احرام میں نیت کے الفاظ ادا کرتے وقت غلطی کا حکم
Question
احرام کے دوران نیت کے الفاظ ادا کرنے میں غلطی کا کیا حکم ہے؟ میں نے حج کا احرام باندھا اور یہ نیت کی کہ میں حجِ افراد کروں گا، لیکن میری زبان سے غلطی ہو گئی اور میں نے کہا: "لبیک حجۃ و عمرۃ"۔ کیا اب مجھ پر حجِ قران کے مطابق مناسک ادا کرنا لازم ہےیا میں افراد ہی کی نیت پر باقی رہوں؟
Answer
الحمد لله والصلاة والسلام على سيدنا رسول الله وعلى آله وصحبه ومن والاه، وبعد؛ جو شخص حج کا احرام باندھے اور حجِ افراد کی نیت کرے، لیکن نیت کے الفاظ ادا کرتے وقت غلطی سے کہہ دے: "لبیک حجۃ و عمرۃ"، تو وہ اپنی اصل نیت کے مطابق یعنی حجِ افراد ہی شمار ہوگا، اور اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے حج کو حجِ افراد کی نیت ہی کے مطابق مکمل کرے۔
نیت عبادات کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ہے
نیت تمام عبادات میں شرعاً ضروری ہے، جیسا کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إِلَى دُنْيَا يُصِيبُهَا، أَوْ إِلَى امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا، فَهِجْرَتُهُ إِلَى مَا هَاجَرَ إِلَيْهِ» ترجمہ: “اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ پس جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے کے لیے ہو یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہو، تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف شمار ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔”(اسے بخاری اور مسلم نے روایت کیا ہے)۔
پس اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعمال کا ثواب اور جزا نیت پر موقوف ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے "شرح صحیح مسلم" میں فرمایا: لفظ "إنما" حصر کے لیے آتا ہے، یعنی یہ حکم کو خاص کر دیتا ہے اور اس کے غیر کی نفی کرتا ہے۔ لہٰذا حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اعمال کا اعتبار نیت کے ساتھ ہے، اور نیت کے بغیر اعمال معتبر نہیں ہوتے۔ اس میں اس بات کی دلیل بھی ہے کہ طہارت یعنی وضو، غسل اور تیمم بھی نیت کے بغیر صحیح نہیں ہوتے، اسی طرح نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج، اعتکاف اور تمام عبادات نیت کے بغیر درست نہیں ہوتیں۔
اور نیت سے مراد یہ ہے کہ انسان اپنے دل سے کسی کام کے کرنے کا ارادہ کرے، جیسا کہ امام شهاب الدین القرافي المالکی رحمہ اللہ نے "الذخیرہ" میں فرمایا ہے۔
احرام کا مفہوم، اس کا حکم اور اس کی اقسام کا بیان
شرعاً یہ بات مسلم ہے کہ حج کے اعمال میں سب سے پہلا عمل احرام ہوتا ہے، اور اس سے مراد نُسک (حج یا عمرہ) میں داخل ہونے کی نیت ہے۔ احرام حج کے ارکان میں سے ایک رکن ہے۔ یہ بات بھی معلوم ہے کہ حج کی تین اقسام ہیں: افراد، قران اور تمتع۔([1])
افراد یہ ہے کہ ایک سفر میں صرف حج کے اعمال ادا کیے جائیں، پھر اگر چاہے تو حج کے بعد عمرہ کرے، اور اس صورت میں وہ عمرہ کے لیے میقات سے یا حل کے کسی بھی مقام سے احرام باندھے گا۔
تمتع یہ ہے کہ عمرہ کو حج سے پہلے ادا کیا جائے اور دونوں کے درمیان احرام کھول دیا جائے، اور یہ سب ایک ہی سفر میں ہو۔
قِران یہ ہے کہ انسان ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ دونوں کا ایک ساتھ احرام باندھے، یا پہلے عمرے کا احرام باندھے پھر اس کے اعمال شروع کرنے سے پہلے اس میں حج کو داخل کر لے، پھر دونوں صورتوں میں حج کے اعمال ادا کرے۔
احرام میں نیت کا حکم
حاجی پر لازم ہے کہ وہ خواہ حجِ افراد کرنے والا ہو، حجِ قران کرنے والا ہو یا حجِ تمتع کرنے والا ہو، اس نُسک (حج یا عمرہ) کی نیت کرے جس کا وہ ارادہ رکھتا ہے۔ نیت کے بغیر انسان حج یا عمرہ میں داخل شمار نہیں ہوتا۔ نیت کا محل دل ہے، اور زبان سے نیت کے الفاظ ادا کرنا مستحب ہے۔ اسی طرح احرام کی نیت کے ساتھ تلبیہ کہنا بھی سنت ہے، تاکہ ان اہلِ علم کے اختلاف سے بچا جا سکے جنہوں نے اسے واجب قرار دیا ہے۔([2])
احرام میں نیت کے الفاظ ادا کرتے وقت غلطی کا حکم
اگر محرم نیت ادا کرتے وقت غیر ارادی طور پر غلطی کر جائے، مثلاً عمرہ کی نیت کرے لیکن زبان سے حج کہہ دے، یا افراد کی نیت کرے لیکن تمتع کے الفاظ ادا کر دے، تو اس پر وہی لازم ہوگا جس کی اس نے دل سے نیت کی تھی، نہ کہ وہ جو زبان سے ادا ہوا ہو۔ کیونکہ اعتبار نیت کا ہوتا ہے، نہ کہ زبان کے اس لفظ کا جو غلطی سے نکلا ہو۔([3])
اس کی دلیل حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنَّ اللَّهَ قَدْ تَجَاوَزَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ» ترجمہ:“بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطا، بھول چوک، اور جس کام پر انہیں مجبور کیا جائے، اسے معاف فرما دیا ہے۔” (اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے)۔
اور امام ابن منذر رحمہ اللہ نے "الإجماع" میں اس مسئلے پر اجماع نقل کیا ہے کہ اگر کوئی شخص حج کا ارادہ کرے لیکن عمرہ کا احرام باندھ لے، یا عمرہ کا ارادہ کرے لیکن حج کی تلبیہ کہہ دے، تو لازم وہی ہوگا جس کی اس نے دل میں نیت کی تھی، نہ کہ وہ جو اس کی زبان سے صادر ہوا۔
خلاصہ
اس بنا پر اور سوال کی صورتِ حال کے مطابق: جو شخص حج کا احرام باندھے اور حجِ افراد کی نیت کرے، لیکن نیت کے الفاظ ادا کرتے وقت غلطی سے کہہ دے: "لبیک حجۃ و عمرۃ"، تو وہ اپنی اصل نیت کے مطابق یعنی حجِ افراد ہی شمار ہوگا، اور اس کی زبان سے نکلنے والے الفاظ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے حج کو حجِ افراد کی نیت ہی کے مطابق مکمل کرے۔
والله سبحانه وتعالى أعلم.
[1] حاشیہ: امام موصلی حنفی رحمہ اللہ، "الاختیار لتعلیل المختار" (1/158-160، مطبوعہ: الحلبی)؛ امام شهاب الدین ابن عسكر مالکی رحمہ اللہ، "إرشاد السالك" (1/43، مطبوعہ: الحلبی)؛ امام خطیب شربینی شافعی رحمہ اللہ، "الإقناع" (1/258، مطبوعہ: دار الفكر)؛ اور امام علاء الدین مرداوی حنبلی رحمہ اللہ، "الإنصاف" (3/450، مطبوعہ: دار إحياء التراث العربي)۔
[2] رد المحتار" للإمام ابن عابدين (2/ 482)، و"حاشية الدسوقي على الشرح الكبير" للإمام الدسوقي (2/ 21، ط. دار الفكر)، و"حاشية الجمل" للعلامة سليمان الجمل (2/ 412، ط. دار الفكر)، و"كشاف القناع" للإمام منصور البُهوتي (2/ 408، ط. دار عالم الكتب).
[3] امام ابن مازہ بخاری حنفی رحمہ اللہ، "المحيط البرهاني في الفقه النعماني" (2/421)، امام حطاب رعینی مالکی رحمہ اللہ، "مواهب الجليل" (3/44)، امام خطیب شربینی شافعی رحمہ اللہ، "مغني المحتاج" (2/233)، امام حجاوی حنبلی رحمہ اللہ، "الإقناع" (1/349)
Arabic
Englsh
French
Deutsch
Pashto
Swahili
Hausa
