للہ '' کہنا سنت ہے اس کا مسلمان بھائی اس کیلئے '' يرحمك الله '' کہے اور اس کے جواب میں چھینکنے والا '' يهديكم الله ويصلح بالكم '' کہے؛ کیونکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح البخاری میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا: قال: '' إِذَا عَطَسَ أَحَدُكُمْ فَلْيَقُل: الحَمْدُ للهِ، وَلْيَقُل لَهُ أَخُوهُ أَوْ صَاحِبُه: يَرْحَمُكَ اللهُ، فَإِذَا قَالَ لَهُ: يَرْحَمُكَ اللهُ فَلْيَقُلْ: يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُم '' یعنی: جب تم میں سے کسی کو چھینک آئے تو الحَمْدُ للهِ کہے اور اس کا بھائی یا اس کا ساتھی : يَرْحَمُكَ اللهُ کہے پس جب وہ يَرْحَمُكَ اللهُ کہے تو وہ '' يَهْدِيكُمُ اللهُ وَيُصْلِحُ بَالَكُم '' کہے۔
جب کسی کو بار بار چھینکیں آئیں اور دو یا تین سے زیادہ چھینکیں لے تو یہ زکام کی نشانی ہے، یہاں نبوی ہدایت یہ ہے کہ اسے مناسب دعا دیں اور وہ شفا کی دعا ہے، جب کسی کو دو یا تین سے زائد چھینکیں آئیں تو يرحمك الله کہنے والا رک جائے، کیونکہ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے آپ رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے چھینکنے والے کیلئے دو بار '' يرحمك الله '' کہا جب اسے تیسری چھینک آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: '' هَذَا رَجُلٌ مَزكُومٌ '' یعنی اس آدمی کو زکام ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
 

Share this:

Related Fatwas