بارش کے وقت پڑھے جانے والے مسنون دعا "اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا" کا مفہوم
Question
بارش کے وقت پڑھی جانے والی مسنون دعا «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا» سے کیا مراد ہے؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا»ترجمہ: اے اللہ! نفع بخشنے والی بارش برسا۔، اس روایت کو امام بخاری نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے، اور ابو داود کی سنن میں ایک روایت میں یہ الفاظ بھی آئے ہیں: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا هَنِيئًا» ترجمہ: اے اللہ! اس بارش کو زوردار اور خوشگوار و بابرکت بنا ۔
اس حالت میں پڑھی جانے والی دیگر دعائیں بھی وارد ہوئی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: «اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا، اللَّهُمَّ عَلَى الآكَامِ وَالْجِبَالِ وَالآجَامِ وَالظِّرَابِ وَالأَوْدِيَةِ وَمَنَابِتِ الشَّجَرِ»ترجمہ: یا اللہ اب ہمارے اردگرد بارش برسا ہم سے اسے روک دے۔ ٹیلوں، پہاڑوں، پہاڑیوں، وادیوں اور باغوں کو سیراب کر"۔ متفق علیہ۔
اور حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بارش کے وقت یہ دعا کرتے دیکھا: «اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلاً غَيْرَ آجِلٍ»" اے اللہ! ہمیں سیراب فرما، ایسی بارش سے جو ہماری فریاد رسی کرنے والی ہو، اچھے انجام والی ہو، سبزہ اگانے والی ہو، نفع بخش ہو، مضرت رساں نہ ہو، جلد آنے والی ہو، تاخیر سے نہ آنے والی ہو" اسے ابو داود نے اپنی سنن میں روایت کیا ہے۔
اور مذکورہ احادیث کے مجموعی الفاظ سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ بارش کے وقت دعا کرنا مستحب ہے، لہٰذا انسان اپنے رب سے یہ دعا کرے کہ یہ بارش بندوں اور علاقوں کے لیے نفع بخش ہو، نہ کہ عذاب، تباہی یا ڈوبنے کا سبب بنے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قومِ نوح کو طوفانی سیلابوں کے ذریعے ہلاک کیا تھا۔
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے "فتح الباري" (2/ 518، دار المعرفة کی طباعت) میں فرمایا مذکورہ دعا بارش کے بعد پڑھنا مستحب ہے تاکہ خیر و برکت میں اضافہ ہو، اور یہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ اس سے کسی متوقع نقصان کو دور کیا جائے۔
امام ابن عابدین رحمہ اللہ نے "رد المحتار على الدر المختار" (2/ 186، دار الفكر کی طباعت) میں فرمایا: بارش کے نزول کے وقت دعا کرنا مستحب ہے۔
اور علامہ ابن رشد رحمہ اللہ نے "بداية المجتهد ونهاية المقتصد" (1/ 224، دار الحديث کی طباعت) میں فرمایا: علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ استسقاء کے لیے باہر نکلنا، شہر سے نکل کر کھلے میدان میں جانا، اور اللہ تعالیٰ سے دعا و تضرع کرنا ایک سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جاری فرمایا ہے۔اور امام نووی نے "المجموع" (جلد 5، صفحہ 91، دار الفكر کی طباعت) میں فرمایا کہ سنت یہ ہے کہ بارش کے وقت وہی دعائیں کی جائیں جو احادیث میں آئی ہیں، اور مستحب یہ ہے کہ بخاری اور ابن ماجہ کی دونوں روایتوں کو جمع کر کے یوں کہا جائے: "اللهم صيبًا هنيئًا وصيبًا نافعًا"۔
اور علامہ بہوتی نے "شرح منتهى الإرادات" (جلد 1، صفحہ 337، عالم الكتب کی طباعت) میں فرمایا کہ بارش کے وقت دعا میں مشغول ہونا مستحب ہے، کیونکہ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب بارش دیکھتے تو فرماتے: «اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا»، اسے احمد اور بخاری نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ تفصیل سے سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
